مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
25. إذا ادعى أن سمعه قد ذهب
زوال سماعت کا دعویٰ
ترقیم عوامۃ: 27442 ترقیم الشثری: -- 28620
٢٨٦٢٠ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج قال: بلغني ان عمر بن عبد العزيز جاء إليه رجل فقال: ضربني فلان حتى صمت إحدى اذني فقال: كيف (نعلم) (١) ؟ فقال: ادعوا الاطباء، (فدعاهم) (٢) فشموها فقالوا: هذه الصماء.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ط]: (تعلم)، وفي [م]: (يعلم).
(٢) في [جـ، م]: (فدعوهم).
حضرت ابن جریج نے فرمایا ہے کہ مجھ کو یہ خبر ملی ہے کہ عمر بن عبدالعزیز کے پاس ایک آدمی نے آ کر کہا کہ مجھے فلاں شخص نے مارا ہے یہاں تک کہ میرا ایک کان بہرا ہوگیا ہے تو حضرت عمر نے فرمایا ہمیں کیسے پتہ چلے گا تو اس نے جواب دیا کہ اطباء کو بلا لیجیے تو انہوں نے اطباء کو بلایا پھر انہوں نے سونگھ کر کہا کہ یہ بہرہ ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 28620]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28620، ترقيم محمد عوامة 27442)
ترقیم عوامۃ: 27443 ترقیم الشثری: -- 28621
٢٨٦٢١ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عمر بن علي بن عطاء بن مقدم عن حجاج عن مكحول عن زيد بن ثابت في الرجل يدعي (انه) (١) قد ذهب سمعه قال: يحلف عليه (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب، م]: (أن).
(٢) منقطع؛ مكحول لم يسمع من زيد.
حضرت زید بن ثابت سے ایسے شخص کے بارے میں کہ جو اپنی سماعت کے زائل ہوجانے کا دعویٰ کرے ارشاد مروی ہے کہ اس آدمی سے اس پر قسم لی جائے گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 28621]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28621، ترقيم محمد عوامة 27443)
ترقیم عوامۃ: 27444 ترقیم الشثری: -- 28622
٢٨٦٢٢ - [حدثنا ابو بكر قال: حدثنا حفص عن اشعث عن بعض اصحابه عن شريح: ان رجلا ادعى ان سمعه قد ذهب. قال: تنظر إليه (الداريون) (١) ، يعني الاطباء] (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (الدادون).
(٢) سقط الخبر من: [أ، ب، هـ].
حضرت شریح سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے اپنی شنوائی کے چلے جانے کا دعوی کیا تو انہوں نے اس پر اس کو قسم اٹھا نے کا حکم دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 28622]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28622، ترقيم محمد عوامة 27444)
ترقیم عوامۃ: 27446 ترقیم الشثری: -- 28623
٢٨٦٢٣ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن ابن ابي نجيح عن مجاهد قال: إذا سمع الرعد (فغشي) (١) عليه ففيه الدية.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، هـ]: (تغشى).
حضرت مجاہد سے مروی ہے کہ جب اس نے کڑک دار آواز کو سنا اور بےہوش ہوگیا تو اسمیں دیت ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 28623]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28623، ترقيم محمد عوامة 27446)
ترقیم عوامۃ: 27447 ترقیم الشثری: -- 28624
٢٨٦٢٤ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا يحيى بن يمان عن سفيان عن جابر عن إبراهيم قال: (يغتفل) (١) فيصاح به.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (يعتقل).
حضرت ابراہیم سے مروی ہے کہ اس کو بحالت غفلت پکارا جائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 28624]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28624، ترقيم محمد عوامة 27447)
ترقیم عوامۃ: 27448 ترقیم الشثری: -- 28625
٢٨٦٢٥ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا زيد بن الحباب قال: حدثنا الزبير بن جنادة قال: سالت عطاء عن رجل ضرب رجلا فذهب سمعه، وقد كان سميعا قال: يترك فإذا استثقل نوما اجلب حوله، فإن لم (يستنبه) (١) كانت الدية، وإن استنبه كانت حكومة.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (يستنبذ).
حضرت زبیربن جنادہ کا ارشاد ہے کہ میں نے عطاء سے ایسے شخص کے بارے میں سوال کیا کہ جس نے دوسرے کو مارا، پھر اس کی قوت سماعت چلی گئی، حالانکہ قبل ازیں وہ سنتا تھا؟ تو عطاء نے جواب دیا کہ اسے چھوڑ دیا جائے گا، پھر جب وہ گہری نیند میں ہو تو اس کے اردگرد شور و غل کیا جائے اگر وہ نہ جاگے تو دیت ہوگی اور اگر جاگ جائے تو فیصلہ ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 28625]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28625، ترقيم محمد عوامة 27448)