مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
23. من (كان) يكره أكل الثوم
جو حضرات تھوم کھانے کو ناپسند کرتے ہیں
ترقیم عوامۃ: 24966 ترقیم الشثری: -- 26072
٢٦٠٧٢ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن (عبيد الله) (١) بن ابي (يزيد) (٢) (عن ابيه) (٣) عن ام ايوب (قالت) (٤) : نزل علينا النبي ﷺ فصنعنا له طعاما فيه من بعض (البقول) (٥) فكرهه، (وقال) (٦) :"إني لست مثلكم، إني اخاف ان اوذي صاحبي" (٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (عبد اللَّه).
(٢) في [ح]: (أوفى).
(٣) سقط من: [أ، جـ، ح، ز، ط].
(٤) في [أ، ح، ط]: (قال).
(٥) في [أ]: (البتول).
(٦) في [ط، هـ]: (فقال).
(٧) صحيح؛ أبو يزيد وثقه العجلي وابن حبان وصحح حديثه الترمذي، أخرجه أحمد (٢٧٤٤٢)، وابن ماجه (٣٣٦٤)، والترمذي (١٨١٠)، وابن خزيمة (١٦٧١)، وابن حبان (٢٥٩٣)، والطبراني ٢٥/ (٣٢٩)، والدارمى (٢٠٥٤)، والحميدي (٣٣٩)، وابن أبي عاصم في الآحاد، والطحاوي ٤/ ٢٣٩، وابن الأثير في أسد الغابة ٧/ ٣٠٤.
حضرت عبید اللہ بن یزید، اپنے والد کے واسطہ سے ام ایوب سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے پس ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے بعض ترکاری میں سے کھانا بنایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو ناپسند کیا اور فرمایا: ”میں تم جیسا نہیں ہوں، میں اپنے ساتھی کو اذیت دینے سے خوف کھاتا ہوں۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأطعمة/حدیث: 26072]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26072، ترقيم محمد عوامة 24966)
ترقیم عوامۃ: 24967 ترقیم الشثری: -- 26073
٢٦٠٧٣ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن نمير قال: حدثنا عبيد الله بن عمر عن نافع عن ابن عمر ان رسول الله ﷺ قال:"من اكل من هذه البقلة فلا (يقرب) (١) المسجد حتى يذهب ريحها" -يعني الثوم- (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ز]: (يقربن).
(٢) صحيح؛ أخرجه البخاري (٤٢١٥)، ومسلم (٥٦١).
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد رفرمایا: ”جو شخص اس ترکاری (یعنی تھوم) میں سے کھائے تو وہ اس وقت تک مسجد کے قریب نہ آئے جب تک اس کی بُو ختم نہ ہوجائے۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأطعمة/حدیث: 26073]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26073، ترقيم محمد عوامة 24967)
ترقیم عوامۃ: 24968 ترقیم الشثری: -- 26074
٢٦٠٧٤ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا جرير عن منصور عن سالم بن عبد الله بن يزيد عن طباخ حذيفة (قال: كان حذيفة) (١) (يامرني) (٢) ان (لا) (٣) اجعل في طعامه كراثا (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط ما بين القوسين في: [ط].
(٢) تكررت في: [جـ].
(٣) سقط من: [ز].
(٤) مجهول؛ لجهالة سالم بن عبد اللَّه بن يزيد وطباخ حذيفة.
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے باورچی سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ مجھے حکم کرتے تھے کہ میں ا ن کے کھانے میں کُراث (خاص تیز بُو والی سبزی) نہ ڈالا کروں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأطعمة/حدیث: 26074]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26074، ترقيم محمد عوامة 24968)
ترقیم عوامۃ: 24969 ترقیم الشثری: -- 26075
٢٦٠٧٥ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن عدي عن زر بن حبيش عن حذيفة قال: من اكل الثوم فلا (يقربنا) (١) ثلاثا (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (يقربن).
(٢) صحيح.
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جو شخص تھوم کھائے تو وہ ہمارے پاس تین (دن) نہ آئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأطعمة/حدیث: 26075]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26075، ترقيم محمد عوامة 24969)
ترقیم عوامۃ: 24970 ترقیم الشثری: -- 26076
٢٦٠٧٦ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا إسماعيل بن علية عن ايوب عن حميد بن هلال عن ابي بردة ان النبي ﷺ وجد من المغيرة ريح ثوم فقال:"الم انهكم عن هذه الشجرة؟" فقال: يا رسول الله اقسمت عليك (لتدخلن) (١) يدك، (قال) (٢) : وعليه ⦗٤٣١⦘ جبة او قميص، فادخل يده فإذا (على صدره) (٣) (عصاب) (٤) فقال:" (٥) ارى لك عذرا" (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (لقدخلن).
(٢) سقط من: [ز].
(٣) في [أ، ح، هـ]: (عليه بدرة).
(٤) في [أ، ح، هـ]: (عصابة).
(٥) في [هـ]: زيادة (لا).
(٦) مرسل؛ أبو بردة تابعي، وهكذا رجحه الدارقطني في العلل ٧/ ١٤٠، وسيأتي متصلًا برقم [٢٦٠٨٠] لكن قد شهد أيوب بأن سليمان بن المغيرة لا أحفظ منه لحديث حميد بن هلال.
حضرت ابی بردہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت مغیرہ سے تھوم کی بُو محسوس کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیا میں نے تمہیں اس درخت سے منع نہیں کیا تھا؟“ تو انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! آپ کو قسم ہے کہ آپ اپنے ہاتھ کو (جُبہ یا قمیص میں) ضرور داخل کریں گے۔ اور ان پر (اس وقت) جُبہ یا قمیص تھی … چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ داخل کیا تو ان پر پٹی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے لیئے عذر ہے۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأطعمة/حدیث: 26076]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26076، ترقيم محمد عوامة 24970)
ترقیم عوامۃ: 24971 ترقیم الشثری: -- 26077
٢٦٠٧٧ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا الفضل بن دكين عن الحكم (بن) (١) عطية (٢) عن ابي (الرباب) (٣) عن معقل بن يسار قال: سمعته يقول: كنا مع رسول الله ﷺ في (مسير) (٤) فقال: من (اكل) (٥) من هذه الشجرة فلا يقربن مصلانا (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ز]: (عن).
(٢) صوابه: طهمان كما في الموضح (١/ ٢١٧).
(٣) في [أ، هـ]: (الؤياف).
(٤) في [هـ]: (ميسرة)، وفي [أ]: (مسيرة).
(٥) في [ز]: (أهل).
(٦) مجهول؛ لجهالة إبي الرباب، أخرجه أحمد (٢٠٣٠٢)، والبخاري في الكنى من تاريخه (ص ٣٠)، ويعقوب ابن سفيان في المعرفة ١/ ٣١٠، والخطيب في الموضح ١/ ٢١٤، والطبراني ٢٠/ (٥٢٠).
حضرت ابو الرباب، حضرت معقل بن یسار کے بارے میں روایت کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ میں نے انہیں یہ کہتے سُنا۔ کہ ہم جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ ایک سفر میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص اس درخت میں سے کھائے تو وہ ہماری نماز گاہ کے قریب نہ آئے۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأطعمة/حدیث: 26077]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26077، ترقيم محمد عوامة 24971)
ترقیم عوامۃ: 24972 ترقیم الشثری: -- 26078
٢٦٠٧٨ - حدثنا ابو بكر قال (١) : حدثنا معتمر عن ابيه قال: راى الحسن مع امه كراثا فقال: يا (امتاه) (٢) الق هذه الشجرة الخبيثة.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ح، هـ]: زيادة (حدثنا وكيع قال:).
(٢) في [هـ]: (أماه)، وفي [ع]: (أختاه).
حضرت معتمر، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ حضرت حسن نے اپنی والدہ کے پاس کراث کو دیکھا تو کہا۔ اے اماں جان! اس گندے درخت کو پھینک دیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأطعمة/حدیث: 26078]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26078، ترقيم محمد عوامة 24972)
ترقیم عوامۃ: 24973 ترقیم الشثری: -- 26079
٢٦٠٧٩ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن ابن ابي ليلى عن عطاء عن جابر قال: قال رسول الله ﷺ:"من اكل من هذه البقلة فلا يقربن مسجدنا او قال: المسجد" (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) ضعيف؛ ابن أبي ليلى سيئ الحفظ، لكن أخرجه البخاري (٨٥٤)، ومسلم (٥٦٤) من طريق آخر.
حضرت جابر سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص اس ترکاری میں سے کھائے تو وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے“ یا فرمایا: ”وہ مسجد کے قریب نہ آئے۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأطعمة/حدیث: 26079]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26079، ترقيم محمد عوامة 24973)
ترقیم عوامۃ: 24974 ترقیم الشثری: -- 26080
٢٦٠٨٠ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن (سليمان) (١) بن المغيرة عن حميد ابن هلال عن ابي بردة عن المغيرة (بن) (٢) شعبة قال: اكلت ثوما ثم اتيت مصلى النبي ﷺ فوجدته قد سبقني بركعة، فلما صلى قمت اقضي، (فوجد) (٣) الريح فقال:"من اكل (من) (٤) هذه البقلة فلا يقربن مسجدنا حتى يذهب ريحها"، قال المغيرة: فلما قضيت الصلاة اتيته فقلت: يا رسول الله! إن لي عذرا، ناولني يدك، قال: فوجدته والله سهلا، فناولني يده (فادخلها) (٥) إلى صدري فوجده معصوبا، فقال:"إن لك عذرا" (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (سلمان).
(٢) في [ز]: (عن).
(٣) في [هـ]: (وجدت).
(٤) سقط من: [هـ].
(٥) في [هـ]: (فأدخلتها).
(٦) صحيح؛ أخرجه أحمد (١٨٢٠٥)، وأبو داود (٣٨٢٦)، وابن خزيمة (١٦٧٢)، وابن حبان (٢٠٩٥)، والطحاوي ٤/ ٢٣٨، والطبراني ٢٠/ (١٠٣)، والبيهقي ٣/ ٧٧.
حضرت مغیر ہ بن شعبہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے تھوم کھایا پھر میں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جائے نماز کے پاس حاضر ہوا۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس حالت میں پایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھ سے پہلے ایک رکعت پڑھ چکے تھے۔ چناچہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھ لی تو میں کھڑا ہوا اور اپنی رہ جانے والی رکعت پڑھنے لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بُو محسوس کی تو فرمایا: ”جو شخص اس ترکاری میں سے کھائے تو وہ ہرگز ہماری مسجد کے قریب نہ آئے۔ جب تک اس کہ اس کی بُو نہ چلی جائے۔“ حضرت مغیرہ کہتے ہیں: پس جب میں نے نماز پوری کرلی تو میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے کوئی عُذر ہے۔ آپ مجھے اپنا ہاتھ عنایت فرمائیں۔ حضرت مغیرہ کہتے ہیں۔ بخدا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بہت نرم پایا چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اپنا ہاتھ تھما دیا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ کو اپنے سینہ کی طرف لے گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں پٹی باندھی ہوئی محسوس کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یقینا تمہارے لیئے یہ عذر ہے۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأطعمة/حدیث: 26080]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26080، ترقيم محمد عوامة 24974)
ترقیم عوامۃ: 24975 ترقیم الشثری: -- 26081
٢٦٠٨١ - حدثنا ابو بكر قال: (حدثنا) (١) الفضل بن دكين عن يونس (عن) (٢) ابي إسحاق عن عمير بن (قميم) (٣) عن شريك بن حنبل قال: قال رسول الله ﷺ: ⦗٤٣٣⦘"من اكل من هذه البقلة الخبيثة فلا يقربن مسجدنا يعني الثوم" (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ز].
(٢) في [هـ]: (بن).
(٣) في [أ، ح، ط]: (قسم).
(٤) مرسل مجهول، شريك تابعي، وعمير وشريك مجهولان.
حضرت شریک بن حنبل سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص اس گندی ترکاری کو کھائے (یعنی تھوم کو کھائے) تو پھر وہ ہماری جائے نماز کے قریب نہ آئے۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأطعمة/حدیث: 26081]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26081، ترقيم محمد عوامة 24975)