صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
64. باب اسْتِحْبَابِ بَعْثِ الْهَدْيِ إِلَى الْحَرَمِ لِمَنْ لاَ يُرِيدُ الذَّهَابَ بِنَفْسِهِ وَاسْتِحْبَابِ تَقْلِيدِهِ وَفَتْلِ الْقَلاَئِدِ وَأَنَّ بَاعِثَهُ لاَ يَصِيرُ مُحْرِمًا وَلاَ يَحْرُمُ عَلَيْهِ شيء بِذَلِكَ:
باب: بذات خود حرم نہ جانے والوں کے لئے قربانی کے جانور کے گلے میں قلادہ ڈال کر بھیجنے کا استحباب، اور بھیجنے والا محرم نہیں ہو گا، اور نہ اس پر کوئی چیز حرام ہو گی۔
ترقیم عبدالباقی: 1321 ترقیم شاملہ: -- 3194
وحدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْح ، قَالَ: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ . ح وحدثنا قُتَيْبَةُ ، حدثنا لَيْثٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أن عائشة ، قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهْدِي مِنَ الْمَدِينَةِ، فَأَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِهِ، ثُمَّ لَا يَجْتَنِبُ شَيْئًا مِمَّا يَجْتَنِبُ الْمُحْرِمُ "،
ہمیں لیث نے ابن شہاب سے حدیث بیان کی انہوں نے عروہ بن زبیر اور عمر ہ بنت عبدالرحمٰن سے روایت کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے قر بانی کے جا نوروں کا ہدیہ بھیجا کرتے تھے اور میں آپ کے ہدیے (کے جانوروں) کے لیے ہار بٹتی تھی پھر آپ کسی بھی ایسی چیز سے اجتناب نہ کرتے جس سے ایک احرام والا شخص اجتناب کرتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3194]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے ہدی روانہ فرماتے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے قلادے (ہار) بٹتی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان چیزوں سے پرہیز نہیں کرتے تھے جن سے محرم بچتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3194]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1321
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1321 ترقیم شاملہ: -- 3195
وحَدَّثَنِيهِ حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ،
یو نس نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ اس کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3195]
امام صاحب یہی حدیث ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3195]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1321
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1321 ترقیم شاملہ: -- 3196
وحدثناه سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا: حدثنا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحدثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَخَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالُوا: أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيَّ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِنَحْوِهِ.
ہمیں سفیان نے زہری سے حدیث بیان کی انہوں نے عروہ سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی نیز ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی انہوں نے کہا جیسے میں خود کو دیکھتی رہی ہوں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قر بانی کے ہار بٹ رہی ہوں۔۔۔ (آگے) اسی طرح ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3196]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1321
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1321 ترقیم شاملہ: -- 3197
وحدثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حدثنا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ: " كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ هَاتَيْنِ، ثُمَّ لَا يَعْتَزِلُ شَيْئًا وَلَا يَتْرُكُهُ ".
عبدالرحمٰن بن قاسم نے اپنے والد سے روایت کی انہوں نے کہا میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا وہ فر ما رہی تھیں: میں اپنے ان دونوں ہاتھوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بھیجے جا نے والے جانوروں کے ہا ر بٹتی تھی پھر آپ نہ (ایسی) کسی چیز سے الگ ہو تے اور نہ (ایسی کوئی چیز) ترک کرتے تھے (جو احرام کے بغیر آپ کیا کرتے تھے) [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3197]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانیوں کے ہار اپنے ان دونوں ہاتھوں سے بٹتی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ کسی چیز سے الگ ہوتے اور نہ ہی کسی چیز کو چھوڑتے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3197]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1321
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1321 ترقیم شاملہ: -- 3198
وحدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعَنْبٍ ، حدثنا أَفْلَح ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " فَتَلْتُ قَلَائِدَ بُدْنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ، ثُمَّ أَشْعَرَهَا وَقَلَّدَهَا، ثُمَّ بَعَثَ بِهَا إِلَى الْبَيْتِ وَأَقَامَ بِالْمَدِينَةِ، فَمَا حَرُمَ عَلَيْهِ شَيْءٌ كَانَ لَهُ حِلًّا ".
افلح نے ہمیں قاسم سے حدیث بیان کی انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی انہوں نے کہا: میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قر بینوں کے ہار بٹے پھر آپ نے ان کا اشعار کیا (کوہان پر چیر لگا ئے) اور ہا ر پہنائے پھر انھیں بیت اللہ کی طرف بھیج دیا اور (خود) مدینہ میں مقیم رہے اور آپ پر (انکی وجہ سے) کوئی چیز جو (پہلے) آپ کے لیے حلال تھی حرا م نہ ہو ئی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3198]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانیوں کے گلے کے ہار اپنے ہاتھوں سے بنائے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا «إِشْعَارٌ» ”نشان لگانا“ کیا اور گلے میں ہار ڈالا، پھر انہیں بیت اللہ روانہ کر دیا اور خود مدینہ میں رہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ان چیزوں میں سے کوئی چیز حرام نہیں ہوئی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے (پہلے) حلال تھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3198]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1321
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1321 ترقیم شاملہ: -- 3199
وحدثنا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ ابْنُ حُجْرٍ: حدثنا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْعَثُ بِالْهَدْيِ أَفْتِلُ قَلَائِدَهَا بِيَدَيَّ ثُمَّ لَا يُمْسِكُ، عَنْ شَيْءٍ لَا يُمْسِكُ، عَنْهُ الْحَلَالُ ".
ایوب نے قاسم اور ابوقلابہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (بیت اللہ کی طرف) ہدی بھیجتے تھے میں اپنے دونوں ہاتھوں سے ان کے ہار بٹتی تھی پھر آپ کسی بھی ایسی چیز سے اجتنا ب نہ کرتے تھے جس سے کوئی بھی غیر محرم (بغیر احرام والا شخص) اجتناب نہیں کرتا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3199]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہدی روانہ فرماتے، میں اس کے ہار اپنے ہاتھ سے بٹتی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی ایسی چیز سے نہ رُکتے جس سے حلال نہیں رُکتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3199]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1321
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1321 ترقیم شاملہ: -- 3200
وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حدثنا حُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ ، حدثنا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَتْ: " أَنَا فَتَلْتُ تِلْكَ الْقَلَائِدَ مِنْ عِهْنٍ كَانَ عَنْدَنَا، فَأَصْبَحَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَلَالًا يَأْتِي مَا يَأْتِي الْحَلَالُ مِنْ أَهْلِهِ، أَوْ يَأْتِي مَا يَأْتِي الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِهِ ".
ہمیں ابن عون نے قاسم سے حدیث بیان کی انہوں نے ام المؤمنین (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا رضی اللہ عنہ سے روایت کی انہوں نے کہا: میں نے یہ ہار اس اون سے بٹے جو ہمارے پا س تھی اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں غیر محرم ہی رہے آپ (اپنی ازواج کے پاس) آتے جیسے غیر محرم اپنی بیوی کے پاس آتا ہے یا آپ آتے جیسے ایک (عام آدمی اپنی بیوی کے پا س آتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3200]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے وہ ہار اس اون سے بٹے تھے جو ہمارے پاس تھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس حلال ہی رہے، حلال جس طرح اپنی بیوی کے پاس آتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی آتے، یا جس طرح مرد اپنی بیوی سے فائدہ اٹھاتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اٹھاتے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3200]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1321
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1321 ترقیم شاملہ: -- 3201
وَحدثنا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " لَقَدْ رَأَيْتُنِي أَفْتِلُ الْقَلَائِدَ لِهَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْغَنَمِ فَيَبْعَثُ بِهِ، ثُمَّ يُقِيمُ فِينَا حَلَالًا ".
منصور نے ابراہیم سے انہوں نے اسود سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی انہوں نے کہا: میں نے خود دیکھا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی (قربانی) کے لیے بکریوں کے ہار بٹ رہی ہوں اس کے بعد آپ انہیں (مکہ) بھیجتے پھر ہمارے درمیان احرام کے بغیر ہی رہتے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3201]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے اپنے آپ کو پایا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بکریوں کی قربانی کے ہار بٹتی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں بھیج دیتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں حلال ہی رہتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3201]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1321
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1321 ترقیم شاملہ: -- 3202
وحدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: حدثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " رُبَّمَا فَتَلْتُ الْقَلَائِدَ لِهَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيُقَلِّدُ هَدْيَهُ، ثُمَّ يَبْعَثُ بِهِ، ثُمَّ يُقِيمُ لَا يَجْتَنِبُ شَيْئًا مِمَّا يَجْتَنِبُ الْمُحْرِمُ ".
یحییٰ بن یحییٰ، ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابوکریب میں یحییٰ نے کہا: ابومعاویہ نے ہمیں خبر دی اور دوسرے دونوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی، انہوں نے اعمش سے انہوں نے ابراہیم سے انہوں نے اسود سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی انہوں نے کہا: ایسا ہوا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی (قربانی کے لیے بیت اللہ بھیجے جانے والے جانور) کے لیے ہار تیار کرتی آپ وہ (ہار) ان جانوروں کو ڈالتے پھر انہیں (مکہ) بھیجتے پھر آپ (مدینہ ہی میں) ٹھہرتے آپ ان میں سے کسی چیز سے اجتناب نہ فرماتے جن سے احرام باندھنے والا شخص اجتناب کرتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3202]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، بسا اوقات میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانیوں کے ہار بنائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہار قربانی کے گلے میں ڈال کر اسے روانہ کر دیتے اور خود ٹھہرے رہتے، کسی ایسی چیز سے پرہیز نہ کرتے جس سے محرم پرہیز کرتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3202]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1321
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1321 ترقیم شاملہ: -- 3203
وَحدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " أَهْدَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّةً إِلَى الْبَيْتِ غَنَمًا، فَقَلَّدَهَا ".
یحییٰ بن یحییٰ، ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابوکریب نے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار بیت اللہ کی طرف ہدی (قربانی) کی بکریاں بھیجیں تو آپ نے انہیں ہار ڈالے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3203]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کی قربانی کے لیے بکریوں کو بھیجا اور ان کے گلوں میں ہار ڈالے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3203]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1321
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة