مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
159. من تعلم الرمي ثم تركه، كانت (نعمة) يكفرها
جو شخص تیر اندازی سیکھے پھر اسے چھوڑ دے تو اس نے نعمت کی ناشکری کی
ترقیم عوامۃ: 26847 ترقیم الشثری: -- 28006
٢٨٠٠٦ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن حجاج عن عمرو بن شعيب عن ابيه عن جده ان النبي ﷺ مر على (اناس) (١) (من اسلم) (٢) يرمون فقال:"خذوا وانا مع ابن (الادرع) (٣) "، فقالوا: يا رسول الله ناخذ وانت مع (بعضنا) (٤) دون بعض فقال:"خذوا وانا معكم يا بني اسماعيل" (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، م]: (ناس).
(٢) سقط من: [أ، ح، هـ].
(٣) في [جـ]: (الأكوع).
(٤) في [ط]: (بعضها).
(٥) منقطع حكمًا؛ حجاج مدلس، وورد بنحوه من حديث ابن عباس عند ابن ماجة (٢٨١٥)، والحاكم ٢/ ٩٤، والضياء ١٠/ (٢٥)، والطبراني (١٢٧٤٦)، وأحمد (٣٤٤٤)، ومن حديث سلمة بن الأكوع أخرجه البخاري (٣٥٠٧)، وأحمد (١٦٥٢٨)، ومن حديث أبى هريرة أخرجه ابن حبان (٤٦٩٥)، والحاكم ٢/ ٩٤، ومن حديث حمزة بن عمرو عند الطبراني (٢٩٨٨)، وجابر عند البزار (١٨٠٣)، وحديث هند بن جارية عند ابن أبي عاصم (٣٩٠).
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قبیلہ اسلم کے چند لوگوں پر سے گزر ہوا جو تیر اندازی کر رہے تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم پکڑو اور میں ابن الادرع کے ساتھ ہوں۔ اس پر ان لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! ہم کیسے قابو کریں حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم میں سے بعض کو چھوڑ کر بعض کے ساتھ ہیں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے بنو اسماعیل! تم پکڑو میں تم سب کے ساتھ ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 28006]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28006، ترقيم محمد عوامة 26847)
ترقیم عوامۃ: 26848 ترقیم الشثری: -- 28007
٢٨٠٠٧ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن (عبد الله) (١) بن سعيد عن ابيه عن (ابن) (٢) ابي حدرد الاسلمي قال: مر رسول الله ﷺ بناس من اسلم وهم يتناضلون، فقال:"ارموا يا بني اسماعيل، فإن اباكم كان راميا، ارموا وانا مع ابن ⦗٤٢٢⦘ الادرع"، فامسك القوم بايديهم فقال:"ما لكم لا ترمون؟" قالوا: يا رسول الله انرمي وقد قلت انا مع ابن الادرع وقد علمنا ان حزبك لا يغلب؟ قال:"ارموا وانا معكم كلكم" (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (عبيد اللَّه).
(٢) سقط من: [أ، ح، ط، هـ].
(٣) ضعيف جدًا؛ عبد اللَّه بن سعيد متروك، أخرجه ابن أبي شيبة في المسند (٦٢٩).
حضرت ابن ابو حدردا سلمی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گزر قبیلہ اسلم کے چند لوگوں کے پاس سے ہوا اس حال میں کہ وہ لوگ باہم تیر اندازی کا مقابلہ کر رہے تھے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے بنو اسماعیل! تیر اندازی کرو، بیشک تمہارا باپ بھی تیر انداز تھا۔ اور تم تیر چلاؤ اور میں ابن الادرع کے ساتھ ہوں، تو لوگوں نے اپنے ہاتھوں کو روک لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کیا ہوا کہ تم نہیں چلا رہے؟ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! ہم کیسے تیر چلائیں؟ حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو ابن الادرع کے ساتھ ہیں، اور تحقق ہم جانتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا لشکر کبھی مغلوب نہیں ہوسکتا! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم تیر چلاؤ میں تم سب کے ساتھ ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 28007]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28007، ترقيم محمد عوامة 26848)
ترقیم عوامۃ: 26849 ترقیم الشثری: -- 28008
٢٨٠٠٨ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن عبد الله بن سعيد عن (١) ابيه عن رجل من اسلم (يقال) (٢) له: ابن الادرع قال: قال رسول الله ﷺ:"تمعددوا واخشوشنوا وانتضلوا وامشوا حفاة" (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: زيادة (أمه).
(٢) في [ط]: (فقال).
(٣) ضعيف جدًا؛ عبد اللَّه بن سعيد متروك، أخرجه ابن أبي عاصم في الآحاد (٢٣٨٦)، والرامهرمزي في أمثال الحديث (١٣٦)، وانظر: المطالب العالية (٢٢٢٠، ٢٦٦٢).
قیلہ اسلم کے ایک شخص جن کا نام ابن الادرع ہیں وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قبیلہ معد کا طرز زندگی اختیار کرو، اور موٹا اور کھردرا (کپڑا) پہنو اور باہم تیر اندازی کا مقابلہ کرو اور ننگے پیر چلا کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 28008]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28008، ترقيم محمد عوامة 26849)
ترقیم عوامۃ: 26850 ترقیم الشثری: -- 28009
٢٨٠٠٩ - حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرنا (١) الدستوائي عن يحيى بن ابي كثير عن ابي سلام عن عبد الله بن الازرق عن عقبة بن عامر الجهني عن النبي ﷺ قال:"إن الله ليدخل بالسهم الواحد الثلاثة الجنة: صانعه يحتسب في صنعته الخير، والرامي به، والممد به"، (وقال) (٢) :"ارموا واركبوا، وإن ترموا احب إلي من ان تركبوا، وكل ما يلهو به المرء المسلم باطل إلا رميه بقوسه، وتاديبه فرسه، وملاعبته اهله، فإنهن من الحق" (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ن]: زيادة (الدستواني).
(٢) في [ط]: (قال).
(٣) مجهول؛ عبد اللَّه بن الأزرق مجهول، أخرجه أحمد (١٧٣٠٠)، والترمذي (١٦٣٧)، وابن ماجة (٢٨١١)، والطيالسي (١٠٠٦)، والدارمي (٢٤٠٥)، ويعقوب في المعرفة ٢/ ٥٠٢، والطحاوي في شرح المشكل (٢٩٥)، والطبراني ١٧/ (٩٤٠)، والبيهقي ١٠/ ١٣.
حضرت عقبہ بن عامر جہنی فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کہ یقینا اللہ تعالیٰ ایک تیر کی وجہ سے تین لوگوں کو جنت میں داخل کریں گے، تیر کے بنانے والے کو جس نے ثواب کی نیت سے اس کو بنایا۔ اور اس کے چلانے والے کو اور تیر کے پکڑانے والے کو، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیر اندازی کرو اور سواری کرو۔ اور تمہارا تیر اندازی کرنا میرے نزدیک تمہارے سوار ہونے سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ اور وہ تمام کھیل جو مسلمان بندہ کھیلتا ہے وہ باطل ہیں۔ سوائے اس کے کہ وہ اپنے کمان کے ذریعہ تیر چلاتا ہو، یا اپنے گھوڑے کو سدھاتا ہو یا اپنی بیوی کے ساتھ تفریح کرتا ہو، بیشک یہ تمام چیزیں حق میں سے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 28009]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28009، ترقيم محمد عوامة 26850)
ترقیم عوامۃ: 26851 ترقیم الشثری: -- 28010
٢٨٠١٠ - حدثنا عيسى بن يونس عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر قال: حدثنا ابو سلام الدمشقي عن خالد بن زيد الجهني عن عقبة بن عامر عن رسول الله ﷺ (فذكره) (١) نحوه، إلا انه قال: ومنبله (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، م]: (فذكر).
(٢) مجهول؛ لجهالة خالد بن زيد الجهني، أخرجه أحمد (١٧٣٢١)، وأبو داود (٢٥١٣)، والنسائي (٦/ ٢٨)، وسعيد بن منصور (٢٤٥٠)، ويعقوب في المعرفة (٢/ ٥٠١)، والحاكم (٢/ ٩٥)، وابن الجارود (١٠٦٢)، وأبو عوانة (٥/ ١٠٣)، والطبراني (١٧/ [٩٤٢])، والبيهقي (١٠/ ١٣)، والخطيب في الموضح (١/ ١١٣)، والمزي (٨/ ٧٥).
حضرت عقبہ بن عامر سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مذکورہ ارشاد اس سند سے بھی منقول ہے۔ مگر یہ کہ اس سند میں منبلہ کے الفاظ بھی ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 28010]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28010، ترقيم محمد عوامة 26851)
ترقیم عوامۃ: 26852 ترقیم الشثری: -- 28011
٢٨٠١١ - حدثنا (ابن) (١) مبارك عن الاوزاعي عن بلال بن سعد قال: ادركتهم (يشتدون) (٢) بين الاغراض ويضحك بعضهم إلى بعض، فإذا كان الليل كانوا رهبانا (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ].
(٢) في [أ، ب، ط]: (يشدون).
(٣) صحيح.
امام اوزاعی فرماتے ہیں کہ حضرت بلال بن سعد نے ارشاد فرمایا: کہ میں نے صحابہ کو پایا اس حال میں کہ وہ لوگ اپنے مقاصد کے بارے میں بہت سخت تھے۔ اور ان میں سے بعض بعض کے ساتھ مذاق کرتے تھے اور جب رات ہوتی، تو وہ سب کے سب عبادت گزار بن جاتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 28011]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28011، ترقيم محمد عوامة 26852)
ترقیم عوامۃ: 26853 ترقیم الشثری: -- 28012
٢٨٠١٢ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن إبراهيم التيمي عن ابيه قال: رايت حذيفة (يشتد) (١) بين الهدفين (٢) (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (يشد).
(٢) في [ث]: زيادة (في حميص).
(٣) صحيح.
حضرت ابراہیم تیمی کے والد فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا آپ دو نشانوں کے درمیان حملہ کرتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 28012]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28012، ترقيم محمد عوامة 26853)
ترقیم عوامۃ: 26854 ترقیم الشثری: -- 28013
٢٨٠١٣ - حدثنا ابو بكر (١) ابن عياش عن عاصم عن ابي العدبس قال: سمعت عمر يقول: اخيفوا الهوام قبل ان تخيفكم (٢) ، وانتضلوا ⦗٤٢٤⦘ (وتمعددوا) (٣) واخشوشنوا، (واجعلوا) (٤) الراس راسين، وفرقوا (بين) (٥) المنية (٦) ، ولا (تلثوا) (٧) بدار معجزة (٨) ، واخيفوا (الحيات) (٩) من قبل ان تخيفكم، واصلحوا (مثاويكم) (١٠) (١١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح، ط، هـ]: زيادة (قال: حدثنا).
(٢) أي: اقتلوها قبل أن تقتلكم.
(٣) في [ط]: (وتعدوا).
(٤) في [جـ]: (واملوا).
(٥) في [أ، هـ، م]: (عن).
(٦) أي: اشتروا بثمن الرأس الواحد رأسين، فإن مات أحدهما بقي الآخر.
(٧) في [أ، ث، م]: (تلبثوا).
(٨) أي: لا تبقوا بمكان تعجزون فيه عن الكسب.
(٩) في [جـ]: (اليات).
(١٠) في [أ، ب، ط]: (مناويكم).
(١١) مجهول؛ لجهالة أبي العدبس، أخرجه عبد الرزاق (١٦٩١٨)، والطحاوي ٤/ ٢٧٥، وابن الجعد (٩٩٥)، والبيهقي ١٠/ ١٤، وابن أبي عمر كما في المطالب (٣١٢٦)، والسمعاني في أدب الإملاء ص ١١٨.
حضرت ابو العدبّس فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر کو یوں فرماتے ہوئے سنا کہ تم حشرات کو ڈراؤ قبل ازیں کہ وہ تمہیں خوف زدہ کریں اور تم باہم تیر اندازی کا مقابلہ کیا کرو، اور قبیلہ معد کی طر ز زندگی اختیار کرو اور موٹا، کھردرا کپڑا پہنو، اور اپنے مال کو ہلاک ہونے سے بچاؤ، اور تم ایسی جگہ اقامت اختیار مت کرو جہاں تمہارا رزق تنگ ہو اور تم سانپوں کو ڈراؤ قبل ازیں کہ وہ تمہیں خوف زدہ کریں اور اپنے گھر والوں کو درست رکھو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 28013]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28013، ترقيم محمد عوامة 26854)