مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
81. في (العبد) يسرق من مولاه، ما عليه؟
اس غلام کے بیان میں جو اپنے آقا کے مال میں سے چوری کرلے، اس پر کیا سزا جاری ہوگی؟
ترقیم عوامۃ: 29161 ترقیم الشثری: -- 30473
٣٠٤٧٣ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن السائب بن يزيد ان عبد الله بن (عمرو) (١) بن الحضرمي قال: اتيت عمر بغلام لي فقلت: اقطعه، قال: وما له؟ قلت: سرق (مرآة) (٢) لامراتي خير من ستين درهما، قال عمر: غلامكم (سرق) (٣) متاعكم (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (عمر).
(٢) في [جـ]: (مرة).
(٣) في [ك]: (يسرق).
(٤) صحيح؛ أبي الحضرمي صحابي.
حضرت عبداللہ بن عمرو بن حضرمی فرماتے ہیں کہ میں حضرت عمر کے پاس اپنا ایک غلام لایا اور میں نے عرض کی، آپ اس کا ہاتھ کاٹ دیں، آپ نے پوچھا: اس کا قصور کیا ہے؟ میں نے عرض کی: اس نے میری بیوی کا آئینہ چوری کیا ہے جو ساٹھ دراہم سے بہتر ہے، حضرت عمر نے فرمایا: تمہارے غلام نے تمہارا ہی مال چوری کیا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30473]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30473، ترقيم محمد عوامة 29161)
ترقیم عوامۃ: 29162 ترقیم الشثری: -- 30474
٣٠٤٧٤ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا (ابو) (١) معاوية عن الاعمش عن إبراهيم عن همام عن عمرو بن شرحبيل قال: جاء معقل المزني إلى عبد الله فقال: (غلامي) (٢) سرق قبائي فاقطعه؟ قال عبد الله: لا، مالك بعضه (في) (٣) بعض (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (ابن).
(٢) في [هـ]: (غلام).
(٣) في [أ، ط، هـ]: (من).
(٤) صحيح.
حضرت عمرو بن شرحبیل فرماتے ہیں کہ حضرت معقل مزنی حضرت عبداللہ بن مسعود کے پاس آئے اور فرمایا: میرے غلام نے میرا چوغہ چوری کیا ہے تو آپ اس کا ہاتھ کاٹ دیں۔ حضرت عبداللہ نے فرمایا: نہیں، تیرے مال کا بعض حصہ میں بعض شائع ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30474]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30474، ترقيم محمد عوامة 29162)
ترقیم عوامۃ: 29163 ترقیم الشثری: -- 30475
٣٠٤٧٥ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون عن حجاج عن الحكم ان عليا قال: إذا سرق عبدي من مالي لم اقطعه (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع؛ الحكم لم يدرك عليًا.
حضرت حکم فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: جب میرے غلام نے میرے مال سے چوری کی تھی تو میں نے اس کا ہاتھ نہیں کاٹا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30475]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30475، ترقيم محمد عوامة 29163)
ترقیم عوامۃ: 29164 ترقیم الشثری: -- 30476
٣٠٤٧٦ - حدثنا ابو بكر (قال: حدثنا يزيد بن هارون) (١) قال: (حدثنا) (٢) سليم ابن حيان قال: حدثنا سعيد بن ميناء قال: كان عبد الله بن الزبير يلي صدقة الزبير، وكانت في بيت لا (يدخله) (٣) احد غيره وغير جارية له، ففقد شيئا من المال، فقال للجارية: ما كان يدخل هذا البيت (غيري و) (٤) غيرك، فمن اخذ هذا المال؟ فاقرت الجارية، فقال لي: يا سعيد انطلق بها فاقطع يدها، فإن المال لو كان لي لم يكن عليها قطع (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ط، هـ].
(٢) في [جـ، ك]: (أخبرنا).
(٣) في [ط]: (لا يدخل).
(٤) في [جـ] ورد: (بعد غيرك).
(٥) صحيح.
حضرت سعید بن مینائ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن زبیر حضرت زبیر کے صدقہ کا انتظام و انصرام سنبھالتے تھے اور وہ صدقہ کا مال اس گھر میں ہوتا تھا جس میں کوئی شخص حضرت عبداللہ بن زبیر اور ان کی باندی کے علاوہ داخل نہیں ہوسکتا تھا پس اس میں سے کچھ مال گم ہوگیا۔ تو آپ نے باندی سے کہا: اس گھر میں میرے اور تیرے علاوہ کوئی داخل نہیں ہوتا تو کس نے یہ مال لیا ہے؟ باندی نے اقرار کرلیا۔ پھر آپ نے مجھ سے فرمایا: اے سعید اس کو لے جاؤ اور اس کا ہاتھ کاٹ د و اس لیے کہ اگر میرا ہوتا تو پھر اس کا ہاتھ نہ کٹتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30476]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30476، ترقيم محمد عوامة 29164)