صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
71. باب الْحَجِّ عَنِ الْعَاجِزِ لِزَمَانَةٍ وَهِرَمٍ وَنَحْوِهِمَا أَوْ لِلْمَوْتِ:
باب: عاجز اور بوڑھے وغیرہ یا میت کی طرف سے حج کرنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1334 ترقیم شاملہ: -- 3251
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ: كَانَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمَ تَسْتَفْتِيهِ، فَجَعَلَ الْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا، وَتَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْرِفُ وَجْهَ الْفَضْلِ إِلَى الشِّقِّ الْآخَرِ، قَالَت: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ فِي الْحَجِّ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَثْبُتَ عَلَى الرَّاحِلَةِ، أَفَأَحُجُّ عَنْهُ؟ قَالَ: " نَعَمْ "، وَذَلِكَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ.
امام مالک رحمہ اللہ نے ابن شہاب سے انہوں نے سلیمان بن یسار سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر پیچھے سوار تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قبیلہ خشعم کی ایک خاتون آئی وہ آپ سے فتویٰ پوچھنے لگی حضرت فضل رضی اللہ عنہ اس کی طرف اور وہ ان کی طرف دیکھنے لگی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فضل رضی اللہ عنہ کا چہرہ دوسری جانب پھیرنے لگے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! بلاشبہ اللہ کا اپنے بندوں پر فرض کیا ہوا حج میرے کمزور اور بوڑھے والد پر بھی آگیا ہے وہ سواری پر جم کر بیٹھ نہیں سکتے تو کیا میں ان کی طرف سے حج کر سکتی ہوں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں۔“ اور یہ حجۃ الوداع میں ہوا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3251]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ فضل بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خثعم قبیلہ کی ایک عورت مسئلہ پوچھنے کے لیے آئی، فضل اس عورت کو دیکھنے لگے، اور عورت اسے دیکھنے لگی، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فضل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چہرے کو دوسرے رخ کی طرف پھیرنے لگے، عورت نے کہا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ کا اپنے بندوں پر فرض حج، میرے باپ پر اس حال میں فرض ہوا ہے کہ وہ بہت بوڑھا ہو چکا ہے اور سواری پر جم کر بیٹھ نہیں سکتا ہے، تو کیا میں اس کی طرف سے حج کر سکتی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ اور یہ حجۃ الوداع کا واقعہ ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3251]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1334
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1335 ترقیم شاملہ: -- 3252
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، حدثنا سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ الْفَضْلِ : أَنَّ امْرَأَةً مِنْ خَثْعَمَ، قَالَت: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ عَلَيْهِ فَرِيضَةُ اللَّهِ فِي الْحَجِّ وَهُوَ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَسْتَوِيَ عَلَى ظَهْرِ بَعِيرِهِ، فقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَحُجِّي عَنْهُ ".
ابن جریج نے سابقہ سند کے ساتھ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ قبیلہ خشعم کی ایک عورت نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میرے والد عمر رسیدہ ہیں اور اللہ کا فریضہ حج ان کے ذمے ہے اور اونٹ کی پشت پر ٹھیک طرح بیٹھ نہیں سکتے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان کی طرف سے حج کر لو۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3252]
حضرت فضل رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، خثعم قبیلہ کی ایک عورت نے پوچھا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا باپ بہت بوڑھا ہے، اس پر اللہ کا فریضہ، حج، فرض ہو چکا ہے اور وہ اپنے اونٹ کی پشت پر بیٹھ نہیں سکتا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اس کی طرف سے حج کر۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3252]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1335
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة