مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
180. القوم يدفع بعضهم بعضا في البئر أو الماء
ان لوگوں کا بیان جن میں سے بعض نے بعض کو کنویں یا پانی میں دھکا دیا
ترقیم عوامۃ: 28451 ترقیم الشثری: -- 29700
٢٩٧٠٠ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابو الاحوص عن سماك عن حنش بن المعتمر قال: حفرت زبية باليمين للاسد فوقع فيها الاسد، فاصبح الناس يتدافعون على راس البئر، فوقع فيها رجل فتعلق بآخر، وتعلق الآخر (بآخر) (١) ، فهوى فيها اربعة فهلكوا فيها جميعا، فلم يدر الناس كيف (يصنعون) (٢) ؟ فجاء علي فقال: إن شئتم قضيت بينكم بقضاء يكون جائزا بينكم حتى (تاتوا) (٣) النبي ﷺ (٤) قال: فإني اجعل الدية على من حضر راس البئر، فجعل للاول الذي هو في البئر ربع ⦗٢٦٧⦘ الدية، وللثاني ثلث الدية، وللثالث نصف الدية، وللرابع كاملة، (قال) (٥) : فتراضوا على ذلك حتى اتوا النبي ﷺ فاخبروه بقضاء علي فاجاز القضاء (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (بالآخر).
(٢) في [ط]: (يفعلون).
(٣) في [أ، ب، ط، ك]: (تأتون).
(٤) في [ك، م]: ﵇.
(٥) سقط من: [جـ، ط، ك].
(٦) ضعيف؛ يحتمل الانقطاع، حنش ضعيف، وفي إدراكه لعلي كلام، أخرجه أحمد (٥٧٣)، والطيالسي (١١٤)، والبيهقي (٨/ ١١١)، والبزار (٧٣٢)، ووكيع في أخبار القضاة (١/ ٩٥)، وابن أبي عاصم في الديات (٩٤).
حضرت سماک فرماتے ہیں کہ حضرت حنش بن معتمر نے فرمایا: یمن میں شیر کے لیے ایک گڑھا کھودا گیا پس شیر اس میں گرگیا اور لوگ کنویں کے کنارے ایک دو سرے کو دھکم پیل کر رہے تھے کہ اچانک ایک آدمی اس میں گرنے لگا تو اس نے دوسرے کو پکڑ لیا اور دوسرے نے تیسرے کو ایسے کل چار افراد اس گھڑے میں گرگئے اور سب کے سب مرگئے۔ لوگوں کو سمجھ نہیں تھی کہ کہ وہ اس معاملہ کا کیا کریں؟ اتنے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور فرمایا: اگر تم چاہوتو میں تمہارے درمیان ایک فیصلہ کروں جو تمہارے درمیان اس صورت میں جائز ہو کہ تم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاؤ اور فرمایا کہ بیشک میں دیت کا بار ڈالوں گا ان لوگوں پر جو کنویں کے کنارے پر موجود تھے۔ اور آپ نے اس پہلے شخص کے لیے جو کنویں میں گرا تھا دیت کا چوتھائی حصہ لازم قراردیا اور دوسرے شخص کے لیے تہائی دیت اور تیسرے کے لیے نصف دیت اور چوتھے کے لیے مکمل دیت لازم قرار دی پس وہ سب لوگ اس بات پر راضی ہوگئے یہاں تک کہ وہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فیصلہ کے بارے میں بتلایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس فیصلہ کو نافذ کردیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29700]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29700، ترقيم محمد عوامة 28451)
ترقیم عوامۃ: 28452 ترقیم الشثری: -- 29701
٢٩٧٠١ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا عبد الله بن حبيب بن ابي ثابت عن عامر عن مسروق ان ستة غلمة ذهبوا يسبحون، فغرق احدهم فشهد ثلاثة على اثنين انهما (غرقاه) (١) ، وشهد اثنان على ثلاثة انهم (غرقوه) (٢) ، فقضى (علي) (٣) (ان) (٤) على الثلاثة خمسي الدية، وعلى الاثنين ثلاثة اخماس الدية (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، م]: (أغرقاه).
(٢) في [جـ، م]: (أغرقوه).
(٣) سقط من: [أ، ح، ط، هـ].
(٤) سقط من: [ط، هـ].
(٥) صحيح.
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ حضرت مسروق نے فرمایا: چھ بچے تیرنے کے لیے گئے تو ان میں سے ایک پانی میں ڈوب گیا۔ پھر تین بچوں نے دو کے خلاف گواہی دی کہ ان دونوں نے اسے ڈبویا ہے اور دونے تین بچوں کے خلاف گواہی دی کہ ان تینوں نے اسے ڈبویا ہے۔ اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یوں فیصلہ فرمایا کہ ان تین لڑکوں پر دیت کے دو خمس لازم ہوں گے اور ان دولڑکوں پر دیت کے تین خمس لازم ہوں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29701]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29701، ترقيم محمد عوامة 28452)
ترقیم عوامۃ: 28453 ترقیم الشثری: -- 29702
٢٩٧٠٢ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا (يحيى) (١) بن سعيد عن سفيان عن فراس عن الشعبي عن مسروق انه جعل الدية اسباعا: اربعة على ثلاثة، وثلاثة على اربعة.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (محمد).
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت مسروق نے دیت کو سات حصوں میں تقسیم کیا، کہ چار حصہ تین پر اور تین حصہ چار پر۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29702]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29702، ترقيم محمد عوامة 28453)
ترقیم عوامۃ: 28454 ترقیم الشثری: -- 29703
٢٩٧٠٣ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن مسهر عن سعيد عن قتادة عن خلاس قال: استاجر رجل اربعة رجال ليحفروا له بئرا، فحفروها فانخسفت بهم البئر، ⦗٢٦٨⦘ فمات احدهم، فرفع ذلك إلى علي، فضمن الثلاثة ثلاثة ارباع الدية، وطرح عنهم ربع الدية (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح.
حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ حضرت خلاس نے ارشاد فرمایا: ایک آدمی نے چار آدمیوں کو اجرت پر رکھا تا کہ وہ اس کے لیے کنواں کھودیں انہوں نے کنواں کھودا تو کنویں میں وہ لوگ دھنس گئے اور ان میں سے ایک کی موت واقع ہوگئی یہ معاملہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ نے ان تینوں کود یت کے تین چوتھائی حصوں کا ضامن بنایا اور ان سے دیت کے چوتھے حصہ کی تخفیف کردی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29703]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29703، ترقيم محمد عوامة 28454)
ترقیم عوامۃ: 28455 ترقیم الشثری: -- 29704
٢٩٧٠٤ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا ابو مالك عن علي بن الاقمر ان رجلا استاجر ثلاثة يحفرون له حائطا، فضربوا في اصله جمبعا فوقع عليهم، فمات احدهم فاختصموا إلى (شريح) (١) ، ففضى على (الباقيين) (٢) بثلثي الدية.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (شرح).
(٢) في [أ، ط]: (الباقين).
حضرت ابو مالک فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بن اقمر نے ارشاد فرمایا: ایک آدمی نے تین آدمیوں کو اجرت پر رکھا تا کہ وہ اس کی دیوار کھودیں ان سب نے اس کی بنیاد میں ضرب لگائی تو وہ دیوار ان پر گرگئی اور ان میں سے ایک مرگیا وہ لوگ یہ جھگڑا لیکر حضرت شریح کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے باقی دو آدمیوں پر دیت کے دو تہائی حصوں کا فیصلہ فرمایا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29704]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29704، ترقيم محمد عوامة 28455)
ترقیم عوامۃ: 28456 ترقیم الشثری: -- 29705
٢٩٧٠٥ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عبد الاعلى عن (معمر) (١) عن الزهري انه سئل عن اجراء: استؤجروا يهدمون حائطا فخر عليهم، فمات بعضهم انه يغرم (بعضهم) (٢) لبعض، الدية على من بقي.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (عمر).
(٢) في [ط، هـ]: (بعضهم).
حضرت معمر فرماتے ہیں کہ امام زہری سے ایسے مزدوروں کے متعلق پوچھا گیا جن کو دیوار گرانے کے لیے اجرت پر کھا گیا تھا پس وہ دیوار ان ہی پر گرگئی اور ان میں سے بعض کی موت واقع ہوگئی؟ حضرت زہری نے بعض کو بعض کے لیے ضامن بنایا کہ دیت باقی بچنے والوں پر لازم ہوگی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29705]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29705، ترقيم محمد عوامة 28456)
ترقیم عوامۃ: 28457 ترقیم الشثری: -- 29706
٢٩٧٠٦ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا (موسى) (١) بن علي عن ابيه قال: جاء اعمى ينشد الناس في زمان عمر يقول: (يا) (٢) ايها الناس (٣) لقيت منكرا … هل يعقل الاعمي الصحيح المبصرا خرا معا كلاهما (تكسرا) (٤)
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ط].
(٢) سقط من: [ك].
(٣) في [ط]: زيادة (لقد).
(٤) في [أ، ب]: (مكسرا).
حضرت موسیٰ بن علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ان کے والد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: کہ حضرت عمر کے زمانے میں ایک اندھا لوگوں کو یہ شعر سنا رہا تھا: ترجمہ:۔ اے لوگو! مجھے ایک نامعقول بات کا سامنا ہے۔ کیا اندھا بھی صحیح اور دیکھنے والے کو دیت ادا کرے گا؟ حالانکہ وہ دونوں اکٹھے گرے تھے ان دونوں کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی؟ حضرت وکیع فرماتے ہیں لوگوں کی یہ رائے تھی کہ ایک بینا آدمی نابینا کو لے کر جا رہا تھا کہ وہ دونوں کنویں میں گرگئے تھے اور یہ اندھا اس پر گرگیا تھا یا تو اس نے اسے مار دیا تھا یا اسے زخمی کردیا تھا تو اس اندھے کو ضامن بنایا گیا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29706]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29706، ترقيم محمد عوامة 28457)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 29707
0
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29707، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 29708
٢٩٧٠٨ - [*] قال وكيع: كانوا يرون ان رجلا صحيحا كان يقود اعمى فوقعا في بئر فوقع عليه، فإما (قتله) (١) ، وإما جرحه، فضمن الاعمى.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (قلله).
[*] قال مُعِدُّ الكتاب للشاملة: كذا بالمطبوع، قفز في الترقيم
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29708، ترقيم محمد عوامة ---)