🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

193. في الحديث للناس والإقبال عليهم
لوگوں کو بیان کرنا اور ان کی توجہ حاصل کرنا
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 27042 ترقیم الشثری: -- 28210
٢٨٢١٠ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرنا اشعث بن سوار عن كردوس (عن) (١) عبد الله قال: إن للقلوب نشاطا وإقبالا، وإن لها لتولية ⦗٤٧٦⦘ وإدبارا، فحدثوا الناس ما اقبلوا عليكم (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، جـ، ط]: (بن).
(٢) ضعيف؛ لضعف أشعث.

حضرت کردوس فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: بیشک دلوں کے لیے بھی بشاشت اور توجہ بھی ہوتی ہے، اور سستی اور اکتاہٹ بھی ہوتی ہے، تم لوگوں کو وہ بات بیان کرو جس سے وہ تمہاری طرف متوجہ ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 28210]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28210، ترقيم محمد عوامة 27042)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 27043 ترقیم الشثری: -- 28211
٢٨٢١١ - حدثنا ابو اسامة عن عثمان بن غياث عن ابي السليل قال: قدم علينا رجل من اصحاب النبي ﷺ فكانوا يجتمعون عليه، (فصعد) (١) على ظهر بيت فحدثهم (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (فصد).
(٢) صحيح.

حضرت ابو السلیل فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک صحابی تشریف لائے تو لوگ ان کے پاس جمع ہوگئے۔ وہ گھر کی چھت پر چڑھے اور انہوں نے لوگوں کو حدیث بیان کی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 28211]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28211، ترقيم محمد عوامة 27043)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 27044 ترقیم الشثری: -- 28212
٢٨٢١٢ - حدثنا جعفر بن عون قال: اخبرنا ابو العميس عن ابي طلحة قال: قدم انس بن مالك الكوفة فاجتمعنا عليه، قال: فقلنا: حدثنا ما سمعت من رسول الله ﷺ قال: وهو يقول: ايها الناس انصرفوا عني، حتى الجاناه إلى حائط القصر، فقال: لو تعلمون ما اعلم لبكيتم كثيرا ولضحكتم قليلا، ايها الناس انصرفوا عني فانصرفنا عنه (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) حسن؛ أبو طلحة روى عنه جمع وذكره ابن حبان في الثقات، وأخرجه أحمد (١٢٨٥٩) مرفوعًا بلفظ: (لو تعلمون ما أعلم. .) وأخرجه وكيع في الزهد (١٧)، والبيهقي في شعب الإيمان (٧٨١).
حضرت ابو طلحہ فرماتے ہیں کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کوفہ تشریف لائے تو ہم لوگ ان کے پاس جمع ہوگئے۔ ہم نے عرض کی کہ آپ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہوئی کوئی حدیث بیان کریں۔ آپ نے فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے: اے لوگو! میرے پاس سے جاؤ، یہاں تک کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو انتہائی مجبور کردیتے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے: جو میں جانتا ہوں اگر وہ بات تم جان لیتے تو تم زیادہ روتے اور تھوڑا ہنستے۔ اے لوگو! میرے پاس سے چلے جاؤ تو ہم آپ کے پاس سے واپس لوٹ آئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 28212]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28212، ترقيم محمد عوامة 27044)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 27045 ترقیم الشثری: -- 28213
٢٨٢١٣ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عفان قال: حدثنا ابو هلال قال: حدثنا الحسن قال: حدثوا الناس ما اقبلوا عليكم بوجوههم، فإذا التفتوا فاعلموا ان لهم حاجات.
حضرت ابو ہلال فرماتے ہیں کہ حضرت حسن بصری نے ارشاد فرمایا: تم لوگوں کو وہ بات بیان کرو جس سے وہ تمہاری طرف متوجہ ہوجائیں، جب وہ تمہاری طرف متوجہ ہوں تو جان لو کہ ان کی ضرورتیں بھی ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 28213]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28213، ترقيم محمد عوامة 27045)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 27046 ترقیم الشثری: -- 28214
٢٨٢١٤ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن شقيق عن عبد الله قال: كان رسول الله ﷺ يتخولنا بالموعظة، مخافة السآمة علينا (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٨)، ومسلم (٢٨٢١).
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے اکتا جانے کے اندیشے سے وعظ و نصیحت میں وقفہ فرمایا کرتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 28214]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28214، ترقيم محمد عوامة 27046)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 27047 ترقیم الشثری: -- 28215
٢٨٢١٥ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم عن علقمة انه كان إذا راى من اصحابه (هشاشا) (١) -يعني انبساطا- ذكرهم.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: بياض.
حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت علقمہ جب اپنے شاگردوں کو ہشاش بشاش دیکھتے تو ان کو وعظ و نصیحت فرماتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 28215]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28215، ترقيم محمد عوامة 27047)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 27048 ترقیم الشثری: -- 28216
٢٨٢١٦ - حدثنا ابن إدريس وابن عيينة وابو خالد الاحمر عن محمد بن عجلان عن (بكير) (١) بن عبد الله بن الاشج عن معمر عن عبيد الله بن عدي بن الخيار قال: قال عمر: لا تبغضوا الله إلى عباده، يكون احدكم إماما فيطول عليهم ما هم فيه، ويكون احدكم قاصا (ويطول) (٢) عليهم ما هم فيه (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح، ط، هـ]: (بكر).
(٢) في [أ، ب، م]: (فيطول).
(٣) حسن؛ ابن عجلان صدوق.

حضرت عبید اللہ بن عدی بن خیار فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے ارشاد فرمایا: تم لوگ اللہ عزوجل کو اس کے بندوں کے سامنے مبغوض مت بناؤ۔ تم میں کوئی امام ہوتا ہے تو وہ ان پر نماز اتنی لمبی کردیتا ہے۔ اور کوئی خطیب ہوتا ہے تو وہ ان پر اپنی بات اتنی طویل کردیتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 28216]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28216، ترقيم محمد عوامة 27048)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں