مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
274. الراهن يرهن العبد فيعتقه
کوئی شخص غلام کو رہن رکھوا کر پھر اُس کو آزاد کر دے
ترقیم عوامۃ: 22533 ترقیم الشثری: -- 23512
٢٣٥١٢ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا إسرائيل عن مغيرة عن إبراهيم في رجل رهن عبدا (فاعتقه) (١) قال: عتق العبد جائز، ويتبع المرتهن الراهن.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (فاعتقهم).
حضرت ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر راہن غلام کو رہن رکھ کر پھر آزاد کر دے تو غلام آزاد ہوجائے گا اور مرتہن راہن کے پیچھے لگ جائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 23512]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23512، ترقيم محمد عوامة 22533)
ترقیم عوامۃ: 22534 ترقیم الشثری: -- 23513
٢٣٥١٣ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا يحيى بن آدم قال: سالت الحسن بن صالح وشريكا عن (الرجل) (١) يرهن عبده ثم يعتقه، قالا: عتقه جائز.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (رجل).
یحییٰ بن آدم کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حسن بن صالح اور حضرت شریک سے دریافت کیا کہ ایک شخص غلام رہن رکھوا کر پھر اس کو آزاد کر دے؟ آپ نے فرمایا اس کا آزاد کرنا جائز ہے، اور حضرت شریک فرماتے ہیں غلام مرتہن کے قرض کے لئے کوشش کرے گا، اور حضرت حسن فرماتے ہیں کہ مرتہن کے لئے کوشش غلام کے ذمہ نہیں ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 23513]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23513، ترقيم محمد عوامة 22534)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 23514
٢٣٥١٤ - وقال: شريك يسعى العبد (للمرتهن) (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (المرتهن).
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23514، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 23515
٢٣٥١٥ - وقال: الحسن بن صالح: ليس عليه سعاية.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23515، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: 22535 ترقیم الشثری: -- 23516
٢٣٥١٦ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن عبد الملك عن عطاء في رجل اشترى من رجل عبدا فلم يقبضه حتى اعتقه، قال: لا يجوز عتقه حتى (يقبضه) (١) او ينقده.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (تقبضه).
حضرت عطاء رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ اگر ایک شخص نے دوسرے سے غلام خریدا ہے پھر اس سے قبضہ کرنے سے قبل اس کو آزاد کردیا، آپ نے فرمایا کہ قبضہ کرنے سے پہلے اس کو آزاد کرنا درست نہیں ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 23516]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23516، ترقيم محمد عوامة 22535)
ترقیم عوامۃ: 22536 ترقیم الشثری: -- 23517
٢٣٥١٧ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع قال: سمعت سفيان يقول: إذا اعتق الرجل عبده خرج من الرهن، وإذا دبره خرج من (الرهن) (١) ، وإذا كانت امة فوطئها فجاءت بولد خرجت من الرهن، وإن كان السيد موسرا اتبع المرتهن السيد بالرهن، وإن كان معسرا سعى هؤلاء في الاقل من قيمتهم والرهن.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (رهن).
حضرت سفیان فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص غلام کو آزاد کر دے تو وہ رہن سے نکل جائے گا، اور اگر مدبر بنا دے تو بھی رہن سے نکل جائے گا، اور اگر باندی ہو اور اس سے ہمبستری کرلے اور اس کا بچہ ہوجائے تو وہ بھی رہن سے نکل جائے گی، اور پھر اگر آقا مال دار ہو تو مرتہن آقا کو پکڑے گا اور اگر آقا غریب ہو تو یہ لوگ (غلام اور باندی) قیمت اور رہن میں جس کی قیمت کم ہے اس کے لئے کوشش کریں گے، حضرت سفیان فرماتے ہیں کہ پھر اس غلام سے جتنی سعی کی ہے اس کا اپنے آقا سے رجوع کرے گا (یعنی اس سے اتنے پیسے یا قیمت وصول کرے گا) لیکن ام ولد اور مدبر آقا سے رجوع نہیں کریں گے کیونکہ ان کی خدمت آقا کے لئے ہوتی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 23517]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23517، ترقيم محمد عوامة 22536)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 23518
٢٣٥١٨ - وقال سفيان: يرجع (العبد) (١) بما سعى فيه على المولى إذا ايسر، وام الولد والمدبر لا يرجعان على مولاهما بشيء، لان خدمتهما للمولى.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ح، ط، هـ].
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23518، ترقيم محمد عوامة ---)