مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
17. الرجل يقر بالسرقة: كم يردد مرة؟
اس آدمی کے بارے میں جو چوری کا اقرار کرے کتنی مرتبہ اس کی تردید کی جائے گی؟
ترقیم عوامۃ: 28774 ترقیم الشثری: -- 30059
٣٠٠٥٩ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابو الاحوص عن الاعمش عن القاسم (بن عبد الرحمن عن ابيه قال: كنت قاعدا عند علي (فجاء رجل) (١) فقال: يا امير المؤمنين! إني قد سرقت، فانتهره، ثم عاد الثانية فقال: إني قد سرقت، فقال له علي: قد شهدت على نفسك شهادتين، قال: فامر به فقطعت يده، فرايتها معلقة -يعني في عنقه (٢) -.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ط].
(٢) صحيح.
حضرت عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی آیا اور کہنے لگا! اے امیرالمومنین! بیشک میں نے چوری کی ہے پس آپ نے اس کو خوب جھڑک دیا، وہ دوسری مرتبہ پھر لوٹا اور کہنے لگا بیشک میں نے چوری کی ہے اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: تحقیق تو نے اپنے خلاف دو مرتبہ گواہی دے دی ہے۔ راوی کہتے ہیں: پس آپ نے اس کے بارے میں حکم دیا تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا میں نے اس کے ہاتھ کو لٹکے ہوئے دیکھا اس کی گردن میں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30059]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30059، ترقيم محمد عوامة 28774)
ترقیم عوامۃ: 28775 ترقیم الشثری: -- 30060
٣٠٠٦٠ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن حسن بن صالح عن غالب ابي الهذيل قال: سمعت سبيعا ابا سالم يقول: شهدت الحسن بن علي واتي برجل اقر بسرقة، فقال له الحسن: فلعلك اختلسته لكي يقول: لا، حتى اقر عنده مرتين او ثلاثا فامر به فقطع (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مجهول؛ لجهالة سبيع أبي سالم.
حضرت سبیع ابو سالم فرماتے ہیں کہ میں حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر تھا اس حال میں ایک آدمی کو پکڑ کر لایا گیا جس نے چوری کا اقرار کیا تھا اس پر حضرت حسن نے فرمایا شاید تو نے چھین لیا ہوتا کہ وہ کہہ دے نہیں۔ یہاں تک کہ اس شخص نے آپ کے پاس دو یا تین مرتبہ اقرار کرلیا پس آپ کے حکم سے اس کا ہاتھ کاٹ دیا گاا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30060]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30060، ترقيم محمد عوامة 28775)
ترقیم عوامۃ: 28776 ترقیم الشثری: -- 30061
٣٠٠٦١ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج قال: قلت لعطاء: رجل شهد على نفسه مرة واحدة بانه سرق قال: حسبه.
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے دریافت کیا کہ ایک آدمی نے اپنے خلاف ایک مرتبہ گواہی دی کہ تحقیق اس نے چوری کی ہے؟ آپ نے فرمایا: اس کے لیے کافی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30061]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30061، ترقيم محمد عوامة 28776)