مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
233. ما ذكر في القائلة نصف النهار
ان روایات کا بیان جو آدھے دن کے وقت قیلولہ کرنے کے بارے میں ذکر کی گئیں
ترقیم عوامۃ: 27211 ترقیم الشثری: -- 28379
٢٨٣٧٩ - حدثنا ابو اسامة عن زائدة عن منصور عن مجاهد قال: بلغ عمر ان عاملا له لم يقل، فكتب إليه عمر: قل، فإني حدثت ان الشيطان لا يقيل (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع؛ مجاهد لم يدرك عمر.
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ حضرت عمر کو خبر ملی کہ ان کا مقرر کردہ گورنر قیلولہ نہیں کرتا۔ حضرت عمر نے اس کو خط لکھا: قیلولہ کیا کرو، اس لیے کہ مجھے بیان کیا گیا ہے کہ بیشک شیطان قیلولہ نہیں کرتا۔ حضرت مجاہد نے فرمایا: بیشک شیاطین قیلولہ نہیں کرتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 28379]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28379، ترقيم محمد عوامة 27211)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 28380
٢٨٣٨٠ - قال مجاهد: إن الشياطين لا يقيلون.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28380، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: 27212 ترقیم الشثری: -- 28381
٢٨٣٨١ - حدثنا محمد بن بشر ووكيع قال: حدثنا مسعر (قال: حدثني ثابت بن عبيدة عن عبد الرحمن) (١) بن ابي ليلى عن خوات بن جبير وكان بدريا قال: (٢) نوم ⦗٥٢٧⦘ اول النهار خرق، واوسطه خلق، وآخره حمق (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) ما بين القوسين تكرر في: [ط].
(٢) في [أ، ط، هـ]: زيادة (كان).
(٣) صحيح؛ أخرجه الحاكم (٤/ ٢٩٣)، والبخاري في الأدب المفرد (١٢٤٢)، والطحاوي في شرح المشكل (٣/ ١٠٢)، والدينوري في المجالسة (٢٠٤٦).
حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ فرماتے ہیں کہ حضرت خوات بن جبیر جو بدری صحابی ہیں انہوں نے ارشاد فرمایا: دن کے ابتدائی حصہ میں سونا بےوقوفی ہے اور دن کے درمیان میں سونا فطرت ہے اور دن کے آخری حصہ میں سونا حماقت ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 28381]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28381، ترقيم محمد عوامة 27212)
ترقیم عوامۃ: 27213 ترقیم الشثری: -- 28382
٢٨٣٨٢ - حدثنا عيسى بن يونس عن عبد الرحمن بن يزيد (بن) (١) جابر عن مكحول: انه كان يكره النوم بعد العصر، وقال: يخاف على صاحبه منه الوسواس.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ز]: (عن).
حضرت عبد الرحمن بن یزید بن جابر فرماتے ہیں کہ حضرت مکحول عصر کے بعد سونے کو مکروہ سمجھتے تھے اور فرماتے: ایسا کرنے پر وسوسوں میں مبتلا ہوجانے کا اندیشہ ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 28382]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28382، ترقيم محمد عوامة 27213)