🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

30. الأكل مع المجذوم
جذام والے آدمی کے ساتھ کھانا
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 25021 ترقیم الشثری: -- 26128
٢٦١٢٨ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا يحيى بن سعيد عن حبيب بن (شهيد) (١) عن (ابن) (٢) بريدة ان سلمان كان (يصنع) (٣) الطعام من كسبه، فيدعو المجذومين فياكل معهم (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (سعيد).
(٢) في [جـ]: (أبي).
(٣) في [ط]: (يضع).
(٤) صحيح.

حضرت ابن بریدۃ سے روایت ہے کہ حضرت سلمان، بذات خود اپنی کمائی سے کھانا تیار کرتے پھر جذام والوں کو بلاتے اور ان کے ہمراہ کھانا کھاتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأطعمة/حدیث: 26128]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26128، ترقيم محمد عوامة 25021)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 25022 ترقیم الشثری: -- 26129
٢٦١٢٩ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن علية عن خالد عن ابي معشر عن رجل انه راى ابن عمر ياكل مع مجذوم، فجعل يضع يده موضع يد المجذوم (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مجهول، لإبهام الراوي.
ایک آدمی سے روایت ہے کہ اس نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو جُذام والے آدمی کے ساتھ کھانا کھاتے دیکھا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما، جذام والے کے ہاتھ کی جگہ اپنا ہاتھ رکھ رہے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأطعمة/حدیث: 26129]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26129، ترقيم محمد عوامة 25022)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 25023 ترقیم الشثری: -- 26130
٢٦١٣٠ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن عبد الرحمن بن القاسم عن ابيه قال: قدم على ابي بكر وفد من ثقيف، فاتي بطعام فدنا القوم، وتنحى رجل به هذا الداء -يعني الجذام- فقال (له) (١) ابو بكر: ادنه، فدنا (فقال) (٢) : كل، فاكل، وجعل ابو بكر يضع يده موضع يده (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط في: [ط].
(٢) في [جـ، ز]: (قال).
(٣) منقطع، القاسم لم يدرك أبا بكر.

حضرت عبد الرحمن بن قاسم، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر کے پاس قبیلہ ثقیف کا ایک وفد آیا، چناچہ کھانا لایا گیا تو سب لوگ قریب ہوگئے اور ایک آدمی جس کو یہ جذام والی بیماری تھی ایک طرف ہوگیا۔ حضرت ابوبکر نے اس سے کہا قریب ہو جاؤ، چناچہ وہ قریب ہوگیا۔ پھر حضرت ابوبکر نے کہا کھاؤ۔ پس اس نے کھایا اور حضرت ابوبکر نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ کی جگہ رکھنا شروع کیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأطعمة/حدیث: 26130]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26130، ترقيم محمد عوامة 25023)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 25024 ترقیم الشثری: -- 26131
٢٦١٣١ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا يونس بن محمد عن مفضل بن فضالة عن حبيب بن شهيد عن محمد بن المنكدر عن جابر بن عبد الله ان رسول الله ﷺ اخذ بيد مجذوم فوضعها معه في قصعة، فقال: كل بسم الله ثقة بالله وتوكلا (على الله) (١) (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ز]: (عليه).
(٢) ضعيف؛ لضعف مفضل بن فضالة، أخرجه أبو داود (٣٩٢٥)، والترمذي (١٨١٧)، وابن ماجه (٣٥٤٢)، وابن حبان (٦١٢٠)، والحاكم ٤/ ١٣٦، وأبو يعلى (١٨٢٢)، والطحاوي ٤/ ٣٠٩، وعبد ابن حميد (١٠٩٢)، وابن السني (٤٦٣)، والبيهقي ٧/ ٢١٩، وابن عدي ٦/ ٤٠٩، والعقيقي ٤/ ٢٤٢، والقزويني في التدوين ٢/ ٤٠٤، وابن جرير في مسند علي من تهذيب الآثار (٨٥) وابن شاهين في ناسخ الحديث (٥٤١)، وابن الجوزي في العلل (١٤٥٦)، وابن أبي الدنيا في التواضع (٨٣).

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جذام والے آدمی کا ہاتھ پکڑا اور اس کو اپنے ساتھ پیالہ میں شامل کیا اور فرمایا: ”کھاؤ، بسم اللہ، اللہ پر اعتماد اور اللہ پر توکل کرتے ہوئے۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأطعمة/حدیث: 26131]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26131، ترقيم محمد عوامة 25024)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 25025 ترقیم الشثری: -- 26132
٢٦١٣٢ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن عمرو عن يحيى بن جعدة قال: جاء رجل اسود به جدري قد تقشر، لا يجلس (١) جنب احد إلا اقامه، فاخذه رسول الله ﷺ فاجلسه إلى جنبه (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: زائدة (إلا).
(٢) مرسل؛ يحيى بن جعدة تابعي، أخرجه ابن أبي الدنيا في التواضع (٨١).

حضرت یحییٰ بن جعدہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک سیا ہ رنگ، چیچک زدہ آدمی آیا، جس کے چھلکے اتر رہے تھے۔ وہ جس کے پہلو میں بیٹھتا وہی اس کو اٹھا دیتا تھا، لیکن جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اس کو اپنے پہلو میں بٹھا لیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأطعمة/حدیث: 26132]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26132، ترقيم محمد عوامة 25025)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 25026 ترقیم الشثری: -- 26133
٢٦١٣٣ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن ابي (بكير) (١) عن عكرمة قال: لزق (بابن) (٢) عباس مجذوم فقلت له: تلزق بمجذوم؟ قال: (فامض) (٣) (فلعله) (٤) خير مني ومنك (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، جـ، ح، ط]: (بكر).
(٢) في [ح]: (ابن).
(٣) في [أ، ب، جـ، ط، هـ]: (فامضي).
(٤) في [هـ]: (فلعه).
(٥) صحيح.

حضرت عکرمہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو ایک مجذوم چمٹ گیا تو میں نے آپ سے کہا آپ مجذوم کے ساتھ چمٹے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: چھوڑو، ہوسکتا ہے کہ وہ تم سے اور مجھ سے بہتر ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأطعمة/حدیث: 26133]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26133، ترقيم محمد عوامة 25026)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 25027 ترقیم الشثری: -- 26134
٢٦١٣٤ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن قيس (عن) (١) مقسم قال: كانوا (يتقون) (٢) ان ياكلوا مع الاعمى والاعرج والمريض حتى نزلت هذه الآية: ﴿ليس على الاعمى حرج ولا على الاعرج حرج ولا على المريض حرج﴾ [النور: ٦١] .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ز].
(٢) في [ح]: (يتقو).

حضرت مقسم سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ لوگ اندھے، لنگڑے اور مریض کے ہمراہ کھانا کھانے سے پرہیز کرتے تھے یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی۔: نابینا، اپاہج اور مریض پر کچھ حرج نہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأطعمة/حدیث: 26134]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26134، ترقيم محمد عوامة 25027)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 25028 ترقیم الشثری: -- 26135
٢٦١٣٥ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن الاعمش عن منذر عن الربيع بن (خثيم) (١) انه قال لاهله: اصنعوا لي خبيصا، قال: فصنعوا فدعا رجلا كان به خبل قال: فجعل الربيع (٢) يلقمه ولعابه يسيل، فلما اكل وخرج، قالت له اهله: تكلفنا وصنعنا فيه اطعمته ما (يدري) (٣) هذا ما اكل؟ قال الربيع: لكن الله يدري.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح]: (خيثم).
(٢) في [أ، ح]: زيادة (يقول).
(٣) في [أ، ح، ط]: (تدري).

حضرت ربیع بن خثیم سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ تم میرے لیے کھجور اور گھی کا حلوہ تیار کرو۔ راوی کہتے ہیں۔ گھر والوں نے یہ تیار کردیا۔ پھر انہوں نے ایک ایسے آدمی کو بلایا جس کو دیوانگی تھی۔ تو حضرت ربیع نے اس کو لقمہ بنا کر کھلانا شروع کیا حالانکہ اس کا تھوک بہہ رہا تھا۔ چناچہ جب اس نے کھانا کھالیا اور چلا گیا تو حضرت ربیع سے ان کی گھر والی نے کہا۔ ہم نے اس حلوہ کو بنانے میں اس قدر تکلف کیا اور آپ نے اس کو کھلا دیا؟ اس کو کیا معلوم کہ اس نے کیا کھایا ہے؟ حضرت ربیع نے جواب دیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کو تو معلوم ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأطعمة/حدیث: 26135]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26135، ترقيم محمد عوامة 25028)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 25029 ترقیم الشثری: -- 26136
٢٦١٣٦ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن نافع (بن) (١) القاسم عن جدته ⦗٤٥٠⦘ ام القاسم عن عائشة قالت: كان لي مولى مجذوم، فكان ينام على فراشي وياكل في صحافي، ولو كان عاش كان (٢) على ذلك (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ح]: (عن).
(٢) في [جـ، ز]: (بقى).
(٣) مجهول؛ لجهالة أم القاسم.

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ میرا ایک مجذوم آزاد کردہ غلام تھا۔ اور وہ میرے بستر پر سو جاتا تھا۔ اور میرے پیالہ میں کھا لیتا تھا۔ اگر وہ (اب) زندہ ہوتا تو اسی طرح (معاملہ) باقی ہوتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأطعمة/حدیث: 26136]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26136، ترقيم محمد عوامة 25029)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں