🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

51. باب اسْتِحْبَابِ رَمْيِ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ رَاكِبًا وَبَيَانِ قَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِتَأْخُذُوا مَنَاسِكَكُمْ» :
باب: قربانی کے دن جمرہ عقبہ کو سوار ہو کر کنکریاں مارنے کا استحباب اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے بیان میں کہ ”تم مجھ سے حج کے احکام سیکھ لو“۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1297 ترقیم شاملہ: -- 3137
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، جميعا عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ ، قَالَ ابْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا ، يَقُولُ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي عَلَى رَاحِلَتِهِ يَوْمَ النَّحْرِ، وَيَقُولُ: لِتَأْخُذُوا مَنَاسِكَكُمْ، فَإِنِّي لَا أَدْرِي لَعَلِّي لَا أَحُجُّ بَعْدَ حَجَّتِي هَذِهِ ".
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ قربانی کے دن اپنی سواری پر (سوار ہو کر) کنکریاں مار رہے تھے اور فرما رہے تھے: تمہیں چاہیے کہ تم اپنے حج کے طریقے سیکھ لو، میں نہیں جانتا شاید اس حج کے بعد میں (دوبارہ) حج نہ کر سکوں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3137]
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے قربانی کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سواری پر کنکریاں مارتے دیکھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: مجھ سے حج کے احکام سیکھ لو، کیونکہ میں نہیں جانتا شاید اس حج کے بعد میں حج نہ کر سکوں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3137]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1297
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1298 ترقیم شاملہ: -- 3138
وَحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ حُصَيْنٍ ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ الْحُصَيْنِ ، قَالَ: سَمِعْتُهَا تَقُولُ: حَجَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّةَ الْوَدَاعِ، فَرَأَيْتُهُ حِينَ رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ، وَانْصَرَفَ وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ، وَمَعَهُ بِلَالٌ، وَأُسَامَةُ، أَحَدُهُمَا يَقُودُ بِهِ رَاحِلَتَهُ، وَالْآخَرُ رَافِعٌ ثَوْبَهُ عَلَى رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الشَّمْسِ، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْلًا كَثِيرًا، ثُمَّ سَمِعْتُهُ يَقُولُ: " إِنْ أُمِّرَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ مُجَدَّعٌ حَسِبْتُهَا قَالَتْ: أَسْوَدُ يَقُودُكُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى، فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطِيعُوا ".
معقل نے زید بن ابی انیسہ سے حدیث بیان کی انہوں نے یحییٰ بن حصین سے اور انہوں نے اپنی دادی حضرت ام حصین رضی اللہ عنہا سے روایت کی، (یحییٰ بن حصین نے) کہا: میں نے ان سے سنا کہہ رہی تھیں حجۃ الوداع کے موقع پر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں حج کیا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت دیکھا جب آپ نے جمرہ عقبہ کو کنکریاں ماریں اور واپس پلٹے آپ اپنی سواری پر تھے اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ آپ کے ساتھ تھے ان میں سے ایک آگے سے (مہار پکڑ کر) آپ کی سواری کو ہانک رہا تھا اور دوسرا دھوپ سے (بچاؤ کے لیے) اپنا کپڑا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک پر تانے ہوئے تھا۔ کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس موقع پر) بہت سی باتیں ارشاد فرمائیں۔ پھر میں نے آپ سے سنا آپ فرما رہے تھے: اگر کوئی کٹے ہوئے اعضاء والا۔۔۔ میرا خیال ہے انہوں (حضرت ام حصین رضی اللہ عنہا) نے کہا:۔۔۔ کالا غلام بھی تمہارا امیر بنا دیا جائے جو اللہ کی کتاب کے مطابق تمہاری قیادت کرے تو تم اس کی بات سننا اور اطاعت کرنا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3138]
حضرت ام الحصین رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں، میں نے حجۃ الوداع آپ کے ساتھ کیا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، جب آپ نے جمرہ عقبہ پر کنکریاں ماریں اور واپس پلٹے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر تھے، حضرت بلال اور اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، ان میں سے ایک آپ کی سواری آ گے سے پکڑ کر چل رہا تھا، اور دوسرا دھوپ سے بچانے کے لیے اپنا کپڑا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر بلند کیے ہوئے تھا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سایہ کیے ہوئے تھا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی باتیں فرمائیں، پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: اگر تم پر ایک نکٹا (نک کٹا) غلام (راوی کے خیال کے مطابق) سیاہ فام، امیر مقرر کر دیا جائے، اور تمہاری قیادت کتاب اللہ کے مطابق کرے، تو اس کی بات سننا اور اس پر عمل کرنا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3138]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1298
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1298 ترقیم شاملہ: -- 3139
وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ أُمِّ الْحُصَيْنِ جَدَّتِهِ، قَالَتْ: " حَجَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّةَ الْوَدَاعِ، فَرَأَيْتُ أُسَامَةَ، وَبِلَالًا، وَأَحَدُهُمَا آخِذٌ بِخِطَامِ نَاقَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالْآخَرُ رَافِعٌ ثَوْبَهُ يَسْتُرُهُ مِنَ الْحَرِّ، حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ "، قَالَ مُسْلِم: وَاسْمُ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ خَالِدُ بْنُ أَبِي يَزِيدَ، وَهُوَ خَالُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ، رَوَى عَنْهُ، وَكِيعٌ، وَحَجَّاجٌ الْأَعْوَرُ.
ابوعبدالرحیم نے زید بن ابی انیسہ سے انہوں نے یحییٰ بن حصین سے اور انہوں نے اپنی دادی حضرت ام حصین رضی اللہ عنہا سے روایت کی انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ الوداعی حج کیا تو میں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو دیکھا ان میں سے ایک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی نکیل تھامے ہوئے تھا اور دوسرا کپڑے کو اٹھائے گرمی سے اوٹ کر رہا تھا یہاں تک کہ آپ نے جمرہ عقبہ کو کنکریاں ماریں۔ امام مسلم رحمہ اللہ نے کہا: ابوعبدالرحیم کا نام خالد بن ابی یزید ہے اور وہ محمد بن سلمہ کے ماموں ہیں ان سے وکیع اور حجاج اعور نے (حدیث) روایت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3139]
حضرت ام الحصین رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں، میں نے حجۃ الوداع، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں کیا اور میں نے بلال اور اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو دیکھا، ان میں سے ایک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی مہار کو پکڑے ہوئے تھا اور دوسرا اپنا کپڑا بلند کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گرمی سے سایہ کیے ہوئے تھا، حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرہ عقبہ پر کنکریاں ماریں، امام مسلم فرماتے ہیں، ابو عبدالرحیم کا نام خالد بن ابی یزید ہے، اور یہ محمد بن مسلمہ کا ماموں ہے، وکیع اور حجاج اعور اس کے شاگرد ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3139]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1298
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں