🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

41. باب اسْتِحْبَابِ تَقْبِيلِ الْحَجَرِ الأَسْوَدِ فِي الطَّوَافِ:
باب: طواف میں حجر اسود کو بوسہ دینے کا استحباب۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1270 ترقیم شاملہ: -- 3067
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، وَعَمْرٌو . ح وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، أَنَّ أَبَاهُ ، حَدَّثَهُ، قَالَ: قَبَّلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، الْحَجَرَ، ثُمَّ قَالَ: " أَمَ وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّكَ حَجَرٌ، وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُكَ مَا قَبَّلْتُكَ "، زَادَ هَارُونُ فِي رِوَايَتِهِ: قَالَ عَمْرٌو، وَحَدَّثَنِي بِمِثْلِهَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ أَسْلَمَ.
مجھے حرملہ بن یحییٰ نے حدیث سنائی، (کہا:) ہمیں ابن وہب نے خبر دی، (کہا:) مجھے یونس اور عمرو نے خبر دی، اسی طرح مجھے ہارون بن سعید ایلی نے حدیث بیان کی، کہا: ابن وہب نے عمرو سے خبر دی، انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے سالم سے روایت کی کہ ان کے والد (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) نے انہیں حدیث بیان کی، کہا: (ایک مرتبہ) حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حجر اسود کو بوسہ دیا اور فرمایا: ہاں، اللہ کی قسم! میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے، اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ دیکھا ہوتا کہ وہ تمہیں بوسہ دیتے تھے تو میں تمہیں (کبھی) بوسہ نہ دیتا۔ ہارون نے اپنی روایت میں (کچھ) اضافہ کیا، عمرو نے کہا: مجھے زید بن اسلم نے اپنے والد اسلم سے اسی کے مانند روایت کی تھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3067]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حجر اسود کا بوسہ لیا، پھر فرمایا: ہاں! اللہ کی قسم! مجھے خوب پتا ہے تو ایک پتھر ہے، اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا، تو میں تمہیں بوسہ نہ دیتا۔ ہارون کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ عمرو نے کہا: اس طرح مجھے یہ روایت زید بن اسلم نے اپنے باپ سے سنائی، (اسلم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3067]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1270
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1270 ترقیم شاملہ: -- 3068
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ قَبَّلَ الْحَجَرَ، وَقَالَ: " إِنِّي لَأُقَبِّلُكَ وَإِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ، وَلَكِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُكَ ".
نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حجر اسود کو بوسہ دیا اور کہا: میں تجھے بوسہ دیتا ہوں اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تھا وہ تجھے بوسہ دیتے تھے۔ (اس لیے میں بھی بوسہ دیتا ہوں) [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3068]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حجر اسود کا بوسہ لیا اور فرمایا: میں تمہیں بوسہ دے رہا ہوں، حالانکہ میں جانتا ہوں تو یقینا ایک پتھر ہے، لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے دیکھا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3068]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1270
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1270 ترقیم شاملہ: -- 3069
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، وَالْمُقَدَّمِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، كلهم عَنْ حَمَّادٍ ، قَالَ: خَلَفٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ ، قَالَ: رَأَيْتُ الْأَصْلَعَ يَعْنِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يُقَبِّلُ الْحَجَرَ، وَيَقُولُ: " وَاللَّهِ إِنِّي لَأُقَبِّلُكَ وَإِنِّي أَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ، وَأَنَّكَ لَا تَضُرُّ وَلَا تَنْفَعُ، وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبَّلَكَ مَا قَبَّلْتُكَ "، وَفِي رِوَايَةِ الْمُقَدَّمِيِّ، وَأَبِي كَامِلٍ: رَأَيْتُ الْأُصَيْلِعَ.
ہمیں خلف بن ہشام، مقدمی، ابوکامل، اور قتیبہ بن سعید سب نے حماد سے حدیث بیان کی، خلف نے کہا: ہمیں حماد بن زید نے عاصم احول سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے سر کے اگلے حصے سے اڑے ہوئے بالوں والے، یعنی حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ حجر اسود کو بوسہ دیتے تھے اور کہتے تھے: اللہ کی قسم! میں تجھے بوسہ دے رہا ہوں، اور بے شک میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے، تو نقصان پہنچا سکتا ہے نہ نفع، اگر ایسا نہ ہوتا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے دیکھا تھا، تو میں تجھے بوسہ نہ دیتا۔ مقدمی اور ابوکامل کی روایت میں (اڑے ہوئے بالوں والے کی بجائے) آگے سے چھوٹی سی گنج والے کو دیکھا کے الفاظ ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3069]
عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے «اَصْلَعَ» یعنی عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو حجرِ اسود کو بوسہ دیتے دیکھا، اور وہ کہہ رہے تھے: اللہ کی قسم! میں تجھے بوسہ دے رہا ہوں، جبکہ میں خوب جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے، اور یقیناً نہ تو نقصان پہنچا سکتا ہے اور نہ نفع، اگر میں نے تجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو تجھے بوسہ نہ دیتا، مقدمی اور ابو کامل کی روایت میں «اَصْلَعَ» کی بجائے «اُصَيْلِعَ» ہے (جس کے سر کے اگلے حصہ کے بال گر گئے ہوں، اسے اَصْلَعَ کہتے ہیں)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3069]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1270
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1270 ترقیم شاملہ: -- 3070
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ ، قَالَ: رَأَيْتُ عُمَرَ يُقَبِّلُ الْحَجَرَ، وَيَقُولُ: " إِنِّي لَأُقَبِّلُكَ وَأَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ، وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُكَ لَمْ أُقَبِّلْكَ ".
حضرت عابس بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو حجر اسود کو بوسہ دیتے ہوئے دیکھا، وہ فرما رہے تھے: بلاشبہ میں نے تجھے بوسہ دیا ہے اور میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہی ہے۔ اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے نہ دیکھا ہوتا تو تمہیں کبھی بوسہ نہ دیتا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3070]
عابس بن ربیعہ بیان کرتے ہیں، میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو حجر اسود کو بوسہ دیتے دیکھا اور وہ کہہ رہے تھے: میں تجھے بوسہ دے رہا ہوں، حالانکہ میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے، اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے بوسہ نہ دیتا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3070]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1270
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1271 ترقیم شاملہ: -- 3071
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، جَمِيعًا عَنْ وَكِيعٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ، قَالَ: رَأَيْتُ عُمَرَ : قَبَّلَ الْحَجَرَ وَالْتَزَمَهُ، وَقَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَ حَفِيًّا "،
حضرت سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے حجر اسود کو بوسہ دیا اور اس سے چمٹ گئے، اور فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا وہ تم سے بہت قریب ہوتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3071]
سوید بن غفلہ بیان کرتے ہیں، میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا، انہوں نے حجر اسود کو بوسہ دیا اور اس کے ساتھ چمٹ گئے اور فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، وہ تجھے بہت اہمیت دیتے تھے اور تجھ سے محبت کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3071]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1271
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1271 ترقیم شاملہ: -- 3072
وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ: وَلَكِنِّي رَأَيْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَ حَفِيًّا، وَلَمْ يَقُلْ: وَالْتَزَمَهُ.
عبدالرحمان نے سفیان سے اسی سند کے ساتھ روایت کی، اور کہا: لیکن میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا وہ تم سے بہت قریب ہوتے تھے۔ انہوں نے وہ (حضرت عمر رضی اللہ عنہ) اس سے چمٹ گئے کے الفاظ نہیں کہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3072]
امام صاحب اپنے ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت نقل کرتے ہیں، لیکن اس میں چمٹنے کا تذکرہ نہیں ہے اور یہ ہے: میں نے ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھ پر بہت مہربان پایا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3072]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1271
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں