مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
88. (في) الرجل يسرق الطير أو البازي ما عليه؟
اس آدمی کے بیان میں جو پرندہ یا شکرا چوری کرلے، اس پر کیا سزا جاری ہوگی؟
ترقیم عوامۃ: 29200 ترقیم الشثری: -- 30513
٣٠٥١٣ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا (١) عبد الرحمن بن مهدي (عن) (٢) زهير ابن محمد عن يزيد بن خصيفة قال: (اتي) (٣) عمر بن عبد العزيز برجل (قد) (٤) سرق طيرا، فاستفتى في ذلك السائب بن يزيد، فقال: ما رايت احدا قطع في الطير، و (ما عليه) (٥) في ذلك قطع، فتركه عمر بن عبد العزيز (ولم) (٦) يقطعه.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: زيادة (أبي)، وفي [ط]: (ابن).
(٢) في [ط]: (في).
(٣) في [ط]: (إلى).
(٤) سقط من: [أ، هـ].
(٥) مطموس في: [ط].
(٦) في [جـ، ك]: (فلم).
حضرت یزید ابن خصیفہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کے پاس ایک آدمی لایا گیا جس نے پرندہ چوری کیا تھا تو آپ نے اس بارے میں حضرت سائب بن یزید سے سے فتویٰ پوچھا انہوں نے فرمایا: میں نے کسی کو نہیں دیکھا جس نے پرندے کی چوری میں ہاتھ کاٹا ہو۔ اور اس بارے میں چور پر کاٹنے کی سزا جار ی نہیں ہوگی حضرت عمر بن عبدالعزیز نے اسے چھوڑ دیا اور اس کا ہاتھ نہیں کاٹا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30513]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30513، ترقيم محمد عوامة 29200)
ترقیم عوامۃ: 29201 ترقیم الشثری: -- 30514
٣٠٥١٤ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن جابر عن عبد الله بن يسار قال: اتي عمر بن عبد العزيز في رجل سرق دجاجة فاراد ان يقطعه فقال له ⦗٤٥٤⦘ (ابو) (١) سلمة بن عبد الرحمن: قال عثمان: لا قطع في الطير (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ].
(٢) ضعيف؛ لضعف جابر الجعفي.
حضرت عبداللہ بن یسار فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کے پاس ایک آدمی لایا گیا جس نے مرغی چوری کی تھی۔ تو آپ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا ارادہ فرمایا: حضرت ابو سلمہ بن عبدالرحمن نے ان سے فرمایا کہ حضرت عثمان نے ارشاد فرمایا: پرندے کی چوری میں کاٹنے کی سزا نہیں ہوگی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30514]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30514، ترقيم محمد عوامة 29201)
ترقیم عوامۃ: 29202 ترقیم الشثری: -- 30515
٣٠٥١٥ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عباد بن العوام (عن ابي خالد) (١) عن رجل عن علي انه كان لا يقطع في الطير (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ط، هـ].
(٢) مجهول؛ لإبهام الرجل.
حضرت ابو خالد کسی آدمی سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ پرندے کی چوری میں ہاتھ نہیں کاٹتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30515]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30515، ترقيم محمد عوامة 29202)
ترقیم عوامۃ: 29203 ترقیم الشثری: -- 30516
٣٠٥١٦ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج (قال) (١) : سمعت بعض من ارضى يقول: لا قطع في باز سرق، وإن كان ثمنه دينارا (فاكثر) (٢) من ذلك.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، هـ].
(٢) في [جـ]: (أو أكثر).
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے ایک قابل اعتماد بزرگ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ہاتھ کاٹنے کی سزا نہیں ہوگی اس باز میں جس کو چوری کرلیا گیا ہو اگرچہ اس کی قیمت ایک دینار یا اس سے بھی زائد ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30516]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30516، ترقيم محمد عوامة 29203)
ترقیم عوامۃ: 29204 ترقیم الشثری: -- 30517
٣٠٥١٧ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج عن عمرو بن شعيب قال: كان يقوله.
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ حضرت عمرو بن شعیب بھی یوں ہی فرمایا کرتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30517]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30517، ترقيم محمد عوامة 29204)