مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
189. ما يحل به دم المسلم
جس وجہ سے مسلمان کا خون حلال ہوجاتا ہے
ترقیم عوامۃ: 28479 ترقیم الشثری: -- 29738
٢٩٧٣٨ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن ايوب (١) عن ابي قلابة قال: ما قتل على عهد رسول الله ﷺ ولا ابي بكر ولا عمر رجل من المسلمين إلا (من) (٢) زنا او قتل او حارب الله ورسوله.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: زيادة (عن أبي رجاء).
(٢) في [أ، ب، جـ، ط، ك، م]: (في).
حضرت ایوب فرماتے ہیں کہ حضرت ابو قلابہ نے ارشاد فرمایا: مسلمانوں میں سے کوئی آدمی قتل نہیں کیا گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں نہ ہی ابوبکر کے زمانے میں اور نہ ہی حضرت عمر کے زمانے میں مگر زنا کے معاملہ میں یا قتل کے معاملہ میں یا وہ شخص جس نے اللہ اور اس کے رسو ل (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جنگ کی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29738]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29738، ترقيم محمد عوامة 28479)
ترقیم عوامۃ: 28480 ترقیم الشثری: -- 29739
٢٩٧٣٩ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا الاعمش عن عبد الله بن مرة عن مسروق عن عبد الله قال: قال رسول الله ﷺ:"لا يحل دم امرئ يشهد ان لا إله إلا الله واني رسول الله إلا احد ثلاثة نفر: النفس بالنفس، والثيب الزاني، والتارك لدينه المفارق للجماعة" (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٨٧٨)، ومسلم (١٦٧٦).
حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس آدمی کا خون حلال نہیں ہوسکتا جو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور بیشک میں اللہ کا رسول ہوں مگر تین میں سے ایک شخص کا، جان کے بدلے جان ہو اور شادی شدہ زنا کرنے والا، اور اپنے دین کو چھوڑنے والا جماعت سے علیحدگی اختیار کرنے والا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29739]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29739، ترقيم محمد عوامة 28480)
ترقیم عوامۃ: 28481 ترقیم الشثری: -- 29740
٢٩٧٤٠ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن ابي إسحاق عن عمرو بن غالب عن عائشة قالت: قال رسول الله ﷺ:"لا يحل دم امرئ مسلم، إلا رجل قتل فقتل، او رجل زنى بعد ما احصن، او رجل ارتد بعد إسلامه" (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ عمرو بن غالب ثقة، أخرجه أحمد (٢٤٣٠٤)، ومسلم (١٦٧٦).
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کسی مسلمان آدمی کا خون حلال نہیں ہے مگر وہ شخص جس نے قتل کردیا تو اس کو بھی قتل کردیا جائے گا یا وہ شخص جس نے شادی شدہ ہونے کے بعد زنا کیا یا وہ شخص جو اپنے اسلا م لانے کے بعد مرتد ہوگیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29740]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29740، ترقيم محمد عوامة 28481)
ترقیم عوامۃ: 28482 ترقیم الشثری: -- 29741
٢٩٧٤١ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابو الاحوص عن ابي إسحاق عن عمرو بن غالب عن عائشة عن النبي ﵇ (١) مثله (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: ﷺ.
(٢) صحيح؛ أخرجه مسلم (١٦٧٦)، وأحمد (٢٥٧٩٤).
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مذکورہ ارشاد اس سند سے بھی منقول ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29741]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29741، ترقيم محمد عوامة 28482)
ترقیم عوامۃ: 28483 ترقیم الشثری: -- 29742
٢٩٧٤٢ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا جرير بن عبد الحميد عن منصور (عن إبراهيم) (١) عن ابي (معمر) (٢) عن مسروق عن عائشة قالت: ما حل دم احد من اهل هذه القبلة إلا من استحل ثلاثة اشياء: قتل النفس بالنفس، والثيب الزاني، والمفارق جماعة المسلمين او الخارج من جماعة المسلمين (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ك، م] زيادة: (عن إبراهيم).
(٢) في [أ، ط، ك، م]: (معشر).
(٣) صحيح؛ أخرجه الحاكم (٤/ ٣٥٤)، والدارقطني (٣/ ٨٣) وفي العلل (٥/ ٢٥٥).
حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ارشاد فرمایا: اس قبلہ کی طرف رخ کرنے والوں میں سے کسی ایک کا بھی خون حلال نہیں ہے مگر وہ شخص جو ان چیزوں کو حلال سمجھے۔ جان کے بدلہ جان کا قتل کرنا اور شادی شدہ زانی، اور مسلمانوں کی جماعت سے عیحدے گی ہونے والا یا یوں فرمایا: مسلمانوں کی جماعت سے نکلنے والا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29742]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29742، ترقيم محمد عوامة 28483)
ترقیم عوامۃ: 28484 ترقیم الشثری: -- 29743
٢٩٧٤٣ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا (محمد بن قيس) (١) عن ابي حصين ان عثمان اشرف على الناس يوم الدار فقال: اما علمتم انه لا يحل دم امرئ مسلم إلا اربعة: رجل قتل فقتل، او رجل زنى بعد ما احصن، او رجل ارتد بعد إسلامه، او رجل عمل عمل قوم لوط (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك]: (قيس ومحمد).
(٢) منقطع؛ أبو حصين لا يروي عن عثمان.
حضرت ابو حصین فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان نے یوم الدار والے دن لوگوں پر جھانکا اور فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ کسی مسلمان شخص کا خون حلال نہیں ہے مگر چار آدمیوں کا ایک وہ شخص جس نے قتل کیا پس اس کو بھی قتل کیا جائے گا یا وہ شخص جس نے شادی شدہ ہونے کے بعد زنا کیا یا وہ شخص جو اپنے اسلام لانے کے بعد مرتد ہوگیا یا وہ شخص جس نے قوم لوط والا عمل کیا یعنی لواطت۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29743]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29743، ترقيم محمد عوامة 28484)