مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
24. في (الإقران) بين التمرتين
دو دو کھجوریں ملانے کے بارے میں
ترقیم عوامۃ: 24980 ترقیم الشثری: -- 26086
٢٦٠٨٦ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن الشيباني عن جبلة (بن) (١) سحيم عن ابن عمر قال: نهى رسول الله ﷺ عن (الإقران) (٢) إلا ان تستاذن اصحابك (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ز]: (عن).
(٢) في [جـ]: (القران).
(٣) صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٤٨٩)، ومسلم (٢٠٤٥).
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (دو کھجوروں کے) ملانے سے منع کیا ہے مگر یہ کہ تم اپنے ساتھیوں سے اجازت لے لو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأطعمة/حدیث: 26086]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26086، ترقيم محمد عوامة 24980)
ترقیم عوامۃ: 24981 ترقیم الشثری: -- 26087
٢٦٠٨٧ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن موسى بن دهقان قال: رايت سالم بن عبد الله ياكل التمر (كفا كفا) (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح، هـ]: (كف كف).
حضرت موسیٰ بن دہقان سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سالم بن عبد اللہ کو ہتھیلیوں میں کھجوریں بھر کر کھاتے دیکھا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأطعمة/حدیث: 26087]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26087، ترقيم محمد عوامة 24981)
ترقیم عوامۃ: 24982 ترقیم الشثری: -- 26088
٢٦٠٨٨ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن عطاء بن السائب عن ابي (جحيش) (١) عن ابي هريرة انه (اكل) (٢) مع اصحابه تمرا فقال: (إني) (٣) قد قارنت فقارنوا (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح، ط، هـ]: (جحش)، وانظر: شعب الإيمان (٥٨٧٤).
(٢) في [ز]: (كان).
(٣) في [ط، هـ]: (إن).
(٤) مجهول؛ لجهالة أبي جحيش.
حضرت ابو حجش، حضرت ابوہریرہ کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ کھجوریں کھائیں تو فرمایا: میں ملا رہا ہوں، تم بھی ملا کر کھاؤ۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأطعمة/حدیث: 26088]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26088، ترقيم محمد عوامة 24982)
ترقیم عوامۃ: 24983 ترقیم الشثری: -- 26089
٢٦٠٨٩ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن (حبيبة) (١) بنت عباد عن امها قالت: سالت عائشة عن القران (بين التمرتين) (٢) (فقالت) (٣) : لو كان (حلالا) (٤) كان دناءة (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (خبيبة).
(٢) سقط من: [ز].
(٣) في [أ، ح، ط]: (فقال).
(٤) في [ز]: (حالالا).
(٥) مجهول؛ لجهالة أم حبيبة.
حضرت حبیبہ بنت عباد، اپنی والدہ سے روایت کرتی ہیں۔ کہتی ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دو کھجوروں کے ملانے کے بارے میں سوال کیا؟ تو انہوں نے جواب دیا۔ اگر یہ کام حلال ہو تب بھی یہ کمینگی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأطعمة/حدیث: 26089]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26089، ترقيم محمد عوامة 24983)