مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
191. الدم يقضي فيه الأمراء
اس خون کا بیان جس کے بارے میں امیر فیصلہ کریں گے
ترقیم عوامۃ: 28488 ترقیم الشثری: -- 29747
٢٩٧٤٧ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن الاعمش عن عمارة عن عبد الرحمن بن (يزيد) (١) قال: قال (سلمان) (٢) : (اما) (٣) الدم فيقضي فيه عمر (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح، ط، هـ]: (زيد).
(٢) في [أ، ط، هـ]: (سليمان).
(٣) في [هـ]: (أم).
(٤) صحيح.
حضرت عبدالرحمن بن یزید فرماتے ہیں کہ حضرت سلمان فارسی نے ارشاد فرمایا: بہر حال خون تو اس بارے میں حضرت عمر فیصلہ فرمائیں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29747]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29747، ترقيم محمد عوامة 28488)
ترقیم عوامۃ: 28489 ترقیم الشثری: -- 29748
٢٩٧٤٨ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع (قال: حدثنا) (١) مسعر عن عبد الملك بن ميسرة عن النزال بن سبرة قال: كتب عمر إلى امراء الاجناد ان لا تقتل نفس دوني (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، هـ]: (عن).
(٢) صحيح.
حضرت نزال بن سبرہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے اجناد کے امیروں کی طرف خط لکھا: میری اجازت کے بغیر کسی کو بھی قتل نہیں کیا جائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29748]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29748، ترقيم محمد عوامة 28489)
ترقیم عوامۃ: 28490 ترقیم الشثری: -- 29749
٢٩٧٤٩ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا حفص عن اشعث عن ابن سيرين قال: كان لا يقضى في دم دون امير المؤمنين.
حضرت اشعث فرماتے ہیں کہ حضرت ابن سیرین نے ارشاد فرمایا: کسی بھی خون کے بارے میں امیرالمومنین کے بغیر فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29749]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29749، ترقيم محمد عوامة 28490)
ترقیم عوامۃ: 28491 ترقیم الشثری: -- 29750
٢٩٧٥٠ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عبدة عن عبيد الله بن عمر عن نافع عن ابن عمر ان جارية لحفصة سحرتها ووجدوا سحرها (واعترفت) (١) به، (فامرت) (٢) عبد الرحمن بن زيد فقتلها، فبلغ ذلك عثمان فانكره واشتد عليه، فاتاه ابن عمر فاخبره انها سحرتها واعترفت به ووجدوا سحرها، فكان عثمان إنما انكر ذلك؛ لانها قتلت بغير إذنه (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، هـ]: (فاعترفت).
(٢) في [أ، ب]: (فأمر).
(٣) صحيح.
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے ارشاد فرمایا: حضرت حفصہ کی ایک باندی نے آپ پر جادو کردیا اور ان لوگوں نے جادو کا اثر محسوس بھی کیا اس باندی نے اس کا اعتراف کرلیا۔ تو حضرت عبدالرحمن بن زید کے حکم سے اس کو قتل کردیا گیا حضرت عثمان کو اس کی خبر پہنچی تو آپ نے اس بات کو ناپسند کیا اور اس پر بہت غصہ ہوئے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما آپ کے پاس تشریف لائے اور آپ کو اطلاع دی کہ اس باندی نے حضرت حفصہ پر جادو کیا تھا اور اس کا اعتراف بھی کیا اور ان لوگوں نے اس کے جادو کا اثر بھی پایا تھا۔ پس گویا حضرت عثمان نے اس کو ناپسند کیا اس لیے کہ اس کو آپ کی اجازت کی بغیر قتل کیا گیا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29750]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29750، ترقيم محمد عوامة 28491)