🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

216. الرجل يصاب بخبل أو دم
اس آدمی کا بیان جس کو زخم لگا دیا گیا ہو یا قتل کردیا ہو
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 28575 ترقیم الشثری: -- 29844
٢٩٨٤٤ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابو خالد الاحمر عن محمد بن إسحاق عن الحارث بن فضيل عن ابن ابي العوجاء عن ابي شريح الخزاعي قال: قال رسول الله ﷺ:"من اصيب بدم او (خبل) (١) -و (الخبل) (٢) الجرح- فهو بالخيار بين إحدى ثلاث: فإن اراد الرابعة فخذوا على يديه: ان يقتل او يعفو (او) (٣) ياخذ الدية، فمن فعل شيئا من ذلك فعاد فله نار جهنم خالدا مخلدا فيها ابدا" (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ط]: (حبل).
(٢) في [أ، ب، ط]: (حبل).
(٣) في [هـ]: (و).
(٤) ضعيف؛ لضعف ابن أبي العوجاء، أخرجه أحمد (١٦٣٧٥)، وأبو داود (٤٤٩٦)، وابن ماجة (٢٦٢٣)، والبخاري في التاريخ ٣/ ٢٢٤، والدارقطني ٣/ ٩٦، والدارمي ٢/ ١٨٨، والطبراني ٢٢/ ٤٩٧، والمزي ١١/ ١٧، والطحاوي ٣/ ١٧٤، والبيهقي ٨/ ٥٢، وعبد الرزاق (١٨٤٥٤).

حضرت ابو شریح خزاعی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص کو قتل کردیا گیا یا اس کو زخمی کیا گیا تو اس کو تین باتوں میں سے ایک میں اختیار ہے پس اگر وہ چوتھی بات کا ارادہ کرے تو تم اس کے ہاتھ پکڑ لو وہ کام یہ ہیں: قتل کردے یا وہ معاف کر دے یا وہ دیت لے لے پس جس نے اس میں سے کوئی کام کیا اور پھر دوبارہ لوٹا تو اس کے لیے جہنم کی آگ ہے اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29844]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29844، ترقيم محمد عوامة 28575)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 28576 ترقیم الشثری: -- 29845
٢٩٨٤٥ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابو اسامة عن عوف عن حمزة (ابي) (١) عمر عن علقمة بن وائل عن ابيه قال: شهدت رسول الله ﷺ حين (اتي) (٢) بالقاتل يجر في نسعته، فقال رسول الله ﷺ: لولي المقتول:"اتعفو عنه؟"، قال: لا، قال:"افتاخذ الدية؟"، قال: لا، قال:"فتقتله؟"، قال: نعم، فاعاد عليه ثلاثا فقال له رسول الله ﷺ:"إن عفوت عنه فإنه يبوء بإثمه"، قال: فعفى، فرايته يجر نسعته قد عفى عنه (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، هـ]: (ابن)، وفي [ط]: (أو).
(٢) في [ط]: (أوتي).
(٣) صحيح؛ حمزة هو ابن عمرو العائذي ثقة على الصحيح، وأخرجه مسلم (١٦٨٠)، وأبو داود (٤٤٩٩)، والنسائي (٨/ ١٣).

حضرت وائل فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر تھا قاتل کو لایا گیا اسے اس کے تسموں میں گھسیٹا جا رہا تھا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مقتول کے سرپرست سے فرمایا: کیا تم اسے معاف کروگے؟ اس نے کہا نہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم دیت لو گے؟ اس نے کہا نہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس کو قتل کرو گے؟ اس نے کہا جی ہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر اس بات کو تین بار دہرایا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: اگر تم اس کو معاف کردو گے تو یہ اپنے گناہ کا بوجھ اٹھا کر پھرے گا راوی کہتے ہیں: پس اس شخص نے معاف کردیا اور میں نے اس قاتل کو دیکھا کہ وہ اپنے تسمہ کا ٹکڑا گھسیٹ رہا تھا، تحقیق اسے معاف کردیا گیا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29845]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29845، ترقيم محمد عوامة 28576)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 28577 ترقیم الشثری: -- 29846
٢٩٨٤٦ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن ابي صالح عن ابي هريرة قال: قتل رجل على عهد رسول الله ﷺ فرفع ذلك إلى النبي ﷺ فدفعه إلى ولي المقتول، فقال القاتل: يا رسول الله (١) ما اردت قتله، قال: فقال النبي ﷺ للولي:"اما (٢) إن كان صادقا ثم (قتلته) (٣) دخلت النار"، قال: فخلى سبيله، قال: وكان مكتوفا بنسعة، قال: فخرج يجر نسعته، قال: فسمي ذا النسعة (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: زيادة (واللَّه).
(٢) في [هـ]: زيادة (إنه).
(٣) في [أ، ب، ط]: (قتله).
(٤) صحيح؛ أخرجه أبو داود (٤٤٩٨)، والترمذي (١٤٠٧)، والنسائي ٨/ ١٣، وابن ماجه (٢٦٩٠)، وأبو عوانة (٦١٩٣)، والطحاوي في شرح المشكل ٢/ ٤٠٢.

حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں قتل کردیا سو یہ معاملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے مقتول کے سرپرست کے حوالہ کردیا قاتل نے کہا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! میں نے اس کے قتل کا ارادہ نہیں کیا تھا اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سرپرست سے فرمایا: اگر یہ سچا ہوا پھر تم نے اس کو قتل کردیا تو تم جہنم میں داخل ہوگے۔ راوی کہتے ہیں: اس نے اس کا راستہ خالی کردیا یعنی معاف کردیا اور اس قاتل کی تسمہ سے مشکیں بندھی ہوئی تھیں پس وہ نکلا اس حال میں کہ و ہ اپنے تسمہ کو گھسیٹ رہا تھا اس کا نام ہی تسمہ والا پڑگیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29846]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29846، ترقيم محمد عوامة 28577)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں