مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
445. ما لا يحله (قضاء) القاضي
قاضی کے فیصلہ سے کیا چیز حلال نہیں ہوتی
ترقیم عوامۃ: 23427 ترقیم الشثری: -- 24473
٢٤٤٧٣ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا هشام بن عروة عن ابيه عن زينب بنت ام سلمة (عن ام سلمة) (١) قالت: قال رسول الله ﷺ:"إنكم تختصمون إلي، وإنما انا بشر، ولعل بعضكم ان يكون الحن بحجته من بعض، وإنما اقضي بينكم على نحو مما اسمع منكم، فمن قضيت له من حق اخيه بشيء فلا ياخذه، فإنما اقطع له قطعة من النار ياتي بها يوم القيامة" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ز].
(٢) صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٦٨٠)، ومسلم (٧١٣).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگ اپنا جھگڑا لے کر میرے پاس آتے ہو، جبکہ میں بھی تمہاری طرح انسان ہوں، شاید کہ تم میں سے بعض لوگ بعض پر دلائل میں سبقت لے جائیں، اور میں تو تمہارے درمیان اسی کے مطابق فیصلہ کروں گا جو تم سے سنوں گا، پس جس کے لئے میں اس کے بھائی کے حق میں سے کچھ بھی فیصلہ کر دوں وہ اس کو نہ لے، بیشک وہ تو آگ کا ایک ٹکڑا ہے۔ جو قیامت کے دن اس کے ساتھ آئے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 24473]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24473، ترقيم محمد عوامة 23427)
ترقیم عوامۃ: 23428 ترقیم الشثری: -- 24474
٢٤٤٧٤ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا اسامة بن زيد الليثي عن عبد الله بن رافع مولى (ام) (١) سلمة (عن ام سلمة) (٢) قالت: جاء رجلان من الانصار إلى النبي ﷺ يختصمان في مواريث بينهما قد درست، ليس (بينهما) (٣) بينة، فقال رسول الله ﷺ:"إنكم تختصمون إلي، وإنما انا بشر، ولعل بعضكم ان يكون الحن بحجته من بعض، وإنما اقضي بينكم على نحو مما اسمع منكم، فمن قضيت له من حق اخيه بشيء فلا ياخذه، فإنما اقطع له (به) (٤) قطعة من النار، ياتي بها [ (إسطاما) (٥) في عنقه، (٦) يوم القيامة"، (قالت) (٧) : فبكى الرجلان وقال كل ⦗٥١١⦘ (واحد) (٨) (منهما) (٩) : حقي لاخي، فقال رسول الله ﷺ:"اما إذا فعلتما فاذهبا واقتسما (وتوخيا) (١٠) الحق ثم (استهما ثم) (١١) (ليحلل) (١٢) كل واحد منكما صاحبه" (١٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ز]: (أبي).
(٢) سقط من: [ط].
(٣) في [هـ]: (لهما).
(٤) سقط من: [جـ، ز].
(٥) في [أ، ح، ط]: (إسطام)، وهي حديدة تحرك بها النار والجمر.
(٦) سقط من: [ز].
(٧) في [جـ]: (قال).
(٨) زيادة في [جـ، ز].
(٩) سقط من: [جـ].
(١٠) في [ط]: (وتراضيا).
(١١) سقط من [هـ، ح].
(١٢) في [ز]: (اقتسما).
(١٣) حسن؛ أسامة بن زيد صدوق، أخرجه أحمد (٢٦٧١٧)، وأبو داود (٣٥٨٤)، وأبو يعلى (٦٨٩٧)، والطحاوي (٤/ ١٥٥)، والحاكم (٤/ ٩٥)، والدراقطني (٤/ ٢٣٨)، والبيهقي (٦/ ٦٦)، والبغوي (٢٥٠٨)، وابن الجارود (١٠٠٠)، والطبراني (٢٣/ ٦٦٣)، وإسحاق (١٨٢٣)، وابن عبد البر في التمهيد (٢/ ٢٢٢).
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انصار کے دو شخص میراث کے متعلق جھگڑتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، ان کے پاس گواہ نہ تھے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگ اپنا جھگڑا لے کر میرے پاس آتے ہو میں بھی تمہاری طرح ایک انسان ہوں، شاید کہ تم میں سے بعض بعض پر حجت و دلیل میں غالب آجائے، میں تو تمہارے درمیان اسی کے مطابق فیصلہ کرتا ہوں جو سنتا ہوں، پس جس کے لئے اس کے بھائی کے حق میں سے فیصلہ جائے تو اس کو چاہیئے کہ وہ وصول نہ کرے، بیشک وہ تو آگ کا ایک ٹکڑا ہے، جو قیامت کے دن اس کی گردن میں آگ کا کڑا ہوگا، حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ یہ سن کر وہ دونوں رونے لگے، اور ہر ایک دوسرے سے کہنے لگا کہ میرا حق میرے بھائی کے لئے ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم یہ کرچکے تو اب تم دونوں جاؤ اور آپس میں تقسیم کرلو، اور حق کا ارادہ کرو اور پھر آپس میں قرعہ ڈال لو، پھر چاہیئے کہ تم میں سے ہر ایک اپنا حصہ اپنے بھائی کے لئے حلال کر دے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 24474]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24474، ترقيم محمد عوامة 23428)
ترقیم عوامۃ: 23429 ترقیم الشثری: -- 24475
٢٤٤٧٥ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا محمد بن بشر (العبدي) (١) قال: حدثنا (محمد) (٢) ابن عمرو قال: حدثنا ابو سلمة عن ابي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"إنما انا بشر، ولعل بعضكم ان يكون الحن بحجته من بعض، فمن قطعت له من حق اخيه (٣) فإنما اقطع له قطعة من النار" (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ط، هـ]: (الغنوي).
(٢) في [جـ]: زيادة (محمد) مرتين.
(٣) في [هـ]: زيادة (قطعة).
(٤) حسن؛ محمد بن عمرو صدوق، أخرجه أحمد (٨٣٩٤)، وابن ماجه (٢٣١٨)، وابن حبان (٥٠٧١)، والطحاوي (٤/ ١٥٤)، وأبو يعلى (٥٩٢٠).
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں بھی تمہاری طرح انسان ہوں، شاید تم میں سے بعض، بعض پر حجت و دلیل میں غالب آجائے، پس جو اپنے بھائی کا ایک ٹکڑا بھی لے گا تو وہ قیامت کے دن آگ کا ٹکڑا ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 24475]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24475، ترقيم محمد عوامة 23429)
ترقیم عوامۃ: 23430 ترقیم الشثری: -- 24476
٢٤٤٧٦ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا ابن عون عن إبراهيم عن شريح انه كان يقول للخصوم: سيعلم الظالمون حق من (نقصوا) (١) ، إن الظالم ⦗٥١٢⦘ ينتظر (٢) العقاب، وإن المظلوم ينتظر النصر.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (يقضو)، وفي [أ، ح، ز]: (نقضوا)، وكذلك في [جـ].
(٢) في [أ، ح، ط]: زيادة (حق).
حضرت شریح جھگڑنے والوں سے فرما رہے تھے کہ: عنقریب ظالم حق کو جان لیں گے جو انہوں نے کم کیا ہے، بیشک ظالم عقاب اور مظلوم مدد کا منتظر ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 24476]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24476، ترقيم محمد عوامة 23430)
ترقیم عوامۃ: 23431 ترقیم الشثری: -- 24477
٢٤٤٧٧ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن ابي زائدة عن عوف عن محمد قال: كان شريح مما يقول للخصم: يا عبد الله! والله إني لاقضي لك وإني لاظنك ظالما، و (لكن) (١) لست اقضي بالظن، ولكن اقضي بما احضرني (من بينتك) (٢) وإن قضائي لا يحل لك ما حرم (عليك) (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ، س]: (لكني).
(٢) سقط من [أ، هـ، ح، ط].
(٣) نقص في [جـ].
حضرت محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت شریح خصم سے فرماتے، اے عبد اللہ! خدا کی قسم میں نے تیرے حق میں فیصلہ کیا ہے، اور میرا خیال ہے کہ تو ظالم ہے لیکن میں اپنے ظن اور خیال پر فیصلہ نہیں کرتا، میں تو ان گواہوں پر فیصلہ کرتا ہوں جو تو نے پیش کئے، بیشک میرے فیصلہ کرنے سے جو چیز تیرے لئے حرام ہے وہ حلال نہ ہوگی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 24477]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24477، ترقيم محمد عوامة 23431)