مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
516. في القوم يكونون في الدار حينا فيجيء أناس يدعونها
کچھ لوگ ایک زمانے تک مکان میں رہائش پذیر رہے، پھر کچھ لوگ آئے اور اُس مکان پر دعویٰ کر دیں کہ وہ اُن کا ہے
ترقیم عوامۃ: 23599 ترقیم الشثری: -- 24665
٢٤٦٦٥ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة قال: سالت حمادا عن الرجل يكون في الدار حينا فيجيء اناس فيقيمون البينة انها كانت لجدهم، قال: لا، حتى (يشهدوا) (١) انها له اليوم.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح، ز، ط]: (يشهدون).
حضرت شعبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حماد سے دریافت کیا کہ ایک شخص کچھ عرصہ ایک مکان میں رہا، پھر کچھ لوگ آئے اور گواہ اس بات پر پیش کر دئیے کہ یہ گھر ان کے آباؤ اجداد کا ہے؟ فرمایا کہ نہیں جب تک کہ وہ اس پر گواہ پیش نہیں کردیں گے وہ گھر آج بھی انہی کا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 24665]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24665، ترقيم محمد عوامة 23599)
ترقیم عوامۃ: 23600 ترقیم الشثری: -- 24666
٢٤٦٦٦ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن الحارث (قال) (١) : إذا كانت الدار (خطة) (٢) ، فاراد القوم (٣) ان يقتسموها، فإنها تقسم على الميراث: ميراث الميت صاحب (الخطة) (٤) ، (فإن) (٥) ادعى إنسان من الورثة او غيرهم دعوى فوق ما يصيبه من الميراث فعليه البينة فيما ادعى: ان فلانا او انه تصدق عليه او ⦗١٦⦘ وهب لي او باعني بكذا وكذا، (فإن) (٦) (طلبت) (٧) امراة او زوج كان لبعض بني الميت (فإنه) (٨) يكلف البينة على ان فلانا ورث فلانا، او فلانة (ورثت) (٩) فلانا، او مات صاحب الخطة قبلها او هي قبلة فورثته، فإنه ياخذ بحقه، وإن كان رجل من ولد صاحب (الخطة) (١٠) يدعي فيها، وينكر الذين في ايديهم نصيبه، فعلى المدعي البينة ان فلانا مات قبل فلان، (وورثه فلان) (١١) ، وورثته انا بعد، وإذا اقر الورثة انه قد (كان) (١٢) لصاحب (الدار) (١٣) امراة، وادعى اهلها نصيبها، فهو ثابت عليهم، وإن قالوا: قد (كان) (١٤) طلقها قبل الموت فالبينة عليهم انه قد كان طلقها، وإلا فقد وجب الميراث لها، وإذا كانت الدار (شراء) (١٥) وهي في يد قوم (فهي) (١٦) (للذي) (١٧) في ايديهم، فإن (ادعاه) (١٨) إنسان (فيها) (١٩) فعليه البينة ان له فيها حقا.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ط].
(٢) في [أ، ح، ط]: (حطه).
(٣) في [ز]: زيادة (القوم القوم).
(٤) في [أ، ح، ط]: (الحطة).
(٥) في [هـ]: (فإذا).
(٦) في [جـ، ز]: (وإن).
(٧) في [ز]: (طلب).
(٨) في [هـ]: (كأنه).
(٩) في [ط]: (ورث)، وفي [أ، ح]: (ورثة).
(١٠) في [أ، ح، ط]: (الحطة).
(١١) سقط من: [جـ].
(١٢) في [ز، جـ]: (كانت).
(١٣) سقط من: [جـ].
(١٤) سقط من: [ط].
(١٥) في [جـ، ز]: (شرا).
(١٦) سقط من: [ط].
(١٧) في [ط]: (الذي).
(١٨) في [أ، ح]: (ادعا)، وفي [جـ، ز]: (ادعى).
(١٩) سقط من: [جـ].
حضرت حارث سے مرو ی ہے کہ جب گھر ایک آدمی کا ہو اور لوگ اس کو تقسیم کرنا چاہیں تو وہ اسی طرح تقسیم ہوگی کہ جس طرح میت کی میراث تقسیم ہوتی ہے۔ اگر کوئی اپنے لیے زیادہ حصہ کا دعویٰ کرے تو اس گواہ لانے ضروری ہوں گے کہ فلاں نے اس کو صدقہ یا ھبہ کیا ہے یا فلاں نے مجھے بیچا ہے۔ پھر قوم کے لوگ اس کو تقسیم کرنا چاہیں، بیشک وہ میت کی وراثت سے صاحب الخطۃ کے لئے میراث پر تقسیم کیا جائے گا، پھر اگر کوئی شخص دعویٰ کر دے ورثاء میں سے یا ان کے علاوہ میراث میں سے جو حصہ ملا ہے اس سے زیادہ کا تو اس پر گواہ ہیں جس کا وہ دعویٰ کر رہا ہے کہ فلان نے اس پر صدقہ کیا ہے یا میرے لئے ہبہ کیا گیا ہے یا مجھے اتنے میں فروخت کیا گیا ہے۔ اور اگر میت کے بیٹوں میں سے بعض کا جو حصہ تھا اس کو بیوی یا شوہر طلب کرے تو ان گواہی کا مکلف بنایا جائے گا کہ فلاں شخص فلاں کا وارث بنا ہے یا فلاں خاتون فلاں کی وارث بنی ہے، یا صاحب الخطۃ اس سے قبل فوت ہوگیا تھا۔ خاتون اس سے قبل تو پھر یہ خاتون وارث ہوگی اور اپنا حصہ وصول کرے گی اور اگر صاحب الخطۃ کا کوئی بیٹا اس میں دعویٰ کر دے اور جو ان لوگوں کے قبضہ میں جو حصے ہیں ان کا انکار کر دے تو پھر مدعی کے ذمہ اس بات پر گواہی ہے کہ فلان فلان سے پہلے فوت ہوگیا تھا اور فلان وارث بن گیا تھا، اور اس کے بعد میں وارث بن گیا ہوں۔ اور اگر ورثاء اس بات کا اقرار کرلیں کہ گھر والی کی بیوی ہے اور دعویٰ کرے اس کے گھر والوں پر اس خاتون کے حصہ کا، تو پھر وہ ان پر ثابت ہوگا، اور اگر وہ یوں کہیں کہ اس نے موت سے قبل اس کو طلاق دے دی تھی تو پھر ان پر گواہ ہیں اس بات پر کہ وہ اس کو طلاق دے چکا ہے، وگرنہ اس کے لئے میراث لازم ہوجائے گی، اور اگر گھر خریدا ہوا ہو اور وہ کچھ لوگوں کے قبضہ میں ہو تو وہ انہی کا ہوگا جن کے قبضہ میں وہ ہے، اور اگر کوئی شخص اس میں دعویٰ کر دے تو پھر اس کے ذمہ اس بات پر گواہی لازم ہے کہ اس کا اس میں حق ہے، [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 24666]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24666، ترقيم محمد عوامة 23600)
ترقیم عوامۃ: 23601 ترقیم الشثری: -- 24667
٢٤٦٦٧ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا شريك عن جابر عن عامر قال: (ما) (١) احدثوا شيئا اعجب إلي من قولهم: يشهد انها له اليوم.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (مما).
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ لوگوں کی یہ بات مجھے سب سے عجیب لگتی جب وہ یوں کہتے ہیں کہ فلاں نے آج ہی یہ گواہی دی ہے کہ یہ مال فلاں کا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 24667]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24667، ترقيم محمد عوامة 23601)