🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
445. ما لا يحله (قضاء) القاضي
قاضی کے فیصلہ سے کیا چیز حلال نہیں ہوتی
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 23428 ترقیم الشثری: -- 24474
٢٤٤٧٤ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا اسامة بن زيد الليثي عن عبد الله بن رافع مولى (ام) (١) سلمة (عن ام سلمة) (٢) قالت: جاء رجلان من الانصار إلى النبي ﷺ يختصمان في مواريث بينهما قد درست، ليس (بينهما) (٣) بينة، فقال رسول الله ﷺ:"إنكم تختصمون إلي، وإنما انا بشر، ولعل بعضكم ان يكون الحن بحجته من بعض، وإنما اقضي بينكم على نحو مما اسمع منكم، فمن قضيت له من حق اخيه بشيء فلا ياخذه، فإنما اقطع له (به) (٤) قطعة من النار، ياتي بها [ (إسطاما) (٥) في عنقه، (٦) يوم القيامة"، (قالت) (٧) : فبكى الرجلان وقال كل ⦗٥١١⦘ (واحد) (٨) (منهما) (٩) : حقي لاخي، فقال رسول الله ﷺ:"اما إذا فعلتما فاذهبا واقتسما (وتوخيا) (١٠) الحق ثم (استهما ثم) (١١) (ليحلل) (١٢) كل واحد منكما صاحبه" (١٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ز]: (أبي).
(٢) سقط من: [ط].
(٣) في [هـ]: (لهما).
(٤) سقط من: [جـ، ز].
(٥) في [أ، ح، ط]: (إسطام)، وهي حديدة تحرك بها النار والجمر.
(٦) سقط من: [ز].
(٧) في [جـ]: (قال).
(٨) زيادة في [جـ، ز].
(٩) سقط من: [جـ].
(١٠) في [ط]: (وتراضيا).
(١١) سقط من [هـ، ح].
(١٢) في [ز]: (اقتسما).
(١٣) حسن؛ أسامة بن زيد صدوق، أخرجه أحمد (٢٦٧١٧)، وأبو داود (٣٥٨٤)، وأبو يعلى (٦٨٩٧)، والطحاوي (٤/ ١٥٥)، والحاكم (٤/ ٩٥)، والدراقطني (٤/ ٢٣٨)، والبيهقي (٦/ ٦٦)، والبغوي (٢٥٠٨)، وابن الجارود (١٠٠٠)، والطبراني (٢٣/ ٦٦٣)، وإسحاق (١٨٢٣)، وابن عبد البر في التمهيد (٢/ ٢٢٢).

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انصار کے دو شخص میراث کے متعلق جھگڑتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، ان کے پاس گواہ نہ تھے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگ اپنا جھگڑا لے کر میرے پاس آتے ہو میں بھی تمہاری طرح ایک انسان ہوں، شاید کہ تم میں سے بعض بعض پر حجت و دلیل میں غالب آجائے، میں تو تمہارے درمیان اسی کے مطابق فیصلہ کرتا ہوں جو سنتا ہوں، پس جس کے لئے اس کے بھائی کے حق میں سے فیصلہ جائے تو اس کو چاہیئے کہ وہ وصول نہ کرے، بیشک وہ تو آگ کا ایک ٹکڑا ہے، جو قیامت کے دن اس کی گردن میں آگ کا کڑا ہوگا، حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ یہ سن کر وہ دونوں رونے لگے، اور ہر ایک دوسرے سے کہنے لگا کہ میرا حق میرے بھائی کے لئے ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم یہ کرچکے تو اب تم دونوں جاؤ اور آپس میں تقسیم کرلو، اور حق کا ارادہ کرو اور پھر آپس میں قرعہ ڈال لو، پھر چاہیئے کہ تم میں سے ہر ایک اپنا حصہ اپنے بھائی کے لئے حلال کر دے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 24474]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24474، ترقيم محمد عوامة 23428)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 24474 in Urdu