مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
16. الطلاء من قال: إذا ذهب (ثلثاه) (فاشربه)
طلاء کے بارے میں جن لوگوں نے کہا ہے کہ جب اس کے دو تہائی ختم ہو جائیں تو پھر تم اس کو پی لو
ترقیم عوامۃ: 24480 ترقیم الشثری: -- 25573
٢٥٥٧٣ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن إبراهيم انه كان يشتري الطلاء ممن لا يدري من صنعه، ثم يشربه.
حضرت اعمش، حضرت ابراہیم کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ وہ ان لوگوں سے بھی طلاء خرید لیتے تھے جن کو یہ معلوم نہیں ہوتا تھا کہ اس کو کس نے تیار کیا ہے پھر آپ اس کو نوش بھی فرما لیتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأشربة/حدیث: 25573]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25573، ترقيم محمد عوامة 24480)
ترقیم عوامۃ: 24481 ترقیم الشثری: -- 25574
٢٥٥٧٤ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا شريك عن السدي (١) عن شيخ من الحضرميين قال: قسم علي طلاء، فبعث إلي بقدح، فكنا ناكله بالخبز كما ناكله (بالكامخ) (٢) (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (أبو معاوية عن الأعمش).
(٢) في [ط]: (بالكالح)، والكامخ: إدام يستعمل لتشهي الطعام، وقيل هو المخللات خاصة، انظر: تاج العروس ٧/ ٣٣٠.
(٣) مجهول، لإبهام الراوي.
حضرت سُدّی، حضرمیین کے ایک بوڑھے سے روایت بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: حضرت علی رضی اللہ عنہ نے طلاء تقسیم کی، پس آپ نے میری طرف بھی ایک ہانڈی بھیجی، چناچہ ہم اس کو روٹی کے ساتھ اس طرح کھاتے تھے جس طرح چٹنی کھاتے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأشربة/حدیث: 25574]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25574، ترقيم محمد عوامة 24481)
ترقیم عوامۃ: 24482 ترقیم الشثری: -- 25575
٢٥٥٧٥ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن يزيد (عن) (١) موسى بن (عبد الله) (٢) بن يزيد الانصاري قال: كانت لعبد الرحمن بن (بشر) (٣) الانصاري قرية يصنع له بها طعام، فدعا ناسا من اصحابه فاكلوا، ثم اتوا بشراب من الطلاء، وفيهم اناس من اهل بدر، فقالوا: ما هذا؟ (قالوا) (٤) : شراب (يصنعه) (٥) ابن (بشر) (٦) لنفسه، (فقالوا) (٧) : هو (الرجل) (٨) لا يرغب عن شرابه، فشربوا (٩) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح، ط]: (بن).
(٢) في [ز]: (عبيد اللَّه).
(٣) في [أ، هـ]: (بشير).
(٤) في [ز]: (فقالوا).
(٥) في [ط]: (يضعه).
(٦) في [أ، ح، هـ]: (بشير).
(٧) في [أ، ح، ط، هـ]: (فقال).
(٨) في [جـ]: (رجل).
(٩) في [هـ]: قدم الأخبار [٢٥٥٧٢ - ٢٥٥٧٥]، على الخبر [٢٥٥٥٨].
حضرت موسیٰ بن عبد اللہ بن یزید انصاری سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبد الرحمن ابن بشر انصاری کے پاس ایک مشک تھا جس میں ان کے لئے کھانا بنایا جاتا تھا، پس انہوں نے اپنے دوستوں میں سے کچھ لوگ کو دعوت دی انہوں نے (حضرت عبد الرحمن کے ہاں) کھانا کھایا پھر ان مہمانوں کے پاس طلاء کا مشروب لایا گیا اور ان مہمانوں میں اہل بدر کے کچھ حضرات بھی تھے۔ انہوں نے پوچھا یہ کیا ہے؟ لوگوں نے بتایا۔ یہ ایک مشروب ہے جو حضرت ابن بشر اپنے لیے بناتے ہیں۔ اس پر اہل بدر نے کہا۔ یہ عبد الرحمن بن بشر ایسا آدمی ہے کہ جس کے مشروب سے اعراض نہیں کیا جاسکتا پس ان اہل بدر نے بھی مشروب پیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأشربة/حدیث: 25575]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25575، ترقيم محمد عوامة 24482)
ترقیم عوامۃ: 24483 ترقیم الشثری: -- 25576
٢٥٥٧٦ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن عطاء عن ابي عبد الرحمن عن علي قال: كان (يرزقنا) (١) الطلاء، فقلت له: ما (٢) هيئته؟ (قال) (٣) : اسود (ياخذه) (٤) احدنا بإصبعه (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (يرث منا).
(٢) في [ز]: زيادة (كان).
(٣) في [أ، ح، ط]: (قالوا).
(٤) في [ز]: (يأخذ).
(٥) أبو عبد الرحمن لم أعرفه.
حضرت ابو عبد الرحمن، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں روایت کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ہمیں طلاء بطور وظیفہ کے دیا کرتے تھے۔ (راوی کہتے ہیں) میں نے ابو عبد الرحمن سے پوچھا۔ اس طلاء کی ہیئت کیسی ہوتی تھی؟ ابو عبد الرحمن نے جواب دیا۔ وہ سیاہ رنگ کا ہوتا تھا جس کو ہم میں سے کوئی شخص اپنی انگلی سے لیتا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأشربة/حدیث: 25576]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25576، ترقيم محمد عوامة 24483)
ترقیم عوامۃ: 24484 ترقیم الشثری: -- 25577
٢٥٥٧٧ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا عبد الله بن الوليد ⦗٢٩٨⦘ المزني قال: حدثني عبد الملك بن عمير عن ابي (ابن) (١) (الهياج) (٢) ان الحجاج دعاه فقال: ارني كتاب عمر إلى عمار في شان (الطلاء) (٣) فخرج وهو حزين، فلقيه الشعبي فساله (واخبره) (٤) (عما قال له الحجاج) (٥) ، فقال له الشعبي: (هلم) (٦) صحيفة ودواة، فوالله ما سمعت من ابيك إلا مرة واحدة، فاملى عليه: بسم الله الرحمن الرحيم من (عبد الله) (٧) عمر امير المؤمنين إلى عمار بن ياسر، اما بعد: فإني اتيت بشراب من قبل (اهل) (٨) الشام فسالت عنه كيف يصنع؟ فاخبروني انهم يطبخونه حتى يذهب ثلثاه ويبقى ثلثة، فإذا فعل ذلك به ذهب رسه و (ريح) (٩) جنونه وذهب حرامه وبقي (حلاله) (١٠) -قال عبد الله: واراه قال: والطيب منه- فإذا اتاك كتابي هذا فمر من قبلك: فليتوسعوا به (في) (١١) اشربتهم، والسلام (١٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، جـ، ح، ز، س، ط، هـ] ومن رجال التقريب (جرير بن أبي الهياج مقبول) و (منصور بن أبي الهياج ثقة)، وفي العلل لأحمد ٣/ ٣٤١: أنه (عبد اللَّه بن أبي الهياج)، وهو مجهول.
(٢) في جميع النسخ سوى [هـ] (هياج).
(٣) في [ط]: (الطلاح).
(٤) في [جـ]: (فأخبره).
(٥) سقط من: [ز].
(٦) في [أ، ح، هـ]: (سلم).
(٧) في [أ، ح، ط، هـ]: (عند).
(٨) سقط من: [أ، ح، ز، ط].
(٩) في [أ]: (رمح).
(١٠) في [ط]: (حلال).
(١١) سقط من: [أ، جـ، ح، ز، ط].
(١٢) مجهول؛ لجهالة ابن أبي الهياج.
حضرت عبد الملک بن عمیر نے ابو الہیاج کے بارے میں بیان کیا کہ حجاج نے انہیں مدعو کیا اور کہا۔ طلاء کے بارے میں حضرت عمر کا حضرت عمار کو لکھا گیا خط تم مجھے دکھاؤ۔ پس حضرت ابو الہیاج (وہاں سے) اس حالت میں نکلے کہ وہ غمگین تھے کہ اس دوران ابو الہیاج کو حضرت شعبی ملے انہوں نے ابو الہیاج سے (غمگینی کی وجہ) دریافت کی۔ چناچہ انہوں نے شعبی کو وہ ساری بات بتادی جو حجاج نے ان سے کہی تھی۔ اس پر حضرت شعبی نے ابو الہیّاج سے کہا۔ قلم اور دوات اور کاغذ لاؤ۔ خدا کی قسم! میں نے یہ خط تمہارے باپ سے صرف ایک ہی مرتبہ سُنا ہے۔ چناچہ حضرت شعبی نے ابو الہیاج کو یہ املاء کروایا ’ بسم اللہ الرحمن الرحیم ‘ اللہ کے بندے امیر المؤمنین عمر کی طرف سے حضرت عمار بن یاسر کی جانب (خط)۔ اما بعد! میرے پاس ملک شام کی طرف سے ایک مشروب لایا گیا تو میں نے اسکے بارے میں دریافت کیا کہ یہ کیسے بنایا جاتا ہے؟ تو لوگوں نے مجھے بتایا کہ لوگ اس کو اتنا پکاتے ہیں کہ اس کے دو تہائی حصے ختم ہوجاتے ہیں اور اس کا ایک تہائی حصہ رہ جاتا ہے۔ پھر جب یہ عمل اس کے ساتھ کیا جاتا ہے تو اس کی خرابی اور فساد ختم ہوجاتی ہے اور اس کی بےہوشی کی ہوا چلی جاتی ہے اور اس کا حرام چلا جاتا ہے اور اس کا حلال باقی رہ جاتا ہے۔ حضرت عبد اللہ کہتے ہیں … میرے خیال میں آپ نے یہ بھی فرمایا تھا۔ ”اور اس کا بہتر حصہ رہ جاتا ہے۔“… پس جب تمہارے پاس میرا یہ خط پہنچے تو تم اپنے علاقہ کے لوگوں کو حکم دے دو کہ وہ اس مشروب کے ذریعہ اپنے مشروبات میں وسعت کرلیں۔ والسّلام۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأشربة/حدیث: 25577]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25577، ترقيم محمد عوامة 24484)
ترقیم عوامۃ: 24485 ترقیم الشثری: -- 25578
٢٥٥٧٨ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن ابيه ان عمر بن عبد العزيز (كره) (١) المنصف، وكتب إلى اهل الامصار ينهاهم.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (أكرهها).
حضرت ابن فضیل، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز پک کر آدھی رہ جانے والی طلاء کو ناپسند کرتے تھے اور انہوں نے متعدد شہروں کے رہنے والوں کو اس سے منع کرنے کے لئے افراد بھیجے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأشربة/حدیث: 25578]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25578، ترقيم محمد عوامة 24485)
ترقیم عوامۃ: 24486 ترقیم الشثری: -- 25579
٢٥٥٧٩ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا معتمر بن سليمان عن داود بن إبراهيم قال: قلت لطاوس: ارايت هذا العصير الذي يطبخ على النصف والثلث ونحو ذلك؟ قال: ارايت هذا الذي من نحو العسل: إن شئت اكلت (به) (١) الخبز، وإن شئت (صببت) (٢) عليه ماء فشربته، وما دونه فلا تشربه، ولا تبعه، (ولا) (٣) تنتفعن بثمنه.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح، هـ]: (عليه).
(٢) في [ح]: (سببت).
(٣) سقط من: [جـ].
حضرت داؤد بن ابراہیم سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت طاؤس سے پوچھا، آپ کی رائے اس عصیر (شیرہ انگور) کے بارے میں کیا ہے جس کو نصف اور ثلث وغیرہ کے ختم تک پکایا جاتا ہے؟ انہوں نے جواب دیا، کیا تم اس عصیر میں شہد کی طرح کو دیکھتے ہو کہ اگر تم چاہو تو تم اس کے ساتھ روٹی کھالو اور اگر تم چاہو تو اس میں پانی ملا لو اور پھر اس کو نوش کرلو اور جو اس سے کم درجہ ہو تو تم نہ تو اس کو پیو اور نہ اس کو بیچو اور نہ ہی اس کے ثمن سے نفع حاصل کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأشربة/حدیث: 25579]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25579، ترقيم محمد عوامة 24486)
ترقیم عوامۃ: 24487 ترقیم الشثری: -- 25580
٢٥٥٨٠ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابو اسامة عن (بشير) (١) بن المهاجر عن عكرمة والحسن (قالا) (٢) : اشرب من الطلاء ما ذهب (ثلثاه) (٣) وبقي ثلثه.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح، ز، ط]: (بشر).
(٢) في [ز، ط]: (قال).
(٣) في [هـ]: (ثلثه).
حضرت عکرمہ اور حضرت حسن دونوں سے روایت ہے، وہ دونوں کہتے ہیں کہ اس طلاء کی پی لو جس کے دو تہائی جاچکے ہوں اور جس کا ایک تہائی رہ گیا ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأشربة/حدیث: 25580]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25580، ترقيم محمد عوامة 24487)