🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

116. في المرأة تزوج عبدها
اس عورت کے بیان میں جو اپنے غلام سے شادی کرلے
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29355 ترقیم الشثری: -- 30675
٣٠٦٧٥ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا محمد بن (فضيل) (١) عن (٢) حصين عن بكر قال: تزوجت امراة عبدها فقيل لها، فقالت: اليس (الله) (٣) يقول: ﴿وما ملكت (ايمانكم) (٤)[النساء: ٣٦] ، فهذا (ملك) (٥) يميني، وتزوجت امراة من غير بينة ولا ولي، فقيل لها، فقالت: انا ثيب وقد ملكت امري، (فرفعتا) (٦) إلى عمر، فجمع ⦗٤٨٨⦘ الناس فسالهم، فقالوا: قد (خاصمتاك) (٧) بكتاب الله ﷻ، وقال علي: قد (خاصمتاك) (٨) بكتاب الله، فجلد كل واحد منهما مائة جلدة، ثم كتب إلى الامصار ايما امراة تزوجت عبدها، او تزوجت بغير ولي فهي بمنزلة الزانية (٩) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (فضل).
(٢) زيادة (ابن) في: [جـ].
(٣) سقط من: [ب].
(٤) كذا في النسخ، ولعل الصواب: (أيمانهم).
(٥) في [أ، ح، ط]: (بملك]، وفي [هـ]: (يملك).
(٦) في [أ، ط، هـ]: (فرفعت).
(٧) في [أ، هـ]: (خاصمناك).
(٨) في [هـ]: (خاصمتك).
(٩) ضعيف؛ رواية ابن فضيل عن حصين بعد تغيره.

حضرت حصین فرماتے ہیں کہ حضرت بکر نے ارشاد فرمایا: ایک عورت نے اپنے غلام سے شادی کی پس اس سے اس بارے میں پوچھا گیا؟ تو وہ کہنے لگی: کیا اللہ رب العزت نے یوں نہیں فرمایا: اور وہ جن کے تمہارے داہنے ہاتھ مالک ہیں، تو میرا داہنا ہاتھ اس کا مالک ہے، اور ایک دوسری عورت نے بغیر گواہی اور ولی کی اجازت کے بغیر شادی کی پس اس سے اس بارے میں پوچھا گیا؟ تو وہ کہنے لگی: میں ثیبہ عورت ہوں اور مجھے میرے معاملہ کا اختیار ہے سو ان دونوں کا معاملہ حضرت عمر کی خدمت میں پیش کیا گیا۔ آپ نے لوگوں کو جمع کر کے ان سے ان دونوں کے بارے میں پوچھا؟ لوگوں نے کہا! تحقیق ان دونوں نے اللہ جل جلالہ کی کتاب سے جھگڑا کیا ہے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی فرمایا: تحقیق ان دونوں نے اللہ جل جلالہ کی کتاب سے جھگڑا کیا ہے۔ سو آپ نے ان دنوں میں سے ہر ایک کو سو سو کوڑے مارے پھر آپ نے شہروں کے امراؤں کو خط لکھ دیا: جو کوئی عورت اپنے غلام سے شادی کرلے یا وہ ولی کی اجازت کے بغیر شادی کرلے تو زانیہ کے درجہ میں ہوگی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30675]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30675، ترقيم محمد عوامة 29355)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29356 ترقیم الشثری: -- 30676
٣٠٦٧٦ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن جابر عن الحكم ان عمر كتب في امراة تزوجت عبدها (ان) (١) يفرق بينهما ويقام (عليها الحد) (٢) (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ب].
(٢) في [جـ، ك]: (الحد عليهما)، وفي [ب]: (عليهما الحد).
(٣) ضعيف منقطع، جابر ضعيف، والحكم لم يدرك عمر.

حضرت حکم فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے ایک عورت کے بارے میں خط لکھا جس نے اپنے غلام سے شادی کرلی تھی: کہ ان دونوں کے درمیان تفریق کردی جائے اور اس عورت پر حد قائم کردی جائے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30676]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30676، ترقيم محمد عوامة 29356)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29357 ترقیم الشثری: -- 30677
٣٠٦٧٧ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن إسماعيل بن مسلم قال: سالت عطاء وعبد الله بن عبيد بن عمير ومجاهدا عن امراةكان لها عبد، فارادت ان تعتقه على ان يتزوجها، فقال عطاء وعبد الله بن عبيد: تعتقه، ولا تشارطه.
حضرت اسماعیل بن مسلم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء، حضرت عبداللہ بن عبید بن عمیر اور حضرت مجاھد سے ایک عورت کے متعلق دریافت کیا جس کا ایک غلام تھا پس اس عورت نے اس کو اس شرط پر آزاد کرنے کا ارادہ کیا کہ وہ اس عورت سے شادی کرلے، اس کا کیا حکم ہے؟ حضرت عطاء اور حضرت عبداللہ بن عبید نے فرمایا: وہ عورت اس کو آزاد کردے اور اس پر شرط نہ لگائے اور حضرت مجاھد نے فرمایا: اس میں اللہ کی اور حاکم کی سزا ہوگی: اس کو اس سے جدا کردیا جائے گا اور اس عورت پر حد قائم کردی جائے گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30677]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30677، ترقيم محمد عوامة 29357)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 30678
٣٠٦٧٨ - (و) (١) قال مجاهد: في هذا عقوبة من الله ومن السلطان، تفارقه ويقام عليها الحد.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ط، هـ].
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30678، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29358 ترقیم الشثری: -- 30679
٣٠٦٧٩ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن الاسود بن شيبان عن ابي نوفل ابن ابي عقرب قال: جاءت امراة إلى عمر بن الخطاب فقالت: يا امير المؤمنين، إني امراة كما ترى، وغيري من النساء اجمل مني، ولي عبد قد رضيت دينه وامانته، (فاردت) (١) ان اتزوجه، فدعا بالغلام فضربهما ضربا مبرحا، وامر بالعبد فبيع في ارض غربة (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (فأرادت).
(٢) منقطع؛ أبو نفل لم يدرك عمر.

حضرت ابو نوفل بن ابی عقرب فرماتے ہیں کہ ایک عورت حضرت عمر بن خطاب کے پاس آکر کہنے لگی اے امیر المومنین! بیشک میں ایک عام عورت ہوں جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں جبکہ دوسری عورتیں مجھ سے زیادہ خوبصورت ہیں اور میرا ایک غلام ہے تحقیق میں اس کے دین اور اس کی ایمان داری سے راضی ہوں اور میں اس سے شادی کرنا چاہتی ہوں اس پر آپ نے اس غلام کو بلایا اور ان دونوں کو سخت مار لگائی اور آپ نے غلام کے بارے میں حکم دیا تو اس کو اجنبی دور علاقہ میں فروخت کردیا گیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30679]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30679، ترقيم محمد عوامة 29358)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں