مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
27. من كان يأكل (متكئا)
جو لوگ تکیہ لگا کر کھاتے تھے
ترقیم عوامۃ: 25003 ترقیم الشثری: -- 26110
٢٦١١٠ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن يزيد (١) بن ابي زياد قال: اخبرني من راى ابن عباس ياكل متكئا (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح، ط]: زيادة (أخبرنا).
(٢) مجهول؛ لإبهام الراوي.
حضرت یزید بن ابی زیاد سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مجھے اس آدمی نے بتایا جس نے (خود) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو تکیہ لگا کر کھاتے دیکھا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأطعمة/حدیث: 26110]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26110، ترقيم محمد عوامة 25003)
ترقیم عوامۃ: 25004 ترقیم الشثری: -- 26111
٢٦١١١ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا (١) فضيل بن عياض عن عبد العزيز بن رفيع عن مجاهد قال: ما اكل رسول الله ﷺ متكئا (قط) (٢) إلا ⦗٤٤٣⦘ مرة (٣) ، فقال:"اللهم إني عبدك ورسولك" (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ط]: زيادة (أبو).
(٢) سقط من: [أ، ح، ط، هـ].
(٣) في [هـ]؛ زاد (ثم نزع)، نقلًا عن فتح الباري (٩/ ٥٤١).
(٤) مرسل؛ مجاهد تابعي.
حضرت مجاہد سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف ایک مرتبہ تکیہ لگا کر کھانا کھایا تھا اور فرمایا تھا: ”اے اللہ! یقینا میں تیرا بندہ ہوں اور تیرا رسول ہوں۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأطعمة/حدیث: 26111]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26111، ترقيم محمد عوامة 25004)
ترقیم عوامۃ: 25005 ترقیم الشثری: -- 26112
٢٦١١٢ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا (هشيم) (١) عن حصين قال: قدم خالد بن الوليد ها هنا إذا هو (بمسلحة) (٢) لآل فارس عليهم رجل يقال له: هزار مرد، قال: فذكروا من (عظم) (٣) خلقه وشجاعته، قال: فقتله خالد بن الوليد ثم دعا بغدائه فتغدى وهو متكئ على (جيفته) (٤) يعني جسده (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح، ط، هـ]: (هشام).
(٢) في [هـ]: (بمسلمة)، والمسلحة الفرقة التي معها سلاح.
(٣) في [ط، هـ]: (أعظم).
(٤) في [أ، ح، هـ]: (جثته).
(٥) منقطع؛ حصين لم يدرك خالدًا.
حضرت حصین سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب حضرت خالد بن ولید، یہاں پر تشریف لائے تو آپ کا گزر اہل فارس کی ایک چوکی پر ہوا جہاں ان پر ایک مرد نگران تھا جس کو ”ہزار مرد“ کہا جاتا تھا۔ راوی کہتے ہیں پس لوگوں نے اس کی جسامت کا حجم اور اس کی شجاعت کا ذکر کیا۔ راوی کہتے ہیں، حضرت خالد بن ولید نے اس کو قتل کردیا پھر آپ نے ناشتہ منگوایا اور آپ نے اس کے مردار جسم پر تکیہ لگائے ہوئے ناشتہ کیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأطعمة/حدیث: 26112]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26112، ترقيم محمد عوامة 25005)
ترقیم عوامۃ: 25006 ترقیم الشثری: -- 26113
٢٦١١٣ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابو خالد الاحمر عن حجاج عن عطاء قال: (إن) (١) كنا ناكل ونحن متكئون.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ح، ط]: (إنا).
حضرت عطاء سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ کھایا کرتے تھے درآنحالیکہ ہم تکیہ لگائے ہوتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأطعمة/حدیث: 26113]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26113، ترقيم محمد عوامة 25006)
ترقیم عوامۃ: 25007 ترقیم الشثری: -- 26114
٢٦١١٤ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن إبراهيم قال: كانوا يكرهون ان ياكلوا تكاة نحافة ان تعظم بطونهم.
حضرت ابراہیم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ پہلے لوگ تکیہ لگا کر کھانے کو اس خوف سے ناپسند کرتے تھے کہ کہیں ان کے پیٹ نہ بڑھ جائیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأطعمة/حدیث: 26114]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26114، ترقيم محمد عوامة 25007)
ترقیم عوامۃ: 25008 ترقیم الشثری: -- 26115
٢٦١١٥ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابو اسامة عن ابي هلال قال: رايت ابن سيرين ياكل متكئا.
حضرت ابو ہلال سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن سیرین کو تکیہ لگائے کھاتے دیکھا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأطعمة/حدیث: 26115]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26115، ترقيم محمد عوامة 25008)
ترقیم عوامۃ: 25009 ترقیم الشثری: -- 26116
٢٦١١٦ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا شريك عن علي بن الاقمر عن ابي جحيفة يرفعه قال: اما انا فلا آكل متكئا (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) حسن؛ شريك صدوق على الصحيح؛ أخرجه البخاري (٥٣٩٩)، وأحمد (١٨٧٥٤).
حضرت ابو ححیفہ سے روایت ہے اور وہ اس کو مرفوعاً بیان کرتے ہیں کہ بہر حال میں تو تکیہ لگا کر نہیں کھاتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأطعمة/حدیث: 26116]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26116، ترقيم محمد عوامة 25009)
ترقیم عوامۃ: 25010 ترقیم الشثری: -- 26117
٢٦١١٧ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون قال: (حدثنا) (١) (حسام) (٢) ابن (مصك) (٣) (عن) (٤) ابن سيرين قال: دخلت على عبيدة فسالته عن الرجل ياكل متكئا، فاكل متكئا.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (نا).
(٢) في [أ، ح، ط]: (حسان).
(٣) في [ز]: (مصل).
(٤) سقط من: [هـ].
حضرت ابن سیرین سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عبیدہ کے ہاں حاضر ہوا اور ان سے میں نے تکیہ لگا کر کھانے والے شخص کے متعلق سوال کیا؟ تو انہوں نے مجھے تکیہ لگا کر کھا کر دکھایا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأطعمة/حدیث: 26117]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26117، ترقيم محمد عوامة 25010)