مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
360. القوم يختلفون في النقد
نقدی کے بارے میں اگر لوگ اختلاف کریں
ترقیم عوامۃ: 22912 ترقیم الشثری: -- 23927
٢٣٩٢٧ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا حفص عن اشعث عن ابن سيرين عن شريح انه كان يقول إذا اختلفوا في النقد: لك الجيد والحسن والطيب، فإن ذهب الاعلى (فاترك) (١) الاسفل.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (فأنزل).
حضرت شریح فرماتے ہیں کہ جب نقدی کے متعلق اختلاف ہو، تو تیرے لئے، جید، اچھا اور پاکیزہ ہے، اگر اعلیٰ چلا جائے تو اسفل کی طرف اتر (اُس کو چھوڑ دے)۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 23927]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23927، ترقيم محمد عوامة 22912)
ترقیم عوامۃ: 22913 ترقیم الشثری: -- 23928
٢٣٩٢٨ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن (ابي) (١) الجراح قال: حدثني موسى بن سالم قال: لما اجلى الحجاج اهل الارض اتتني امراة بكتاب زعمت (ان) (٢) الذي (اعتق) (٣) ابوها: هذا ما اشترى طلحة بن عبيد الله من فلان بن فلان، اشترى منه (فناءه) (٤) (دينارا او درهما) (٥) بخمسمائة درهم بالجيد (والطيب والحسن) (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ح، جـ]: (ابن).
(٢) في [ز]: (أنه).
(٣) في [أ، ح، جـ، ز]: (اعتق).
(٤) في [أ، هـ]: (فناه).
(٥) هذا اسمه وفي [أ، هـ]: (دينار أو درهم).
(٦) في [جـ]: (والحسن والطيب).
حضرت موسیٰ بن سالم رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ جب حجاج نے اہل الارض کو بری الذمہ کیا، میرے پاس ایک خاتون مکتوب لے کر آئی، اس کا خیال تھا کہ بیشک اس کے والد کو آزاد کیا گیا ہے۔ (کہنے لگی) یہ وہ ہے جس کو طلحہ بن عبید اللہ نے فلان بن فلان سے خریدا، اس نے ایک نوجوان سے دینار یا درہم کے بدلے میں خریدا پانچ سو درہم کے بدلے میں جو جید، عمدہ اور اچھے تھے، اور اس کو ثمن بھی دے دیا، اور اس کو اللہ کے لئے آزاد کردیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 23928]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23928، ترقيم محمد عوامة 22913)
ترقیم عوامۃ: 22914 ترقیم الشثری: -- 23929
٢٣٩٢٩ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابو خالد الاحمر عن (الحجاج) (١) عن عبد الرحمن بن عابس عن ابيه قال: اشترى حذيفة (من رجلين من النخع ناقة) (٢) [وشرط (لها) (٣) من النقد رضاهما] (٤) فجاء بهما (إلى) (٥) منزله فاخرج لهما (كيسا) (٦) (فافسلا) (٧) عليه (ثم اخرج لهما كيسا فافسلا عليه) (٨) فقال حذيفة: ⦗٣٧٣⦘ (إني بالله) (٩) منكما، إني سمعت رسول الله ﷺ يقول:"من شرط على صاحبه شرطا لم يف له، به كان كالمدلي (بجاره) (١٠) إلى غير (منعة) (١١) " (١٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، جـ، ح، ز، ط]: (حجاج).
(٢) سقط من: [ط].
(٣) في [أ، ز]: (لها).
(٤) زيادة في [أ، جـ، ز].
(٥) في [هـ]: (في).
(٦) في [هـ]: (كيسه).
(٧) في [هـ]: (فانكرا).
(٨) سقط من [أ، ح، ط، هـ].
(٩) في [هـ]: (إي واللَّه).
(١٠) في [أ، ب، هـ]: (تجارة)، وفي [ط]: (جاره).
(١١) في [أ، ب، هـ]: (متعة)، وفي [ز]: (منفعة).
(١٢) منقطع حكمًا؛ الحجاج مدلس، أخرجه أحمد (٢٣٤٣٨)، والحارث كما إتحاف الخيرة (٣٧٩٨)، وبغية الباحث (٤٥٠)، وانظر: المطالب العالية (١٣٩٦).
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے مقام نخع کے دو شخصوں سے اونٹنی خریدی، اور شرط لگا دی کہ جس پر وہ دونوں راضی ہوں گے وہ نقدی دی گے، پھر وہ ان دونوں کو اپنے مکان پر لائے، اور ان کے لیے ایک تھیلی نکالی، انہوں نے کہا یہ کھوٹے ہیں، انہوں نے پھر ایک اور تھیلی نکالی، انہوں نے پھر کہا یہ کھوٹے ہیں، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: خدا کی قسم میں بھی تم میں سے ہوں، میں نے خود رسول اکرم 5 کو یہ فرماتے سنا ہے کہ، جو شخص اپنے ساتھی پر شرط لگائے وہ اس کو اس کے لئے پورا نہ کرے، تو وہ گویا کہ ایسے مقام پر ہے کہ اس کا پڑوسی تکلیف میں ہے وہ اس کو اس سے نہیں روکتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 23929]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23929، ترقيم محمد عوامة 22914)