مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
439. من قال: إذا كان الرهن عند المرتهن فهو أحق (به) من سائر الغرماء
رہن جب مرتہن کے پاس ہو تو پھر وہ باقی قرض خواہوں سے زیادہ حق دار ہے
ترقیم عوامۃ: 23384 ترقیم الشثری: -- 24426
٢٤٤٢٦ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن جابر عن عامر قال: إذا قبض المرتهن الرهن ثم مات الراهن وعليه دين، فهو احق به من الغرماء حتى يستوفي.
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ جب مرتہن رہن پر قبضہ کرلے، پھر راہن فوت ہوجائے اور اس پر قرضہ ہو تو وہ باقی قرض خواہوں سے زیادہ حق دار ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 24426]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24426، ترقيم محمد عوامة 23384)
ترقیم عوامۃ: 23385 ترقیم الشثری: -- 24427
٢٤٤٢٧ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا إسرائيل عن جابر عن عطاء وسالم وعامر قالوا: إذا مات الراهن وعليه دين، فالمرتهن احق به من الغرماء حتى يستوفي.
حضرت عطاء، حضرت سالم اور حضرت عامر سے اسی طرح مروی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 24427]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24427، ترقيم محمد عوامة 23385)
ترقیم عوامۃ: 23386 ترقیم الشثری: -- 24428
٢٤٤٢٨ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن الحسن عن مطرف عن الحكم في الرجل يرهن الرهن ثم يموت صاحبه ولا يدع مالا غير الرهن، وعليه دين سوى (دين) (١) صاحب الرهن، قال: المرتهن احق بالرهن من غرماء الميت.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ].
حضرت حکم سے دریافت کیا گیا کسی شخص نے رہن رکھوایا پھر وہ فوت ہوگیا، اور رہن کے علاوہ کوئی اور مال نہیں چھوڑا، اور اس پر رہن کے علاوہ بھی قرضہ ہے؟ آپ نے فرمایا: میت کے قرض خواہوں میں سے رہن کا زیادہ حق دار مرتہن ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 24428]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24428، ترقيم محمد عوامة 23386)
ترقیم عوامۃ: 23387 ترقیم الشثری: -- 24429
٢٤٤٢٩ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن هشام عن الحسن قال: إن الرهن المقبوض إذا مات صاحبه او افلس فالذي (هو في يده) (١) احق به، فإن لم يكن مقبوضا فهو بين الغرماء.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) تكرر في: [ز].
حضرت حسن فرماتے ہیں کہ اگر رہن پر قبضہ ہو اور اس کا مالک فوت ہوجائے یا مفلس ہوجائے تو جس کا قبضہ ہے وہ زیادہ اس کا حق دار ہے اور اگر قبضہ نہ ہو تو وہ قرض خواہوں میں تقسیم ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 24429]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24429، ترقيم محمد عوامة 23387)