🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

195. (ما يقول الرجل إذا نام وإذا استيقظ)
آدمی جب سوئے اور جب بیدار ہو تو یہ دعا پڑھے
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 27051 ترقیم الشثری: -- 28219
٢٨٢١٩ - حدثنا سفيان بن عيينة عن ابي إسحاق عن البراء قال: كان النبي ﷺ إذا اخذ مضجعه قال:"اللهم (إليك) (١) اسلمت نفسي، وإليك وجهت وجهي، وإليك فوضت امري، وإليك الجات ظهري رغبة ورهبة إليك، لا ملجا ولا (منجا) (٢) منك إلا إليك، آمنت بكتابك الذي انزلت، (وبنبيك) (٣) (الذي ارسلت) (٤) (او رسولك) (٥) (الذي ارسلت) " (٦) (٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ث]: (لك).
(٢) في [هـ]: (منجى).
(٣) في [أ، ب]: (ونبيك).
(٤) سقط من: [م].
(٥) في [ب]: (ورسولك)، وفي [م]: (أو برسولك).
(٦) سقط من: [ث]، وفيها بعد ذلك: (باب ما يقول إذا أقام أو استيقظ).
(٧) صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٣١٥)، ومسلم (٢٧١١).

حضرت براء فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اپنے سونے کی جگہ پر لیٹتے تو یہ دعا پڑھتے: ترجمہ: اے اللہ! میں نے اپنی جان تیرے ہی سپرد کی، اور میں نے اپنا چہرہ تیری ہی طرف کردیا اور میں نے اپنا معاملہ بھی تیرے ہی سپرد کردیا اور تجھے ہی میں نے اپنا پشت پناہ بنا لیا تیری رحمت کی رغبت کرتے ہوئے اور تیرے عذاب سے ڈرتے ہوئے اور تیری رحمت کے سوا کوئی ٹھکانہ اور جائے پناہ نہیں اور جو کتاب تو نے اتاری ہے میں اس پر ایمان لایا اور جو نبی یا رسول تو نے بھیجا ہے اس پر بھی ایمان لایا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 28219]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28219، ترقيم محمد عوامة 27051)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 27052 ترقیم الشثری: -- 28220
٢٨٢٢٠ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عبد الملك بن عمير عن ربعي عن حذيفة قال: كان النبي ﷺ إذا نام قال:"اللهم باسمك (احيى) (١) واموت"، وإذا استيقظ ⦗٤٧٩⦘ قال:"الحمد لله الذي احيانا بعدما اماتنا وإليه النشور" (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، ط، م]: (أحيا).
(٢) صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٣١٢)، وأحمد (٢٣٢٧١)، ومن طريق المؤلف أخرجه أبو داود (٥٠٤٩).

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سونے کا ارادہ کرتے تو یہ دعا فرماتے اے اللہ! میں تیرا ہی نام لے کر مرتا ہوں اور جیتا ہوں۔ اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوتے تو یہ دعا فرماتے: اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں مارنے کے بعد جگا دیا اور اسی کی طرف مرنے کے بعد لوٹنا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 28220]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28220، ترقيم محمد عوامة 27052)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 27053 ترقیم الشثری: -- 28221
٢٨٢٢١ - حدثنا محمد بن فضيل عن عطاء بن السائب عن ابيه قال: كنت قاعدا عند عمار فاتاه رجل فقال: الا اعلمك كلمات؟ قال: كانه يرفعهن إلى النبي ﷺ (١) :"إذا اخذت مضجعك من الليل فقل: اللهم اسلمت نفسي إليك ووجهت وجهي (إليك) (٢) ، وفوضت امري اليك، والجات ظهري اليك، آمنت بكتابك المنزل، ونبيك المرسل، (اللهم) (٣) نفسي خلقتها، لك محياها ومماتها، فإن (كفتها) (٤) فارحمها، وإن اخرتها فاحفظها بحفظ الإيمان" (٥) (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ث]: زيادة (قال).
(٢) زيادة (إليك) من: [جـ، م].
(٣) سقط من: [أ، جـ، ح، م، هـ].
(٤) في [جـ، ث]: (أمتها)، وفي [هـ]: (توفيتها)، وفي المطالب العالية (٣٣٥٩): (قبضتها).
(٥) في [ث]: زيادة (باب ما يقول: إذا أمسى وأصبح وأخذ مضجعه).
(٦) ضعيف؛ رواية ابن فضيل عن عطاء بعد اختلاطه، أخرجه أبو يعلى (١٦٢٥)، وابن السني (٧٣٧)، وابن فضيل في الدعاء (٨٢).

حضرت سائب فرماتے ہیں کہ میں حضرت عمار کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ آپ کے پاس کوئی شخص آیا۔ آپ نے فرمایا: کیا میں تجھے چند کلمات نہ سکھا دوں؟ راوی کہتے ہیں گویا کہ آپ یہ کلمات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالہ سے بیان فرما رہے تھے کہ جب تو رات کو اپنے بستر پر لیٹے تو یوں کہہ: اے اللہ! میں نے اپنی جان تیرے سپرد کی، اور میں نے اپنا چہرہ تیری طرف کردیا اور میں نے اپنا معاملہ تیرے سپرد کردیا اور میں نے تجھے اپنا پشت پناہ بنا لیا۔ میں ایمان لایا تیری نازل کردہ کتاب پر، اور تیرے بھیجے ہوئے نبی پر، میری جان کو تونے ہی پیدا کیا، تیرے لیے ہی اس کا جینا اور اس کا مرنا ہے۔ اگر تو اس کو موت دے تو اس پر رحم کرنا اور اگر تو اس کی موت کو مؤخر کرے تو اس کی حفاظت کرنا ایمان محفوظ رکھنے کے ساتھ۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 28221]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28221، ترقيم محمد عوامة 27053)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 27054 ترقیم الشثری: -- 28222
٢٨٢٢٢ - حدثنا غندر عن شعبة عن يعلى بن عطاء قال: سمعت عمرو بن عاصم يحدث انه سمع ابا هريرة ان ابا بكر قال للنبي ﷺ: اخبرني بشيء اقوله إذا امسيت وإذا اصبحت، قال:"قل اللهم عالم الغيب والشهادة، فاطر السماوات والارض، رب كل شيء ومليكه، اشهد ان لا إله إلا انت، اعوذ بك من شر نفسي و (١) الشيطان وشركه، قله (إذا اصبحت) (٢) وإذا ⦗٤٨٠⦘ امسيت وإذا اخذت مضجعك" (٣) (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: زيادة (شر).
(٢) سقط من: [هـ].
(٣) في [ث]: زيادة (باب ما يقول إذا أراد النوم وإذا استيقظ من نومه).
(٤) صحيح؛ أخرجه أحمد (٥١)، وأبو داود (٥٠٢٨)، والترمذي (٣٣٩٢)، والنسائي في الكبرى (٧٧١٥)، وابن حبان (٩٦٢)، والحاكم (١/ ٥١٣)، والطيالسي (٩)، وابن السني (٧٢٤)، والطبراني في الدعاء (٢٨٨)، والبيهقي في الدعوات (٢٩)، والخطيب (١١/ ١٦٦)، والضياء في المختارة (٣٠)، والمزي (٢٢/ ٨٦).

حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں عرض کی، کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے کوئی ایسی دعا بتلا دیجئے جو میں صبح و شام پڑھا کروں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ دعا پڑھو: اے اللہ! پوشیدہ اور ظاہر باتوں کے جاننے والے، آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، ہر چیز کے پروردگار اور بادشاہ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں تیری پناہ لیتا ہوں اپنے نفس کے شر سے، اور شیطان سے اور اس کے شریکوں سے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم یہ کلمات پڑھو جب تم صبح کرو اور جب شام کرو، اور جب اپنے بستر پر لٹہ جاؤ۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 28222]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28222، ترقيم محمد عوامة 27054)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 27055 ترقیم الشثری: -- 28223
٢٨٢٢٣ - حدثنا غندر عن شعبة عن عبد الله بن ابي السفر قال: سمعت ابا بكر ابن (ابي) (١) موسى يحدث عن البراء ان النبي ﷺ كان إذا استيقظ قال:"الحمد لله الذي احيانا بعدما اماتنا وإليه النشور"، قال: شعبة هذا -او نحو هذا وإذا نام قال:"اللهم باسمك (احيا) (٢) وباسمك اموت" (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، ط].
(٢) في [هـ]: (أحيي).
(٣) صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٧١١)، وأحمد (١٨٦٨٦).

حضرت براء فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بیدار ہوتے تو یہ دعا پڑھتے: اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے مارنے کے بعد زندہ کیا۔ اور جب آپ سونے کا ارادہ کرتے تو یہ دعا پر ھتے: اے اللہ! میں تیرا نام لے کر زندہ رہتا ہوں اور تیرا نام لے کر ہی مرتا ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 28223]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28223، ترقيم محمد عوامة 27055)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 27056 ترقیم الشثری: -- 28224
٢٨٢٢٤ - (١) حدثنا ابن نمير قال: حدثنا (عبيد الله) (٢) بن (عمر) (٣) عن سعيد بن ابي (سعيد) (٤) المقبري عن ابي هريرة ان رسول الله ﷺ قال:"إذا اراد احدكم ان يضطجع على فراشه، فلينزع داخلة إزراره، ثم لينفض بها فراشه، فإنه لا يدري ما خلفه عليه، ثم ليضطجع على شقه الايمن، ثم ليقل: باسمك ربي وضعت ⦗٤٨١⦘ جنبي وبك ارفعه، فإن امسكت نفسي فارحمها، وإن ارسلتها فاحفظها بما تحفظ به (عبادك) (٥) الصالحين" (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) زيادة من: [ث]: (باب ما يؤمر به من نفض الفراش بداخله إزاره قبل الاضطجاع وحين يضطجع).
(٢) في [جـ]: (عبد اللَّه).
(٣) في [أ، ح، ط، هـ]: (عمير).
(٤) في [جـ]: (سعد).
(٥) سقط من: [ح، ع، م].
(٦) صحيح؛ أخرجه البخاري (٧٣٩٣)، ومسلم (٢٧١٤).

حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنے بستر پر لیٹنے کا ارادہ کرے تو اس کو چاہیے کہ وہ اپنے نیچے کے زائد کپڑے اتار دے، پھر وہ اپنے بستر کو جھاڑے۔ اس لیے کہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے پیچھے بستر پر کیا چیز تھی۔ پھر اسے چاہیے کہ وہ داہنی کروٹ پر لیٹ جائے، پھر یہ دعا پڑھے: میرے رب تیرا نام لے کر میں نے اپنا پہلو رکھا اور تیرا نام لے کر ہی میں اسے اٹھاؤں گا، پس اگر تو میرے نفس کو موت دے تو اس پر رحم فرمانا۔ اور اگر تو اس کو زندہ چھوڑ دے تو اس کی حفاظت کرنا ایسی حفاظت جو تو اپنے نیک بندوں کی کرتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 28224]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28224، ترقيم محمد عوامة 27056)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 27057 ترقیم الشثری: -- 28225
٢٨٢٢٥ - حدثنا غندر عن شعبة عن عمرو بن مرة عن سعد بن عبيدة عن البراء ابن عازب عن النبي ﷺ انه قال لرجل:"إذا اخذت مضجعك فقل: اللهم اسلمت نفسي إليك، ووجهت وجهي إليك، وفوضت امري اليك، والجات ظهري اليك، رغبة ورهبة إليك، لا (منجا) (١) ولا ملجا منك إلا إليك، آمنت بكتابك الذي انزلت، ونبيك الذي ارسلت، فإن (مت مت) (٢) على الفطرة" (٣) (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (ملجأ)، وفي [هـ]: (منجى).
(٢) في [أ، ح، ط، هـ]: (مات مات).
(٣) زاد في [ث]: (التهليل والتسبيح والتكبير حين يأوي إلى فراشه).
(٤) صحيح؛ أخرجه البخاري (٧٤٨٨)، ومسلم (٢٧١٠).

حضرت براء بن عازب فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک صحابی سے ارشاد فرمایا: جب تم اپنے بستر پر لیٹنے لگو تو یہ دعا پڑھو۔ اے اللہ! میں نے اپنی جان تیرے سپرد کردی اور میں نے اپنا چہرہ تیری طرف کردیا اور اپنا معاملہ تیرے سپرد کردیا اور میں نے تجھے اپنا پشت پناہ بنا لیا تیری رحمت کی رغبت کرتے ہوئے اور تیرے عذاب کے خوف کی وجہ سے اور تیری پکڑ سے بچنے کا تیری رحمت کے سوا کوئی ٹھکانہ اور کوئی جائے پناہ نہیں اور جو کتاب تو نے اتاری ہے اس پر میں ایمان لایا اور جو نبی تو نے بھیجا ہے اس پر بھی ایمان لایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تیری موت واقع ہوگئی تو تو فطرت اسلام پر مرا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 28225]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28225، ترقيم محمد عوامة 27057)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 27058 ترقیم الشثری: -- 28226
٢٨٢٢٦ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن حبيب (عن) (١) عبد الله بن باباه عن ابي هريرة قال: من قال حين ياوي إلى فراشه: لا إله إلا الله، وحده، لا شريك له، له الملك وله الحمد، وهو على كل شيء قدير، سبحان الله وبحمده (والحمد لله) (٢) ، لا إله إلا الله، الله اكبر غفرت ذنوبه وإن كانت مثل زبد البحر (٣) (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (بن)
(٢) في [أ، ب، جـ، م]: (الحمد للَّه).
(٣) زاد في [ث]: (باب قوله: ﴿قُلْ يَاأَيُّهَا الْكَافِرُونَ﴾ عند النوم).
(٤) صحيح؛ أخرجه النسائي في الكبرى (١٠٦٤٧)، وابن الجعد (٥٥٢)، وأخرجه مرفوعًا ابن حبان (٥٥٢٨)، وأبو نعيم في تاريخ أصبهان (١/ ٣١٨)، وابن السخي (٧٢٢)، وابن عساكر (٥٤/ ١٢٥).

حضرت عبد اللہ بن باباہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ نے ارشاد فرمایا: جو شخص بستر پر لیٹتے ہوئے یہ دعا پڑھے: اللہ کے سو ا کوئی معبود برحق نہیں وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اسی کا ملک ہے اور اسی کے لیے تعریف و شکر ہے اور اس کی ذات ہر چیز پر قادر ہے، اللہ پاک ہے تمام عیوب سے اور اپنی تعریف کے ساتھ ہے، سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اللہ سب سے بڑا ہے۔ تو اس شخص کے گناہوں کی مغفرت کردی جائے گی اگرچہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 28226]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28226، ترقيم محمد عوامة 27058)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 27059 ترقیم الشثری: -- 28227
٢٨٢٢٧ - حدثنا الفضل بن دكين قال: ثنا زهير عن ابي إسحاق عن فروة بن نوفل عن ابيه ان رسول الله ﷺ قال له:"فمجيء ما جاء بك؟" قال: جئت يا رسول الله تعلمني شيئا (اقوله) (١) عند منامي قال:"إذا اخذت مضجعك فاقرا: ﴿قل ياايها الكافرون﴾، ثم نم على (خاتمتها) (٢) ، فإنها براءة من الشرك" (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) زيادة من: [ث].
(٢) في [جـ، م]: (خاتمها).
(٣) منقطع حكمًا؛ أبو إسحاق مدلس، أخرجه أحمد (٢٣٨٠٧)، وأبو داود (٥٠٥٥)، والترمذي (٣٤٠٣)، والنسائي في عمل اليوم والليلة (٨٠١)، وابن حبان (٧٩٠)، والحاكم (٢/ ٥٣٨)، والدارمي (٣٤٢٧)، والبخاري في التاريخ (٨/ ١٠٨)، والبغوي في الجعديات (٢٦٥٤)، والطبراني في الدعاء (٢٧٧)، وابن السني (٦٨٩)، والبيهقي في الشعب (٢٥٢٠)، والخطيب في الأسماء المبهمة (ص ٣٠٨)، والواحدي في الوسيط (٤/ ٥٦٤)، وابن الأثير (٥/ ٣٧٠).

حضرت نوفل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: آئے ہوئے تمہیں کیا چیز لائی؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! میں آیا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے سوتے وقت پڑھنے کے لیے کوئی دعا سکھا دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم اپنے بستر پر لیٹ جاؤ تو تم سورة الکافرون پڑھو، پھر اس کے ختم کرنے پر سو جاؤ۔ اس لیے کہ یہ سورت شرک سے بری ہونے کا پروانہ ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 28227]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28227، ترقيم محمد عوامة 27059)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 27060 ترقیم الشثری: -- 28228
٢٨٢٢٨ - [حدثنا مروان بن معاوية عن ابي مالك الاشجعي عن عبد الرحمن بن نوفل الاشجعي (عن) (١) ابيه قال: قلت يا رسول الله اخبرني بشيء اقوله إذا اصبحت وإذا امسيت، قال:"اقرا: ﴿قل ياايها الكافرون﴾، ثم نم على خاتمتها، فإنها براءة من الشرك"] (٢) (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (من).
(٢) الحديث سقط من: [جـ]، وفي [ث]: بعدها (باب).
(٣) مجهول؛ عبد الرحمن بن نوفل مجهول، وانظر: ما قبله.

حضرت نوفل اشجعی فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! مجھے کوئی ایسی دعا بتلا دیجئے جو میں صبح و شام پڑھا کروں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم سورة الکافرون پڑھا کرو، پھر اس کے ختم ہونے پر سو جایا کرو۔ اس لیے کہ یہ شرک سے بری ہونے کا پروانہ ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 28228]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28228، ترقيم محمد عوامة 27060)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں