🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

3. في دعوة الرجل للرجل الغائب
آدمی کا غیر موجود شخص کے حق مںر دعا کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29768 ترقیم الشثری: -- 31116
٣١١١٦ - حدثنا يزيد بن هارون عن عبد الملك بن ابي سليمان عن ابي الزبير عن صفوان بن عبد الله (بن صفوان) (١) وكانت تحته الدرداء فاتاها فوجد ام الدرداء ولم يجد ابا الدرداء فقالت له: تريد الحج العام؟ قال: نعم، قالت: فادع (٢) لنا بخير فإن النبي ﷺ كان يقول:"إن دعوة المرء مستجابة لاخيه بظهر الغيب، عند راسه ملك يؤمن على دعائه، كلما دعا له بخير قال: آمين ولك بمثله"، ثم خرجت إلى ⦗١٠٨⦘ السوق فلقيت ابا الدرداء فحدثني عن النبي ﷺ بمثل ذلك (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ح، ط، هـ].
(٢) في [هـ]: زيادة (اللَّه).
(٣) صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٧٣٣)، وأحمد (٢١٧٠٨).

حضرت ابو الزبیر فرماتے ہیں کہ حضرت صفوان بن عبد اللہ بن صفوان جن کے نکاح میں حضرت درداء ہیں وہ اپنی بیوی کے پاس تشریف لائے تو حضرت ام الدردا کو ان کے پاس پایا اور حضرت ابو الدرداء وہاں نہیں تھے۔ پس حضرت ام الدرداء ان سے فرمانے لگیں: کیا آپ کا اس سال حج کرنے کا ارادہ ہے؟ صفوان نے کہا: جی ہاں، حضرت ام الدرداء نے کہا: ہمارے حق میں بھی خیر کی دعا کرنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے: بیشک آدمی کی دعا اپنے بھائی کے لیے اس کی غیر موجودگی میں قبول کی جاتی ہے اس دعا کرنے والے کے سر کے قریب ایک فرشتہ ہوتا ہے جو اس کی دعا پر آمین کہتا ہے، جب بھی وہ اپنے بھائی کے حق میں خیر کی دعا کرتا ہے، فرشتہ کہتا ہے: آمین، اور تجھے بھی یہی چیز عطا ہو، پھر صفوان بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں بازار کی طرف گیا تو میری ملاقات حضرت ابو الدرداء سے ہوگئی، پس انہوں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے مجھے یہ حدیث بیان کی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31116]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31116، ترقيم محمد عوامة 29768)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29769 ترقیم الشثری: -- 31117
٣١١١٧ - حدثنا يعلى عن الإفريقي عن عبد الله بن (يزيد) (١) عن عبد الله بن عمرو قال: قال رسول الله ﷺ:"افضل الدعاء: دعوة غائب لغائب" (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (زبد).
(٢) حسن؛ الإفريقي صدوق، أخرجه أبو داود (١٥٣٥)، والترمذي (١٩٨٠)، والبخاري في الأدب المفرد (٦٢٣)، وعبد بن حميد (٣٢٧)، والقضاعي في مسند الشهاب (١٣٢٨)، والطبراني في الدعاء (١٣٢٩)، والخرائطي كما في المنتفى (٤٠١).

حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ: افضل ترین دعا کسی آدمی کا غیر حاضر شخص کے لیے دعا کرنا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31117]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31117، ترقيم محمد عوامة 29769)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29770 ترقیم الشثری: -- 31118
٣١١١٨ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عبيدة بن حميد عن حميد الطويل عن طلحة عن ام الدرداء قالت: دعوة المرء المسلم لاخيه وهو غائب لا ترد، قال: وقالت: إلى جنبه ملك لا يدعو له بخير إلا قال الملك: (آمين) (١) ولك.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ].
حضرت طلحہ فرماتے ہیں کہ حضرت ام الدرداء نے فرمایا: کہ مسلمان آدمی کی اپنے غیر موجود بھائی کے حق میں کی گئی دعا کبھی رد نہیں جاتی، حضرت طلحہ کہتے ہیں کہ حضرت ام الدرداء نے یہ بھی فرمایا: دعا کرنے والے کے پہلو میں ایک فرشتہ ہوتا ہے، جب بھی وہ اپنے بھائی کے حق میں خیر کی دعا کرتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے: آمین اور تیرے حق میں بھی یہ دعا قبول ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31118]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31118، ترقيم محمد عوامة 29770)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29771 ترقیم الشثری: -- 31119
٣١١١٩ - حدثنا ابن نمير (عن فضيل) (١) بن غزوان قال: سمعت طلحة بن عبيد الله بن كريز قال: سمعت ام الدرداء قالت: سمعت (رسول الله) (٢) صلى الله عليه (وسلم) (٣) يقول:"إنه يستجاب للمرء بظهر الغيب لاخيه، فما دعا لاخيه بدعوة إلا قال: الملك ولك بمثل" (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ك].
(٢) في [جـ، ك]: (النبي).
(٣) سقط من: [ك].
(٤) مرسل، وهم ابن نمير فيه فأثبت سماع أم الدرداء الصغرى من النبي ﷺ، والحديث أخرجه أحمد (٢٧٥٥٨)، وابن الأثير في أسد الغابة ٧/ ٣٢٧، ورواه على الصواب مسلم (٢٧٣٢)، وابن حبان (٩٨٩)، وأبو داود (١٩٣٤)، فقالوا: (عن أم الدرداء عن أبي الدرداء).

حضرت ام الدرداء فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: کہ آدمی کی اپنے غیر حاضر بھائی کے حق میں کی گئی دعا قبول کی جاتی ہے، پس وہ جب بھی اپنے بھائی کے لیے کوئی دعا کرتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے: تیرے حق میں بھی یہ دعا قبول ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31119]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31119، ترقيم محمد عوامة 29771)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں