مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
144. في الرجل يفترى عليه ما قالوا: في عفوه (عن ذلك)
اس آدمی کے بیان میں جس پر تہمت لگائی گئی جن لوگوں نے اس کے اس بات کو معاف کرنے کے بارے میں کہا ہے
ترقیم عوامۃ: 29494 ترقیم الشثری: -- 30822
٣٠٨٢٢ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عيسى بن يونس عن الاوزاعي عن الزهري قال: لو ان رجلا قذف رجلا فعفا واشهد، ثم جاء به إلى الإمام بعد ذلك اخذ له بحقه، ولو مكث ثلاثين سنة.
حضرت اوزاعی فرماتے ہیں کہ حضرت زھری نے ارشاد فرمایا: اگر کسی آدمی نے کسی پر تہمت لگائی پس اس شخص نے معاف کردیا اور گواہ بنا لیا پھر اس کے بعد وہ پھر اسے امام کے پاس لے آیا تو اس کے حق میں اس کو پکڑا جائے گا اگرچہ وہ تیس سال ٹھہرا رہا ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30822]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30822، ترقيم محمد عوامة 29494)
ترقیم عوامۃ: 29495 ترقیم الشثری: -- 30823
٣٠٨٢٣ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن ابن عون قال: سالت الحسن وابن سيرين عن الرجل (يفتري على الرجل) (١) فيعفو، قال الحسن: لا.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ط].
حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حسن بصری اور حضرت ابن سیرین سے اس آدمی کے متعلق دریافت کیا جس نے آدمی پر جھوٹی تہمت لگا دی ہو پس اس شخص نے معاف کردیا تو کیا حکم ہے؟ حضرت حسن بصری نے فرمایا: نہیں، اور حضرت ابن سیرین نے فرمایا میں نہیں جانتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30823]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30823، ترقيم محمد عوامة 29495)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 30824
٣٠٨٢٤ - وقال ابن سيرين: ما ادري.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30824، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: 29496 ترقیم الشثری: -- 30825
٣٠٨٢٥ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن (عيينة) (١) عن (رزيق) (٢) قال: كتبت إلى عمر بن عبد العزيز في رجل قذف ابنه، (فقال ابنه) (٣) : إن جلد ابي (اعترفت) (٤) ، فكتب (إليه) (٥) عمر (ان) (٦) اجلده إلا ان يعفو عنه.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (عبرة).
(٢) في [ع]: (زريق).
(٣) سقط من: [أ، ط، هـ].
(٤) في [ط]: (اعترف).
(٥) في [هـ]: (إلى).
(٦) سقط من: [جـ، ك].
حضرت رزیق فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن عبدالعزیز کو ایک آدمی کے بارے میں خط لکھا جس نے اپنے بیٹے پر الزام لگایا تھا، تو اس کے بیٹے نے کہا: اگر میرے باپ کو کوڑے مارے جائیں گے تو میں اعتراف کرلوں گا۔ حضرت عمر نے مجھے اس کا جواب لکھا: تم اس کو کوڑے مارو مگر یہ کہ وہ اسے معاف کر دے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30825]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30825، ترقيم محمد عوامة 29496)