صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
34. باب إِهْلاَلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَدْيِهِ:
باب: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانی کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1250 ترقیم شاملہ: -- 3026
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنِي سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، عَنْ مَرْوَانَ الْأَصْفَرِ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ عَلِيًّا قَدِمَ مِنَ الْيَمَنِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بِمَ أَهْلَلْتَ؟ "، فَقَالَ: أَهْلَلْتُ بِإِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَوْلَا أَنَّ مَعِي الْهَدْيَ لَأَحْلَلْتُ "،
(عبدالرحمٰن) بن مہدی نے ہمیں حدیث سنائی (کہا) مجھے سلیم بن حیان نے مروان اصغر سے حدیث سنائی، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ (حجۃ الوداع کے موقع پر) یمن سے مکہ پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”تم نے کیا تلبیہ پکارا؟“ انہوں نے جواب دیا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تلبیہ کے مطابق تلبیہ پکارا۔ آپ نے فرمایا: ”اگر میرے پاس قربانی نہ ہوتی تو میں ضرور احلال (احرام سے فراغت) اختیار کر لیتا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3026]
حضرت انس رضی تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ یمن سے حاضر ہوئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”تم نے احرام کس مقصد سے باندھا؟“ انہوں نے جواب دیا، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جیسا احرام باندھا، آپ صلی الله عليہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میرے ساتھ ہدی نہ ہوتی تو میں حلال ہو جاتا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3026]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1250
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1250 ترقیم شاملہ: -- 3027
وحَدَّثَنِيهِ حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ . ح وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّ فِي رِوَايَةِ بَهْزٍ " لَحَلَلْتُ ".
عبدالصمد اور بہز دونوں نے کہا: ہمیں سلیم بن حیان نے اسی سند کے ساتھ اسی کی طرح حدیث بیان کی، البتہ بہز کی روایت میں ”حلال ہو جاتا“ (احرام کھول دیتا) کے الفاظ ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3027]
مصنف صاحب یہی روایت دو اساتذہ سے بیان کرتے ہیں، جس میں بہز اَحْلَلْتُ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3027]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1250
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1251 ترقیم شاملہ: -- 3028
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاق ، وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، وَحُمَيْدٍ ، أَنَّهُمْ سَمِعُوا أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهَلَّ بِهِمَا جَمِيعًا، لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا لَبَّيْكَ، عُمْرَةً وَحَجًّا ".
ہشیم نے یحییٰ بن ابی اسحاق، عبدالعزیز بن صہیب اور حمید سے خبر دی کہ ان سب نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا انہوں نے فرمایا: میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو (حج و عمرہ) دونوں کا تلبیہ پکارتے ہوئے سنا یہ کہتے ہوئے «لبيك عمرة وحجا لبيك عمرة وحجا» ”اے اللہ! میں حج و عمرہ کے لیے حاضر ہوں، میں حج و عمرہ کے لیے حاضر ہوں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3028]
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دونوں کا اکٹھا تلبیہ کہتے ہوئے سنا، (لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَّحَجًّا) [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3028]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1251
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1251 ترقیم شاملہ: -- 3029
وحَدَّثَنِيهِ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاق ، وَحُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، قَالَ يَحْيَى: سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا "، وقَالَ حُمَيْدٌ: قَالَ أَنَسٌ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَبَّيْكَ بِعُمْرَةٍ وَحَجٍّ ".
اسماعیل بن ابراہیم نے یحییٰ بن ابی اسحاق اور حمید طویل سے خبر دی یحییٰ نے کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا وہ فرما رہے تھے «لبيك عمرة وحجا» اے اللہ! میں حج و عمرہ کی نیت سے تیرے در پر حاضر ہوں۔ حمید نے کہا: حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا: «لبيك عمرة وحجا» اے اللہ! میں حج و عمرہ (کی نیت) کے ساتھ حاضر ہوں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3029]
امام صاحب یہی روایت ایک دوسرے استاد سے بیان کرتے ہیں، جس میں ایک راوی (لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَّ حَجًّا) [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3029]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1251
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1252 ترقیم شاملہ: -- 3030
وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وزهير بن حرب جميعا، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ سَعِيدٌ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ حَنْظَلَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَيُهِلَّنَّ ابْنُ مَرْيَمَ بِفَجِّ الرَّوْحَاءِ حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا أَوْ لَيَثْنِيَنَّهُمَا "،
سفیان بن عیینہ نے ہمیں حدیث بیان کی، (کہا) مجھے زہری نے حنظلہ اسلمی کے واسطے سے حدیث بیان کی کہا: میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کر رہے تھے (کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے) فرمایا: ”اس ذات اقدس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! ابن مریم علیہ السلام (زمین پر دوبارہ آنے کے بعد) فج روضاء (کے مقام) سے حج کا یا عمرہ کا یا دونوں کا نام لیتے ہوئے تلبیہ پکاریں گے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3030]
حضرت ابو ہریرہ رضی الله تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، حضرت ابن مریم علیہ السلام (فَجِ الرَّوْحَاء) [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3030]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1252
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1252 ترقیم شاملہ: -- 3031
وحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، قَالَ: " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ "،
لیث نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت بیان کی، (اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے) فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے!“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3031]
امام صاحب ایک اور استاد سے یہی روایت نقل کرتے ہیں، اس میں ہے، اس ذات کی قسم، جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3031]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1252
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1252 ترقیم شاملہ: -- 3032
وَحَدَّثَنِيهِ حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ عَلِيٍّ الْأَسْلَمِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ "، بِمِثْلِ حَدِيثِهِمَا.
یونس نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی انہوں نے حنظلہ بن علی اسلمی سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!“ (آگے سفیان اور لیث بن سعد) دونوں کی حدیث کے مانند ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3032]
امام صاحب ایک اور استاد سے روایت کرتے ہیں، جس کے الفاظ مذکورہ بالا دونوں حدیث کی طرح ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3032]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1252
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة