مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
192. في الثناء الحسن (وعلى من أولى خيرا)
اچھی تعریف کرنے کا بیان
ترقیم عوامۃ: 27039 ترقیم الشثری: -- 28207
٢٨٢٠٧ - حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرنا هشام عن حفصة عن الربيع بن ⦗٤٧٥⦘ زياد عن كعب قال: والله ما (استقام) (١) لعبد ثناء في الارض حتى يستقر له في اهل السماء (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ث]: (استقر).
(٢) في [ث]: زيادة (باب القول في الثناء).
حضرت ربیع بن زیاد فرماتے ہیں کہ حضرت کعب نے ارشاد فرمایا: کہ دنیا میں کسی بندے کی تعریف مستقل نہیں ہوتی یہاں تک کہ آسمان والوں میں بھی اس کی وہ تعریف قرار پکڑ لیتی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 28207]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28207، ترقيم محمد عوامة 27039)
ترقیم عوامۃ: 27040 ترقیم الشثری: -- 28208
٢٨٢٠٨ - حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرنا العوام بن حوشب قال: التقيت انا وإياس بن معاوية بذات عرق فذكرنا إبراهيم التيمي، فقال إياس: لولا كرامته علي لاثنيت عليه فقلت: هل تعرفه؛ قال: نعم، قلت: فلم تكره الثناء عليه، قال: إنه كان يقال: إن الثناء من الجزاء.
حضرت عوام بن حوشب فرماتے ہیں کہ میری اور حضرت ایاس بن معاویہ کی ذات عرق مقام پر ملاقات ہوئی تو ہم نے حضرت ابراہیم تیمی کا ذکر کیا۔ حضرت ایاس فرمانے لگے: اگر ان کی میرے دل میں عزت نہ ہوتی تو میں ضرور ان کی تعریف کرتا میں نے پوچھا: کیا آپ انہں ی جانتے ہیں؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! میں نے پوچھا: پھر آپ ان کی تعریف کرنے کو برا کیوں سمجھ رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: اس لیے کہ یوں کہا جاتا ہے کہ تعریف کرنا اجرت دینے کے مترادف ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 28208]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28208، ترقيم محمد عوامة 27040)
ترقیم عوامۃ: 27041 ترقیم الشثری: -- 28209
٢٨٢٠٩ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا معاذ عن حميد عن انس قال: قالت المهاجرون: يا رسول الله! ما راينا مثل قوم قدمنا عليهم احسن بذلا من كثير، ولا احسن مواساة في قليل، كفونا المؤنة، واشركونا في المهنا، قد (خشينا) (١) ان يذهبوا بالاجر كله، فقال:"لا، ما اثنيثم عليهم ودعوتم الله لهم" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ث]: (خفنا).
(٢) صحيح؛ أخرجه أحمد (١٣١٢٢)، وأبو داود (٤٨١٢)، والترمذي (٢٤٨٧)، والحاكم (٢/ ٦٣)، والنسائي في عمل اليوم والليلة (١٨١)، والبخاري في الأدب المفرد (٢١٧)، والبيهقي (٦/ ١٨٣).
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مہاجرین نے فرمایا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! جس قوم کے پاس ہم آئے ہیں ہم نے ان سے زیادہ اچھا کثرت سے خرچ کرنے والا اور تھوڑا ہونے کے باوجود غمخواری کرنے میں ان سے اچھا کسی کو نہیں دیکھا۔ انہوں نے ہمارا خرچہ برداشت کیا، اور ہمیں اپنی خوشیوں میں شریک کیا۔ ہمیں ڈر ہے کہ سارے کا سارا اجر یہ لوگ ہی لے جائیں گے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نہیں! ایسی بات نہیں۔ بہرحال تم ان کی تعریف مت کرو، اور تم اللہ سے ان کے حق میں دعا کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 28209]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28209، ترقيم محمد عوامة 27041)