🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

20. موضع الإزار؛ أين هو؟
ازار کی جگہ کہاں پر ہے؟
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 25324 ترقیم الشثری: -- 26440
٢٦٤٤٠ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا سهل بن يوسف عن حميد عن انس قال: ⦗٥٢٩⦘ الإزار إلى نصف الساق او إلى الكعبين، لا خير فيما هو اسفل (من) (١) ذلك (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (بن).
(٢) صحيح.

حضرت انس سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ازار، نصف پنڈلی تک ہو یا ٹخنوں تک ہو جو ازار اس سے نیچے ہو اس میں کوئی خیر نہیں ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب اللباس/حدیث: 26440]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26440، ترقيم محمد عوامة 25324)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 25325 ترقیم الشثری: -- 26441
٢٦٤٤١ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن (ابن) (١) عون عن ابن سيرين قال: كانوا يكرهون الإزار فوق نصف الساق.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (أبي)، وفي [ز]: (ابن أبي).
حضرت ابن سیرین سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ پہلے لوگ، نصف پنڈلی سے اوپر ازار کو ناپسند کرتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب اللباس/حدیث: 26441]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26441، ترقيم محمد عوامة 25325)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 25326 ترقیم الشثری: -- 26442
٢٦٤٤٢ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن سليمان بن مسهر عن خرشة ان (عمر) (١) دعا بشفرة فرفع إزار رجل عن كعبيه ثم قطع ما كان اسفل من ذلك، قال: فكاني انظر إلى (ذباذبه) (٢) (تسيل) (٣) على (عقبيه) (٤) (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ز]: (عمير).
(٢) في [ز]: (ذبانة)، وذباذبه: أطراف ثوبه.
(٣) في [أ، ح، ط]: (يسيل).
(٤) في [أ]: (عاقبه).
(٥) صحيح.

حضرت حرشہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر نے استرا منگوایا پھر ایک آدمی کا ازار اس کے ٹخنوں سے اوپر کیا پھر جو اس سے نیچے تھے ا س کو کاٹ دیا۔ راوی کہتے ہیں گویا کہ میری آنکھوں کے سامنے وہ منظر ہے کہ کپڑے کے ٹکڑے اس کی ایڑیوں پر گر رہے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب اللباس/حدیث: 26442]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26442، ترقيم محمد عوامة 25326)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 25327 ترقیم الشثری: -- 26443
٢٦٤٤٣ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا إسحاق بن سليمان عن ابي سنان عن ابي إسحاق قال: رايت ناسا من اصحاب رسول الله ﷺ ياتزرون على انصاف سوقهم، فذكر اسامة بن زيد وابن عمر وزيد بن ارقم والبراء بن عازب (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح.
حضرت ابو اسحق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں سے بہت سے لوگوں کو دیکھا ہے جو اپنی نصف پنڈلیوں پر ازار باندھتے تھے۔ پھر آپ نے حضرت اسامہ بن زید، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما، حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ اور حضرت براء بن عازب کا ذکر فرمایا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب اللباس/حدیث: 26443]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26443، ترقيم محمد عوامة 25327)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 25328 ترقیم الشثری: -- 26444
٢٦٤٤٤ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا يحيى بن سعيد عن محمد بن ابي يحيى عن عكرمة قال: رايت ابن عباس ياتزر (فارسل) (١) إزاره من بين يديه حتى تقع ⦗٥٣٠⦘ (حاشيتهما) (٢) على ظهر قدميه (ويرفعهما) (٣) من مؤخره (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ز]: (فيرسل).
(٢) في [ط]: (حاشيهما)، وفي [هـ]: (حاشيته)، وفي [ز]: (حاتهما).
(٣) في [هـ]: (ويرفع).
(٤) صحيح.

حضرت عکرمہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو ازار باندھتے ہوئے دیکھا۔ چناچہ وہ اپنا ازار، اپنے آگے سے لٹکا دیتے تھے۔ یہاں تک کہ اس کے دونوں کنارے آپ کے قدموں کی پشت پر آجاتے اور (پھر) آپ ان کو پچھلی جانب سے اٹھا لیتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب اللباس/حدیث: 26444]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26444، ترقيم محمد عوامة 25328)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 25329 ترقیم الشثری: -- 26445
٢٦٤٤٥ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا ابو سليمان المكتب عن ابيه قال: (١) رايت عليا عليه إزار (٢) (نجراني) (٣) إلى انصاف ساقيه (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ح، هـ]: زيادة (ما).
(٢) في [هـ]: زيادة (إلا).
(٣) في [أ، ح]: (بحراني)، وفي [هـ]: (يحاذي)، وانظر: طبقات ابن سعد (٣/ ٢٨).
(٤) مجهول؛ لجهالة والد أبي سليمان.

حضرت ابو سلیمان مکتب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ آپ (کے جسم) پر نجرانی ازار تھا اور آپ کی پنڈلیوں کے نصف میں تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب اللباس/حدیث: 26445]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26445، ترقيم محمد عوامة 25329)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 25330 ترقیم الشثری: -- 26446
٢٦٤٤٦ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن موسى بن دهقان قال: رايت ابا سعيد وابن عمر إزارهما إلى انصاف سوقهما (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) ضعيف: لضعف موسى بن دهقان.
حضرت موسیٰ بن دہقان سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو سعید اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا۔ ان دونوں حضرات کے ازار، ان کی پنڈلیوں کے نصف تک تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب اللباس/حدیث: 26446]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26446، ترقيم محمد عوامة 25330)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 25331 ترقیم الشثری: -- 26447
٢٦٤٤٧ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عبيد الله بن موسى قال: اخبرنا موسى بن (عبيدة) (١) عن إياس بن سلمة عن ابيه عن عثمان بن عفان: كان إزاره إلى نصف ساقيه (قال) (٢) : فقيل له في ذلك، فقال: هذه إزرة حبيبي -يعني- النبي ﵇ (٣) (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، جـ، هـ]: (عيينة).
(٢) سقط من: [ط، هـ].
(٣) في [جـ]: ﷺ.
(٤) ضعيف؛ لضعف موسى بن عبيدة.

حضرت ایاس بن سلمہ، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عثمان بن عفان کا ازار، ان کی نصف پنڈلی تک تھا۔ راوی کہتے ہیں چناچہ ان سے اس کے بارے میں کہا گیا تو انہوں نے فرمایا: یہ میرے محبوب کا ازار ہے یعنی جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ازار کا طریقہ یہی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب اللباس/حدیث: 26447]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26447، ترقيم محمد عوامة 25331)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 25332 ترقیم الشثری: -- 26448
٢٦٤٤٨ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون قال: (حدثنا) (١) شريك عن عبد الملك بن عمير عن (حصين) (٢) بن قبيصة عن المغيرة بن شعبة قال: قال رسول الله ﷺ:"يا سفيان بن سهل! لا تسبل، فإن الله لا يحب المسبلين" (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ز]: (أنبأنا)، وفي [جـ]: (أخبرنا).
(٢) في [ز]: (عضين).
(٣) حسن؛ شريك وحصين بن قبيصة صدوقان، أخرجه أحمد (١٨٩١٥) والنسائي في الكبرى (٩٧٠٤)، وابن ماجه (٣٥٧٤)، وابن حبان (٥٤٤٢)، والطبراني ٢٠/ (١٠٢٤)، وأبو القاسم البغوي في الجعديات (٢٢٥٥).

حضرت مغیرہ بن شعبہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے سفیان بن سہل! تو کپڑا نہ لٹکا۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کپڑا لٹکانے والوں کو پسند نہیں کرتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب اللباس/حدیث: 26448]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26448، ترقيم محمد عوامة 25332)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں