مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
638. الرجل يصرف الدنانير
دیناروں کو تبدیل کرنا
ترقیم عوامۃ: 23865 ترقیم الشثری: -- 24943
٢٤٩٤٣ - (حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن رجل عن الحسن في ⦗٩٧⦘ الرجل يصرف الدنانير) (١) فيعطى (الدرهم) (٢) الزيف. قال: لا باس ان (يستبدله) (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط ما بين المعكوفين من: [أ، ح، ط، هـ]: وفي [هـ]: جعل بقية الأثر ضمن عنوان الباب.
(٢) في [ز]: (الدراهم).
(٣) في [ط]: (يستدله).
حضرت حسن رحمہ اللہ سے دریافت کیا گیا کہ کوئی شخص دینار میں بیع صرف کرتا ہے اور کھوٹے درہم دیتا ہے۔ انہوں نے جواب دیا کہ اگر وہ تبدیل کرتا ہے تو کوئی حرج نہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 24943]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24943، ترقيم محمد عوامة 23865)
ترقیم عوامۃ: 23866 ترقیم الشثری: -- 24944
٢٤٩٤٤ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع قال: وقال سفيان: إن كان (ستوقا) (١) رده، ويكون شريكا في الدنانير بحصته.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) الستوق: المغشوش، وفي [ز]: (زيوف).
حضرت سفیان فرماتے ہیں کہ اگر وہ کھوٹے ہیں تو واپس کردیا جائے گا، اور وہ اس دیناروں میں اپنے حصہ میں شریک ہوں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 24944]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24944، ترقيم محمد عوامة 23866)
ترقیم عوامۃ: 23867 ترقیم الشثری: -- 24945
٢٤٩٤٥ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع قال: سمعت سفيان يقول: لو ان رجلا جاء إلى صيرفي بدينار فصرفه عنده بعشرة دراهم (فقبض) (١) الدينار، وليس عند الصيرفي (درهم) (٢) ، قال: إن احتالها له قبل ان (يفترقا) (٣) فإن البيع جائز، لان كل واحد منهما (ضمن) (٤) لصاحبه، ولو كان عرضا فسد البيع.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ز]: (وقبض).
(٢) في [ز]: (دراهم).
(٣) في [ط]: (يفترقان)، وفي [ز]: (يتفرقا).
(٤) في [أ، ب، هـ]: (ثمن).
حضرت سفیان فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص زرگر کے پاس دینار لے کر آئے اور اس کے پاس درہم کے ساتھ تبدیل کرے، اور وہ دینار پر قبضہ کرلے اور زرگر کے پاس دراہم نہ ہوں؟ فرمایا: اگر انہوں نے جدا ہونے سے پہلے اس کے لئے تبدیل کرلیا ہے تو بیع جائز ہے، اس لئے کہ ان میں سے ہر ایک کا ثمن دوسرے پر ہے، اور اگر وہ سامان تھا تو بیع فاسد ہوجائے گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 24945]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24945، ترقيم محمد عوامة 23867)
ترقیم عوامۃ: 23868 ترقیم الشثری: -- 24946
٢٤٩٤٦ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا (وكيع قال: قال) (١) سفيان في عشرة (دراهم) (٢) (بتسعة) (٣) (وفلس) (٤) ، فكرهه، وعشرة دراهم بتسعة دراهم وذهب، لم ير به باسا.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط ما بين القوسين من: [ط، هـ].
(٢) سقط من: [ز].
(٣) في [أ، ح، ط]: (سبعة)، وفي [هـ]: (بسبعة).
(٤) في [ط]: (فليس).
حضرت سفیان دس دراہم کو نو درہم اور فلس کے بدلے تبدیل کرنے کو ناپسند فرماتے۔ اور دس درہم کو نو درہم اور سونے کے ساتھ تبدیل کرنے میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 24946]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24946، ترقيم محمد عوامة 23868)
ترقیم عوامۃ: 23869 ترقیم الشثری: -- 24947
٢٤٩٤٧ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع قال: سمعت سفيان يقول: إذا (سمى) (١) برئ وإن لم يضع يده.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (سحى).
حضرت سفیان فرماتے ہیں کہ اگر اس نے بیان کردیا (کہ اس میں فلاں عیب ہے) تو وہ بری الذمہ ہوگیا اگرچہ ہاتھ رکھ کر نہ بتائے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 24947]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24947، ترقيم محمد عوامة 23869)
ترقیم عوامۃ: 23870 ترقیم الشثری: -- 24948
٢٤٩٤٨ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع قال (ابو حنيفة) (١) : إذا قال: برئت من كل (عيب) (٢) : برئ.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (سفيان)، وسفيان يرى أنه لا يبرأ إلا من عيب يسميه، وأبو حنيفة يرى أنه يبرئ باشتراط البراءة من كل عيب سواء سماه أو لا.
(٢) في [ز]: (عند).
حضرت سفیان فرماتے ہیں کہ اگر یوں کہے کہ میں ہر عیب سے بَری ہوں تو بَری ہوجائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 24948]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24948، ترقيم محمد عوامة 23870)
ترقیم عوامۃ: 23871 ترقیم الشثری: -- 24949
٢٤٩٤٩ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عبد الله بن نمير عن الربيع (بن سعد) (١) قال: سالت ابا جعفر عن رجل اشتري منه طعاما فيعطيني بعضه ثم يقطع به فلا (٢) يعطيني، فيقول: (بعني) (٣) (٤) طعامك حتى (اقضيك) (٥) ، قال: لا تقربن هذا، (هذا) (٦) الربا الصراحية.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ز].
(٢) في [هـ]: زيادة (يجدما) وتقدم الأثر برقم [٢٤٨٢١].
(٣) في [ط، ز]: (يعني).
(٤) في [هـ]: زيادة (من).
(٥) في [هـ، ط]: (أقضيه).
(٦) سقط من: [هـ].
حضرت ربیع بن سعد فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو جعفر سے دریافت کیا کہ ایک شخص سے میں نے گندم خریدی اس نے کچھ مجھے دے دیا اور پھر وہ کہیں چلا گیا اور باقی مجھے نہیں دیا اور کہتا ہے کہ: اپنی گندم مجھے فروخت کر دے یہاں تک کہ میں آپ کو ادا کر دوں؟ فرمایا اس بیع کے قریب مت جانا یہ صراحۃً سود ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 24949]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24949، ترقيم محمد عوامة 23871)
ترقیم عوامۃ: 23872 ترقیم الشثری: -- 24950
٢٤٩٥٠ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا حفص (عن) (١) سليمان (ابي) (٢) عبد الله قال: قال الحسن: من (احتاز) (٣) من رجل مالا، او سرق من رجل ⦗٩٩⦘ (مالا) (٤) فاراد ان يرده إليه من وجه لا يعلم، فاوصله إليه فلا باس.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ط].
(٢) في [هـ، ح]: (بن)، وتقدم الخبر برقم [٢٤٦٦٢].
(٣) في [أ، ح، ط، ز]: (أختار)، وفي [ز]: (احتار).
(٤) سقط من: [ز]، وفي [ط]: (فالا).
حضرت حسن فرماتے ہیں کہ جو شخص کسی کا مال رکھ لے یا کسی کا مال چوری کرلے پھر اس کو وہ مال اس طرح واپس کرنا چاہے کہ اس کو علم نہ ہو اور اس کو وہ مال پہنچا دے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 24950]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24950، ترقيم محمد عوامة 23872)
ترقیم عوامۃ: 23873 ترقیم الشثری: -- 24951
٢٤٩٥١ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا معتمر بن سليمان عن (سلم) (١) بن ابي (الذيال) (٢) قال: سالت الحسن عن شريكين اشتريا متاعا، (فباعاه) (٣) بربح (بنقد) (٤) ونسيئة، فقال (احدهما) (٥) (لصاحبه) (٦) : انقدني راس مالي (٧) ، وما (بقي) (٨) فهو (لك) (٩) ، فكرهه الحسن.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح، ط]: (سالم).
(٢) في [ط]: (الرمال)، وفي [أ، ح]: (الديال).
(٣) في [ط]: (فباعن)، وفي [أ، هـ]: (فباعه).
(٤) في [ز]: (وبنقد).
(٥) في [ط]: (أحداهن).
(٦) سقط من: [ز].
(٧) في [ط]: زيادة (لك).
(٨) في [ز]: (بعني).
(٩) سقط من: [ط].
حضرت سلم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حسن رحمہ اللہ سے دریافت کیا کہ دو شریکوں نے مل کر کوئی چیز خریدی پھر اس کو کچھ نفع کے ساتھ فروخت کردیا کچھ نقد اور کچھ ادھار رقم کے ساتھ، پھر اس میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: میرا راس المال مجھے دے دو، جو باقی بچا وہ تمہارا، کیا یہ ٹھیک ہے؟ حضرت حسن نے اس کو ناپسند فرمایا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 24951]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24951، ترقيم محمد عوامة 23873)