مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
157. ما يكره للرجال أن يتبع أو يجتمع عليه
مکروہ ہے آدمی کے لیے کہ اس کے پیچھے چلا جائے یا اس کے پاس جمع ہوا جائے
ترقیم عوامۃ: 26838 ترقیم الشثری: -- 27997
٢٧٩٩٧ - حدثنا شبابة قال: حدثنا شعبة عن الهيثم قال: راى (عاصم) (١) بن ضمرة قوما يتبعون رجلا، فقال: إنها فتنة للمتبوع مذلة للتابع.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (عامر).
حضرت ھیثم فرماتے ہیں کہ حضرت عاصم نے چند لوگوں کو دیکھا جو کسی آدمی کے پیچھے چل رہے تھے۔ آپ نے فرمایا: بیشک یہ فتنہ ہے اس شخص کے لیے جس کے پیچھے چلا جا رہا ہے اور ذلت ہے پیچھے چلنے والوں کے لیے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 27997]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27997، ترقيم محمد عوامة 26838)
ترقیم عوامۃ: 26839 ترقیم الشثری: -- 27998
٢٧٩٩٨ - حدثنا يزيد بن هارون عن العوام عن حبيب بن ابي ثابت [قال: (تبع) (١) ] (٢) ابن مسعود ناس فجعلوا يمشون خلفه فقال: الكم حاجة؟ قالوا: لا، ⦗٤١٩⦘ قال: ارجعوا فإنها ذلة للتابع فتنة للمتبوع (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (رأى).
(٢) سقط من: [أ، ب، ط].
(٣) منقطع؛ حبيب لم يثبت سماعه من عبد اللَّه بن مسعود.
حضرت حبیب بن ابی ثابت فرماتے ہیں کہ کچھ لوگ حضرت ابن مسعود کے پیچھے آئے اور آپ کے پیچھے چلنے لگے، آپ نے پوچھا: کیا تم لوگوں کو کوئی کام ہے؟ انہوں نے عرض کیا: نہیں، آپ نے فرمایا: واپس لوٹ جاؤ، اس لیے کہ یہ پیچھے آنے والے کے لیے ذلت ہے اور جس کے پیچھے چلا جا رہا ہے اس کے لئے فتنہ ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 27998]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27998، ترقيم محمد عوامة 26839)
ترقیم عوامۃ: 26840 ترقیم الشثری: -- 27999
٢٧٩٩٩ - حدثنا ابن إدريس عن هارون (بن عنترة) (١) عن سليم بن حنظلة قال: اتينا ابي بن كعب لنتحدث (عنده) (٢) ، فلما قام (قمنا) (٣) نمشي معه، (فلحقه) (٤) عمر، فرفع عليه (عمر) (٥) الدرة فقال: يا امير المؤمنين اعلم ما تصنع؟، قال: (إن ما) (٦) ترى فتنة للمتبوع (ذلة) (٧) للتابع (٨) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (عن ميسرة).
(٢) في [جـ]: (عنه).
(٣) سقط من: [ب].
(٤) سقط من: [ط].
(٥) سقط من: [جـ].
(٦) في [أ، ح، هـ]: (إنما).
(٧) في [هـ]: (مذلة).
(٨) حسن؛ سليم بن حنظلة صدوق.
حضرت سلیم بن حنظلہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت ابی بن کعب کے پاس آئے تاکہ ہم ان کے پاس گفتگو کریں۔ جب آپ اٹھ گئے تو ہم بھی اٹھ کر ان کے ساتھ چلنے لگے۔ پس حضرت عمر ان سے ملے اور ان پر درّہ اٹھایا۔ آپ نے فرمایا: اے امیر المؤمنین! جان لیں آپ جو کر رہے ہیں! انہوں نے فرمایا: بیشک یہ جو تم دیکھ رہے ہو یہ متبوع کے لیے فتنہ ہے اور تابع کے لیے ذلت ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 27999]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27999، ترقيم محمد عوامة 26840)
ترقیم عوامۃ: 26841 ترقیم الشثری: -- 28000
٢٨٠٠٠ - [حدثنا سفيان بن عيينة عن عاصم قال: لم يكن ابن سيرين يترك احدا يمشي معه] (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط الخبر من: [أ، ح، ط، هـ].
حضرت عاصم فرماتے ہیں کہ حضرت ابن سیرین کسی کو نہیں چھوڑتے تھے کہ وہ ان کے ساتھ چل سکے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 28000]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28000، ترقيم محمد عوامة 26841)
ترقیم عوامۃ: 26842 ترقیم الشثری: -- 28001
٢٨٠٠١ - حدثنا سفيان بن عيينة عن (١) عاصم قال: كان ابو العالية إذا جلس إليه اكثر من اربعة قام.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: زيادة (نعيم عن).
حضرت عاصم فرماتے ہیں کہ حضرت ابو العالہَ کے پاس جب چار سے زیادہ لوگ بیٹھ جاتے تو آپ کھڑے ہوجاتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 28001]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28001، ترقيم محمد عوامة 26842)