مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
87. الرجل يتكئ على (المرافق) المصورة
تصویروں والے تکیے پر ٹیک لگانا کیسا ہے؟
ترقیم عوامۃ: 25794 ترقیم الشثری: -- 26925
٢٦٩٢٥ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن اسامة (بن) (١) زيد عن عبد الرحمن بن القاسم عن (ابيه) (٢) عن عائشة (قالت) (٣) : سترت (سهوة) (٤) ⦗١١٢⦘ (لي) (٥) (تعني) (٦) الداخل (بستر) (٧) فيه تصاوير، فلما قدم النبي ﷺ هتكه فجعلت منه (منبذتين) (٨) فرايت النبي ﷺ متكئا على (إحداهما) (٩) (١٠) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ز]: (عن).
(٢) في [أ]: (أمه).
(٣) في [ز]: (قال).
(٤) في [جـ، ز]: (سمرة).
(٥) سقط من: [أ، ح، ط].
(٦) في [أ، ح، ط]: (إلى بيتي).
(٧) في [هـ]: (يستر).
(٨) في [هـ]: (مسندتين).
(٩) في [أ، ح، ط] (أحدهما).
(١٠) حسن؛ أسامة صدوق، أخرجه البخاري (٢٤٧٩)، ومسلم (٢١٠٧).
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے گھر میں تصویروں والے پردے لگائے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر تشریف لائے تو آپ نے وہ پردے اتار دئیے۔ میں نے ان کے تکیے بنا لیے تو میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان تکیوں میں سے ایک سے ٹیک لگا رکھی تھی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب اللباس/حدیث: 26925]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26925، ترقيم محمد عوامة 25794)
ترقیم عوامۃ: 25795 ترقیم الشثری: -- 26926
٢٦٩٢٦ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا حفص عن الجعد رجل من اهل المدينة قال: حدثتني (ابنة) (١) سعد ان اباها جاء من فارس بوسائد فيها تماثيل (فكنا (نبسطها) ) (٢) (٣) (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (ابن).
(٢) في [أ، ح، ز]: (نبسطهما).
(٣) سقط من: [ط].
(٤) صحيح؛ الجعد هو ابن عبد الرحمن بن أوس المدني، وابنة سعد اسمها عائشة.
حضرت بنت سعد فرماتی ہیں کہ میرے والد فارس سے کچھ تکیے لائے جن پر تصویریں تھیں ہم ان تکیوں کو بچھایا کرتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب اللباس/حدیث: 26926]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26926، ترقيم محمد عوامة 25795)
ترقیم عوامۃ: 25796 ترقیم الشثری: -- 26927
٢٦٩٢٧ - (حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن ليث قال: رايت سالم بن عبد الله متكئا على وسادة حمراء فيها تماثيل) (١) فقلت له فقال: إنما يكره هذا لمن ينصبه ويصنعه.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ط].
حضرت لیث فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سالم بن عبد اللہ کو دیکھا کہ انہوں نے سرخ تکیے پر ٹیک لگا رکھی تھی جس میں تصاویر تھیں۔ میں نے ان سے اس بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ تصویریں اس شخص کے لئے مکروہ ہیں جو انہیں سجائے اور آویزاں کرے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب اللباس/حدیث: 26927]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26927، ترقيم محمد عوامة 25796)
ترقیم عوامۃ: 25797 ترقیم الشثری: -- 26928
٢٦٩٢٨ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن مبارك عن هشام بن عروة عن ابيه انه كان يتكئ على المرافق فيها التماثيل: الطير والرجال.
حضرت ہشام بن عروہ فرماتے ہیں کہ ان کے والد ایسے تکیوں پر ٹیک لگایا کرتے تھے جن پر پرندوں اور آدمیوں کی تصویریں ہوتی تھیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب اللباس/حدیث: 26928]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26928، ترقيم محمد عوامة 25797)
ترقیم عوامۃ: 25798 ترقیم الشثری: -- 26929
٢٦٩٢٩ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن علية عن علقمة عن محمد بن سيرين ⦗١١٣⦘ قال: نبئت عن (حطان) (١) بن عبد الله قال: اتى علي صاحب (لي) (٢) فناداني فاشرفت عليه فقال: قرئ علينا كتاب امير المؤمنين يعزم على من كان في بيته (ستر منصوب) (٣) فيه تصاوير لما وضعه، فكرهت ان (ابيت) (٤) عاصيا، فقمنا إلى قرام لنا فوضعته (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح، ز، ط]: (حيطان).
(٢) سقط من: [ط].
(٣) في [أ، ح، ز]: (سترًا منصوبًا)، وفي [ط]: (سترًا من صوبا).
(٤) في [أ، ح، ز]: (نبئت)، وفي [جـ]: (أنبئت).
(٥) مجهول؛ لجهالة شيخ ابن سيرين.
حضرت حطان بن عبد اللہ فرماتے ہیں کہ میرے پاس ایک دوست آیا اور اس نے مجھے آواز دی، میں نے جھانک کر اسے دیکھا تو اس نے کہا کہ ہمارے سامنے امیر المؤمنین کا ایک خط پڑھا گیا ہے جس میں لکھا تھا کہ جن گھروں میں ایسے پردے ہیں جن پر تصویریں ہیں ان پر لازم ہے کہ ان پردوں کو اتار دیں۔ پس میں نے رات کو گناہ گار ہونے کی حالت میں گزارنا مناسب نہ سمجھا اور ان پردوں کو اتار دیا۔ حضرت محمد فرماتے ہیں کہ اسلاف بچھائی جانے والی چیزوں پر تصویروں کو مکروہ خیال نہ فرماتے تھے بلکہ آویزاں کی جانے والی چیزوں پر تصویروں کو مکروہ خیال فرماتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب اللباس/حدیث: 26929]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26929، ترقيم محمد عوامة 25798)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 26930
٢٦٩٣٠ - قال: محمد كانوا لا يرون ما وطئ وبسط من التصاوير مثل الذي نصب.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26930، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: 25799 ترقیم الشثری: -- 26931
٢٦٩٣١ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا إسماعيل عن ايوب عن عكرمة قال: [كان (يقال) (١) في التصاوير في الوسائد والبسط (التي توطا) (٢) : هو ذل لها.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ز]: (يقول).
(٢) في [جـ]: (توكأ).
حضرت عکرمہ ان تصویروں کے بارے میں جو چٹائیوں یا تکیوں پر بنی ہوں فرمایا کرتے تھے کہ یہ ان کی تذلیل ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب اللباس/حدیث: 26931]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26931، ترقيم محمد عوامة 25799)
ترقیم عوامۃ: 25800 ترقیم الشثری: -- 26932
٢٦٩٣٢ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابو معاوية عن عاصم عن عكرمة] (١) كانوا يكرهون ما نصب من التماثيل نصبا، ولا يرون باسا بما وطئت الاقدام.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط ما بين المعكوفين من: [أ، ح، ط، هـ].
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ اسلاف آویزاں کی جانے والی چیزوں میں تصویر کو مکروہ قرار دیتے تھے لیکن بچھائی جانے والی چیزوں میں تصویر کے ہونے پر کوئی حرج نہ سمجھتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب اللباس/حدیث: 26932]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26932، ترقيم محمد عوامة 25800)
ترقیم عوامۃ: 25801 ترقیم الشثری: -- 26933
٢٦٩٣٣ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن هشام عن ابن سيرين انه كان لا يرى باسا بما وطئ من التصاوير.
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ بچھائی جانے والی چیز پر تصویر کے ہونے میں کوئی حرج نہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب اللباس/حدیث: 26933]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26933، ترقيم محمد عوامة 25801)
ترقیم عوامۃ: 25802 ترقیم الشثری: -- 26934
٢٦٩٣٤ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عبد السلام عن ليث عن مجاهد انه كان يكره ان يصور الشجر المثمر.
حضرت مجاہد پھل دار درخت کی تصویر کو بھی مکروہ قرار دیتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب اللباس/حدیث: 26934]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26934، ترقيم محمد عوامة 25802)