مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
16. الطلاء من قال: إذا ذهب (ثلثاه) (فاشربه)
طلاء کے بارے میں جن لوگوں نے کہا ہے کہ جب اس کے دو تہائی ختم ہو جائیں تو پھر تم اس کو پی لو
ترقیم عوامۃ: 24470 ترقیم الشثری: -- 25563
٢٥٥٦٣ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عبد الله بن ادريس عن يزيد (عن) (١) عبد الرحين بن ابي ليلى وابي جحيفة (قال) (٢) : كان علي يرزقنا الطلاء، قال: ⦗٢٩٤⦘ قلت: كيف كان؟ قال: كنا (ناتدمه) (٣) بالخبز و (نحتاسه) (٤) بالماء (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ز، ط]: (بن).
(٢) في [هـ]: (قالا).
(٣) في [هـ]: (نأكله).
(٤) في [هـ]: (نحتاسه)، وفي [جـ، ز]: (نحتاصه).
(٥) ضعيف؛ لضعف يزيد بن أبي زياد.
حضرت یزید، حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ اور حضرت ابو جحیفہ سے روایت کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ہمیں عطیہ میں طلاء دیا کرتے تھے۔ راوی کہتے ہیں، میں نے پوچھا یہ کیا ہوتا تھا؟ انہوں نے جواب دیا۔ ہم اس کو روٹی کے ساتھ سالن کے طور پر استعمال کرتے تھے اور ہم اس کو پانی کے ساتھ خلط کرلیتے تھے۔ (یعنی و ہ گاڑھا ہوتا تھا۔) [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأشربة/حدیث: 25563]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25563، ترقيم محمد عوامة 24470)
ترقیم عوامۃ: 24471 ترقیم الشثری: -- 25564
٢٥٥٦٤ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن شريك عن علي بن سليم قال: سمعت انسا يقول: إني لاشرب الطلاء الحلو (القارص) (١) (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ح، هـ]: (العارض).
(٢) حسن؛ علي بن سليم صدوق، وكذلك شريك.
حضرت علی رضی اللہ عنہ بن سلیم سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس کو کہتے سُنا کہ میں انتہائی شدید میٹھا طلاء نوش کرتا ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأشربة/حدیث: 25564]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25564، ترقيم محمد عوامة 24471)
ترقیم عوامۃ: 24472 ترقیم الشثری: -- 25565
٢٥٥٦٥ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا حماد بن خالد [عن معاوية بن صالح عن سالم بن سالم قال: دخلت على ابي امامة وهو يشرب طلاء الرب (١) (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) الرب: الدبس السائل الذي يخرج من التمر.
(٢) مجهول؛ سالم بن سالم هو أبو شداد العبسي الحمصي مخضرم لم يرو عنه سوى معاوية بن صالح، ولم يوثقه أحد سوى أن ابن حبان ذكره في الثقات مرتين ٤/ ٣٠٦ و ٣٠٨، وانظر: الإصابة ٧/ ٢١٢، والتاريخ الكبير ٤/ ١١٣، والأنساب ٤/ ٢٥٣.
حضرت سالم بن سلام سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابو امامہ کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ وہ شیرہ کا طلاء نوش کر رہے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأشربة/حدیث: 25565]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25565، ترقيم محمد عوامة 24472)
ترقیم عوامۃ: 24473 ترقیم الشثری: -- 25566
٢٥٥٦٦ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن إسماعيل بن ابي خالد] (١) عن عثمان بن قيس قال: خرجت مع (جرير) (٢) يوم الجمعة إلى حمام له بالعاقول، فاتينا بطعام فاكلنا، ثم اتينا بعسل وطلاء، فقال: جرير اشربوا انتم العسل، وشرب (هو) (٣) الطلاء وقال: إنه يستنكر منكم ولا يستنكر مني، قلت اي (الطلاء) (٤) ⦗٢٩٥⦘ هو؟ قال: كنت اجد ريحه كمكان تلك، و (اوما) (٥) بيده إلى اقصى حلقة في القوم (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) ما بين المعكوفتين سقط من: [أ، ح، ط، هـ].
(٢) في [ز، ط]: (جريد).
(٣) سقط من: [ح].
(٤) في [ز]: (طلا).
(٥) في [ز]: (اما).
(٦) مجهول؛ لجهالة عثمان بن قيس.
حضرت عثمان بن قیس سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں جمعہ کے دن جریر کے ہمراہ مقام عاقول میں ان کے حمام کی طرف نکلا، پس ہمارے پاس کھانا لایا گیا، جس کو ہم نے کھایا، پھر ہمارے پاس شہد اور طلاء لایا گیا، جریر نے کہا: تم لوگ شہد پیو اور انہوں نے خود طلاء پیا، اور کہنے لگا۔ یہ (طلائ) پینا تمہاری طرف عجیب سمجھا جائے گا لیکن میری طرف سے عجیب نہیں سمجھا جائے گا۔ میں نے پوچھا، یہ کون سا طلاء ہے؟ انہوں نے جواب دیا۔ میں اس کی بُو کو فلاں جگہ سے پا لیتا ہوں اور (یہ کہہ کر) انہوں نے لوگوں میں سے جو سب سے دور بیٹھا ہوا گروہ تھا اس کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأشربة/حدیث: 25566]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25566، ترقيم محمد عوامة 24473)
ترقیم عوامۃ: 24474 ترقیم الشثری: -- 25567
٢٥٥٦٧ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عبد الله بن نمير (قال: حدثنا) (١) إسماعيل ابن ابي خالد عن المغيرة بن (المنتشر) (٢) ابن اخي مسروق قال: قلت له كان مسروق (يشرب) (٣) الطلاء؟ قال: نعم، كان يطبخه ثم يشربه.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ز]: (عن).
(٢) في [أ، هـ]: (المستنير).
(٣) في [ط]: (شرب).
حضرت مسروق کے برادر زادہ، مغیرہ بن منتشر سے روایت ہے، راوی کہتے ہیں کہ میں نے مغیرہ سے پوچھا۔ کیا حضرت مسروق طلاء پیا کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا۔ ہاں۔ حضرت مسروق اس کو پکاتے پھر نوش فرماتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأشربة/حدیث: 25567]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25567، ترقيم محمد عوامة 24474)
ترقیم عوامۃ: 24475 ترقیم الشثری: -- 25568
٢٥٥٦٨ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن نمير قال: حدثنا إسماعيل عن ابي جرير عن النضر بن انس قال: (غزا) (١) ابو عبيدة بن الجراح فاتى ارض الشام فقيل لابي عبيدة: إن ههنا (شرابا) (٢) (تشربه) (٣) النصارى في صومهم، قال: فشرب منه ابو عبيدة (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح، ط]: (غدا).
(٢) في [ح، ز]: (شراب).
(٣) في [ح]: (اتشربه).
(٤) مجهول؛ أبو جرير لم أعرفه.
حضرت نضر بن انس سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ حضرت ابو عبیدہ بن الجراح سفر جہاد میں تھے کہ آپ ملک شام کی زمین میں تشریف لائے، تو حضرت ابو عبیدہ سے کہا گیا۔ یہاں پر ایک مشروب ایسا ہے جس کو نصاریٰ اپنے روزوں میں پیتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں پھر حضرت ابو عبدسہ نے اس مشروب کو نوش فرمایا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأشربة/حدیث: 25568]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25568، ترقيم محمد عوامة 24475)
ترقیم عوامۃ: 24476 ترقیم الشثری: -- 25569
٢٥٥٦٩ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن نمير قال: حدثنا إسماعيل عن مغيرة عن شريح ان خالد بن الوليد كان يشرب الطلاء بالشام (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع؛ شريح لا يروي عن خالد بن الوليد، ويحتمل أن يكون مغيرة هو الثقفي والد هشام بن المغيرة وهو مجهول.
حضرت شریح سے یہ روایت ہے کہ حضرت خالد بن الولید ملک شام میں طلاء پیا کرتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأشربة/حدیث: 25569]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25569، ترقيم محمد عوامة 24476)
ترقیم عوامۃ: 24477 ترقیم الشثری: -- 25570
٢٥٥٧٠ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن الاعمش عن يحيى (١) ابي (عمر) (٢) قال: ذكر عند ابن عباس الطلاء، وذكروا طبخه، فقال ابن عباس: إن النار لا تحل شيئا ولا تحرمه؛ لان اوله كان حلالا (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، جـ، ز، ط، هـ]: زيادة (ابن).
(٢) في [ز]: (عمرو).
(٣) صحيح.
حضرت یحییٰ بن عبید ابی عمر سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے سامنے طلاء کا ذکر ہوا اور لوگوں نے اس کے پکانے کا بھی ذکر کیا۔ تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا: بلاشبہ آگ کسی چیز کو حلال کرتی ہے اور نہ ہی حرام کرتی ہے، کیونکہ یہ تو شروع ہی سے حلال تھی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأشربة/حدیث: 25570]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25570، ترقيم محمد عوامة 24477)
ترقیم عوامۃ: 24478 ترقیم الشثری: -- 25571
٢٥٥٧١ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابو خالد عن الاعمش عن الحكم عن شريح انه كان يشرب الطلاء الشديد.
حضرت حکم، حضرت شریح کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ وہ انتہائی شدید طلاء پیا کرتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأشربة/حدیث: 25571]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25571، ترقيم محمد عوامة 24478)
ترقیم عوامۃ: 24479 ترقیم الشثری: -- 25572
٢٥٥٧٢ - (١) حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن علي بن (بذيمة) (٢) عن ابي عبيدة (٣) انه كان يشرب الطلاء عند مروان ما يحمر (وجنتيه) (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: تأخرت الأخبار: [٢٥٥٦٨، ٢٥٥٦٩، ٢٥٥٧٠، ٢٥٥٧١] عن: [٢٥٥٧٢، ٢٥٥٧٣، ٢٥٥٧٤، ٢٥٥٧٥].
(٢) في [أ، ح، ز، ط]: (نديمة).
(٣) هو ابن عبد اللَّه بن مسعود.
(٤) في [أ، هـ]: (وجنته).
حضرت علی رضی اللہ عنہ بن بذیمہ، حضرت ابو عبیدہ کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ وہ مروان کی موجودگی میں اس طرح کا طلاء پیتے تھے کہ جس سے ان کے رخسار سُرخ ہوجاتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأشربة/حدیث: 25572]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25572، ترقيم محمد عوامة 24479)