مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
83. في (الرجل) يؤتى به (فيقال): أسرقت؟ قتل: لا
اس چور کے بیان میں جس کو پکڑ کر لایا گیا اور اس سے یوں کہا گیا: کیا تو نے چوری کی ہے؟ کہہ دے: نہیں
ترقیم عوامۃ: 29167 ترقیم الشثری: -- 30479
٣٠٤٧٩ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن علي بن الاقمر عن (يزيد) (١) بن ابي كبشة ان ابا الدرداء اتي بامراة قد سرقت، فقال لها: سلامة اسرقت؟ قولي لا (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (زيد)، وفي [جـ]: غير واضحة.
(٢) حسن؛ يزيد بن أبي كبشة صدوق.
حضرت یزید بن ابی کبشہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوالدرداء کے پاس ایک عورت لائی گئی جس نے چوری کی تھی۔ آپ نے اس سے فرمایا: اے سلامہ! کیا تو نے چوری کی ہے؟ کہہ دے: نہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30479]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30479، ترقيم محمد عوامة 29167)
ترقیم عوامۃ: 29168 ترقیم الشثری: -- 30480
٣٠٤٨٠ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا شريك عن جابر عن مولى لابي مسعود عن ابي مسعود قال: اتي برجل سرق، فقال: اسرقت؟ قل: وجدته، قال: وجدته فخلى سبيله (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مجهول؛ لجهالة المولى.
حضرت ابو مسعود نے ارشاد فرمایا: ایک آدمی لایا گیا جس نے چوری کی تھی۔ آپ نے پوچھا: کیا تونے چوری کی ہے؟ تو یوں کہہ دے: میں نے اس مال کو پایا ہے۔ اس نے کہہ دیا: میں نے اس مال کو پایا ہے۔ تو آپ نے اسے چھوڑ دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30480]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30480، ترقيم محمد عوامة 29168)
ترقیم عوامۃ: 29169 ترقیم الشثری: -- 30481
٣٠٤٨١ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا سعيد بن ابي عروبة عن سليمان الناجي عن ابي المتوكل ان ابا هريرة اتي بسارق وهو يومئذ (امير) (١) فقال: اسرقت، اسرقت؟ قل: لا (٢) ، لا، مرتين او ثلاثا (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ط]: (أميرًا).
(٢) في [هـ]: زيادة (قل).
(٣) صحيح.
حضرت ابو المتوکل فرماتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ کے پاس ایک چور لایا گیا درآنحالیکہ ان دنوں آپ امیر تھے۔ آپ نے فرمایا: کا تو نے چوری کی ہے؟ کیا تو نے چوری کی ہے؟ یوں کہہ دو، نہیں، نہیں، دو یا تین مرتبہ فرمایا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30481]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30481، ترقيم محمد عوامة 29169)
ترقیم عوامۃ: 29170 ترقیم الشثری: -- 30482
٣٠٤٨٢ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن يزيد بن خصيفة عن محمد ابن عبد الرحمن بن ثوبان ان رجلا سرق شملة فاتي به النبي ﷺ فقالوا: يا رسول ⦗٤٤٥⦘ الله (١) هذا (سرق) (٢) شملة، فقال:"ما اخاله سرق" (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك] زيادة: ﷺ.
(٢) في [ط، م]: (أسرق).
(٣) مرسل؛ محمد بن عبد الرحمن بن ثوبان تابعي، أخرجه أبو داود في المراسيل (٢٤٤)، وعبد الرزاق (١٣٥٨٣)، والطحاوي ٣/ ١٦٨، وأبو عبيد في غريب الحديث ٢/ ٢٥٨، وأبو يوسف في الخراج ص ١٧٦، والبيهقي ٨/ ٢٧١، وورد من حديث ابن ثوبان عن أبي هريرة أخرجه الحاكم ٤/ ٣٨١، والطحاوي ٣/ ١٦٨، والدارقطني ٣/ ١٠٢.
حضرت محمد بن عبدالرحمن بن ثوبان فرماتے ہیں کہ ایک آدی نے چادر چوری کی تو اس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لایا گیا لوگ کہنے لگے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! اس نے چادر چوری کی ہے اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرا گمان نہیں ہے کہ اس نے چوری کی ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30482]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30482، ترقيم محمد عوامة 29170)
ترقیم عوامۃ: 29171 ترقیم الشثری: -- 30483
٣٠٤٨٣ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن حسن بن صالح عن (غالب) (١) ابي الهذيل قال: سمعت (سميعا) (٢) ابا سالم يقول: شهدت الحسن ابن علي واتي برجل اقر بسرقة، فقال له الحسن: لعلك اختلست، لكي يقول: لا (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (قالب).
(٢) في [أ، ب، جـ، ك، هـ]: (سبيعًا)، وانظر: التاريخ الكبير ٤/ ١٨٩، والكنى لمسلم ١/ ٤٠٩، والجرح والتعديل ٤/ ٣٠٦، وتكملة الإكمال ٣/ ١٤٨، والثقات ٤/ ٣٤١.
(٣) مجهول؛ لجهالة سميع.
حضرت سبیع ابو سالم فرماتے ہیں کہ میں حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر تھا درآنحالیکہ ایک چور لایا گیا جس نے چوری کا اقرار کیا تھا اس پر حضرت حسن نے اس سے فرمایا: شاید کہ تو نے دھوکہ سے چھین لیا ہوتا کہ وہ یوں کہہ دے کہ نہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30483]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30483، ترقيم محمد عوامة 29171)
ترقیم عوامۃ: 29172 ترقیم الشثری: -- 30484
٣٠٤٨٤ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج عن عكرمة ابن خالد قال: اتى عمر بسارق قد اعترف، فقال عمر: (إني) (١) لارى يد رجل ما هي بيد سارق، قال الرجل: والله ما انا بسارق، فارسله عمر ولم يقطعه (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ك].
(٢) منقطع؛ عكرمة بن خالد لم يدرك عمر.
حضرت عکرمہ بن خالد فرماتے ہیں کہ حضرت عمر کے پاس ایک چور لایا گیا جس نے چوری کا اعتراف کیا تھا اس پر حضرت عمر نے فرمایا: بیشک میری رائے یہ ہے کہ اس آدمی کا ہاتھ یہ چور کا ہاتھ نہیں ہے، اس آدمی نے کہا: اللہ کی قسم: میں چور نہیں ہوں، سو حضرت عمر نے اسے چھوڑ دیا اور اس کا ہاتھ نہیں کاٹا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30484]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30484، ترقيم محمد عوامة 29172)
ترقیم عوامۃ: 29173 ترقیم الشثری: -- 30485
٣٠٤٨٥ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج عن عطاء يقول: كان من مضى يؤتى بالسارق فيقول: اسرقت؟ (١) ولا (اعلمه) (٢) إلا ⦗٤٤٦⦘ (سمى) (٣) ابا بكر وعمر (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: زيادة (قل لا)، أخذًا من مصنف عبد الرزاق.
(٢) في [ط، هـ]: (أعلم).
(٣) في [ط]: (سميا).
(٤) منقطع؛ عطاء لم يدرك أبا بكر وعمر.
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ حضرت عطاء نے ارشاد فرمایا: گزرے ہوئے لوگوں میں سے جن کے پاس چور لایا جاتا تھا وہ پوچھتے تھے: کیا تو نے چوری کی ہے؟ اور میں نہیں جانتا ان کے بارے میں مگر یہ کہ آپ نے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کا نام لیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30485]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30485، ترقيم محمد عوامة 29173)
ترقیم عوامۃ: 29174 ترقیم الشثری: -- 30486
٣٠٤٨٦ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عيسى بن يونس عن ابن عون قال: حدثني مسكين رجل من اهلي قال: شهدت عليا اتي برجل وامراة وجدا في خربة فقال له علي: اقربتها؟ فجعل اصحاب علي يقولون له: (قل) (١) : لا، فقال: لا، فخلى سبيله (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك]: (قال).
(٢) مجهول؛ لجهالة مسكين.
حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ حضرت مسکین نے جو میرے گھر کے ایک فرد ہیں، مجھے بیان کیا کہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر تھا کہ ایک آدمی اور عورت کو لایا گیا جو دونوں ویران جگہ میں پائے گئے تھے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس آدمی سے پوچھا: کیا تو اس عورت کے قریب ہوا تھا؟ اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہمنشینوں نے کہا: کہہ دے: نہیں اس آدمی نے کہا نہیں تو آپ نے اسے چھوڑ دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30486]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30486، ترقيم محمد عوامة 29174)
ترقیم عوامۃ: 29175 ترقیم الشثری: -- 30487
٣٠٤٨٧ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن المبارك عن معمر (١) عن يحيى عن عكرمة (عن) (٢) ابن عباس ان النبي ﷺ قال لماعز بن مالك:"لعلك قبلت او لمست او باشرت" (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك]: زيادة (عن الزهري).
(٢) سقط من: [جـ].
(٣) صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٨٢٤)، وأخرجه أحمد (٢٣١٠) من طريق المؤلف.
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ماعز بن مالک سے فرمایا: شاید کہ تو نے بوسہ لیا ہو یا چھوا ہو یا تو صرف اس سے گلے ملا ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30487]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30487، ترقيم محمد عوامة 29175)