مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
456. فيما لا ينبغي للشاهد أن يتكلم به
جس کے متعلق کلام کرنا گواہ کے لئے مناسب نہیں
ترقیم عوامۃ: 23478 ترقیم الشثری: -- 24527
٢٤٥٢٧ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا الاعمش عن عمارة بن عمير قال: شهد رجلان عند شريح لرجل على شيء -قال الاعمش: اراه قال: على بغل- فقالا: (نشهد ان) (١) هذا اشتراه من هذا، قال احد الشاهدين: (و) (٢) : اشهد انه فاجر، فقال شريح: وما يدريك انه فاجر؟ قم، لا شهادة لك.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ، ح]: (تشهدان).
(٢) في [أ، هـ]: (قال).
حضرت عمارۃ سے مروی ہے کہ حضرت شریح کے قاضی شریح کے پاس دو آدمیوں نے کسی شخص کے بارے میں کسی معاملے میں گواہی دی۔ اعمش فرماتے ہیں کہ میرا خیال ہے وہ گواہی گدھے کے بارے میں تھی۔ گواہوں نے کہا کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ اس نے یہ گدھا فلاں سے خریدا ہے۔ پھر ان میں سیایک گواہ نے کہا کہ میں گواہی دیتا کہ یہ فاجر شخص ہے۔ شریح نے فرمایا کہ تجھے کیسے پتہ ہے کہ یہ فاجر ہے کھڑا ہوجا تیری گواہی قبول نہیں ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 24527]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24527، ترقيم محمد عوامة 23478)
ترقیم عوامۃ: 23479 ترقیم الشثری: -- 24528
٢٤٥٢٨ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا (حسن) (١) بن صالح عن الجعد بن ذكوان قال: تقدم رجل إلى شريح، قال: فدعا بشاهد له فقال: (اين) (٢) ربيعة (الكويفر) (٣) فجاء فقال شريح: اقررت (بكويفر) (٤) ، فرد شهادته.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح، ط، ز، جـ]: (حسين).
(٢) في [أ، ح، ط، جـ]: (ابن).
(٣) في [أ، ح، ط]: (الكومر)، وفي [ز]: (الكوفير).
(٤) في [هـ]: (بكفرك).
حضرت جعد بن ذکوان سے مروی ہے کہ ایک شخص حضرت شریح کے پاس حاضر ہوا، اور حضرت شریح نے اس کے گواہ کو بلایا، اس نے کہا چھوٹا کافر ربیعہ کہاں ہے؟ حضرت شریح نے دریافت فرمایا کہ کیا تو کو یفر (چھوٹے کافر) کے ساتھ اس کو پختہ کرتا ہے، پھر اس کی گواہی کو رد فرما دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 24528]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24528، ترقيم محمد عوامة 23479)
ترقیم عوامۃ: 23480 ترقیم الشثری: -- 24529
٢٤٥٢٩ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان: لو شهد رجلان على رجل انه طلق امراته ثم رجعا عن شهادتهما، قال: الطلاق باق، إن لم يكن ⦗٥٣١⦘ (دخل) (١) بها (رجع) (٢) الزوج (عليهما) (٣) بنصف الصداق، وإن كان قد دخل بها فلا شيء عليهما -يعني من الصداق.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ، ط]: (دخله).
(٢) في [هـ، أ]: (دخل).
(٣) في [ط، ز]: (عليها).
حضرت سفیان سے مروی ہے کہ اگر دو شخص کسی شخص کے خلاف اس بات کی گواہی دیں کہ اس نے بیوی کو طلاق دی ہے، پھر ان دونوں نے اپنی گواہی سے رجوع کردیا، فرمایا: اگر تو زوج نے دخول نہیں کیا تھا تو طلاق قائم رہے گی اور زوج ان گواہوں سے نصف مہر کا رجوع کرے گا اور اگر زوج دخول کرچکا تھا تو پھر گواہوں پر کوئی چیز ادا کرنا لازم نہ ہوگی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 24529]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24529، ترقيم محمد عوامة 23480)