🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

25. من (كان) يستحب التمر في أهله
جو حضرات، اپنے گھر میں کھجور رکھنے کو مستحب سمجھتے ہیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 24984 ترقیم الشثری: -- 26090
٢٦٠٩٠ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا زيد بن الحباب قال: حدثنا يعقوب بن محمد ابن طحلاء قال: حدثنا ابو الرجال عن امه عمرة عن عائشة قالت: قال لي رسول الله ﷺ:"يا عائشة! بيت ليس فيه تمر جياع (اهله) (١) " (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ز].
(٢) صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٠٤٦)، وأحمد (٢٥٤٥٨).

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ مجھے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’ ’ اے عائشہ رضی اللہ عنہا! وہ گھر والے بھوکے ہوتے ہیں جن کے گھر میں کھجور نہ ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأطعمة/حدیث: 26090]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26090، ترقيم محمد عوامة 24984)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 24985 ترقیم الشثری: -- 26091
٢٦٠٩١ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عبدة بن سليمان عن (ابي) (١) منصور عن إبراهيم قال: كانوا يستحبون ان لا يفارق بيوتهم التمر.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ز].
حضرت ابراہیم سے روایت ہے کہ پہلے لوگ اس بات کو محبوب رکھتے تھے کہ ان کے گھروں سے کھجور ختم نہ ہو۔ حضرت ابراہیم کہتے ہیں۔ میں اس کی تفسیر بیان کرتا ہوں جب ان لوگوں کے ہاں کوئی داخل ہوتا اور وہ اس کی عزت و اکرام کرنا چاہتے تو اس کو روک لے تے اور اس کو کھانا پیش کرتے۔ پس اگر وہ اس کو کھا لیتا تو اس کا اکرام کرتے اور اگر وہ اس کو نہ کھا تا تو یہی ان کے لئے کفایت کرجاتا۔ حضرت ابراہیم کہتے ہیں۔ ایک دوسری تشریح کے مطابق، کوئی سائل آتا اور گھر والوں کے پاس روٹی نہ ہوتی اور وہ گھر والے، خود کو اس بات پر آمادہ پاتے کہ اس سائل کو گندم یا آٹے میں سے دیں تو وہ اس کو ایک، دو کھجوریں وغیرہ دے دیتے۔ پس یہ گھر والوں کو بھی کفایت کر جاتی اور سائل کا کام بھی چل جاتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأطعمة/حدیث: 26091]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26091، ترقيم محمد عوامة 24985)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 26092
٢٦٠٩٢ - قال إبراهيم: وسافسره: كان إذا دخل عليهم الداخل فارادوا كرامته حبسوه وقربوه من قريب، فإن اكل منه (اكرموه) (١) ، وإن لم ياكل فقد اجزا عنهم.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (كرموه).
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26092، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 26093
٢٦٠٩٣ - قال إبراهيم: واخرى يجيء السائل وليس عند اهل البيت خبز، (ولا يواتي) (١) انفسهم ان يحثوا له من الدقيق والحنطة، فيعطونه (التمرة و) (٢) التمرتين ونحو ذلك، (فيعبر) (٣) عن اهل البيت ويستقيم (به) (٤) السائل.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح، هـ]: (ولا يداني).
(٢) سقط من: [جـ، ز].
(٣) أي: يكفي ويجزئ وهي غير منقوطة في: [ط، هـ].
(٤) في [جـ، ز]: زيادة (به).

تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26093، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 24986 ترقیم الشثری: -- 26094
٢٦٠٩٤ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا حفص عن مصعب بن سليم عن انس قال: رايت النبي ﷺ ياكل (مقعيا) (١) تمرا (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) كذا في: [جـ]، وفي بقية النسخ: (معي تمرًا).
(٢) حسن؛ مصب بن سليم صدوق، أخرجه مسلم (٢٠٤٤)، وأحمد (١٢٨٦٠).

حضرت انس سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس حالت میں کھجوریں کھاتے دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی پنڈلی اور ران کو ملا کر کھڑا کیا ہوا تھا اور کو لہوں پر بیٹھے ہوئے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأطعمة/حدیث: 26094]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26094، ترقيم محمد عوامة 24986)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں