🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

22. الدعاء بلا نية ولا عمل
بغیر نیت اور عمل کے دعا کرنا
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29879 ترقیم الشثری: -- 31235
٣١٢٣٥ - حدثنا ابن مبارك عن معمر عن سماك بن الفضل عن وهب بن منبه قال: مثل الذي يدعو بغير عمل (مثل الذي (يرمي) (١) (بغير) (٢) وتر) (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (رمى).
(٢) في [أ، هـ]: (بعير).
(٣) تكرر في: [ط].

حضرت سماک بن فضل فرماتے ہیں کہ حضرت وھب بن منبہ نے ارشاد فرمایا: مثال اس شخص کی جو عمل کیے بغیر دعا مانگتا ہے ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص بغیر کمان کے تیر پھینکتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31235]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31235، ترقيم محمد عوامة 29879)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29880 ترقیم الشثری: -- 31236
٣١٢٣٦ - حدثنا ابن نمير (حدثنا) (١) الاعمش عن مالك بن الحارث قال: كان ربيع ياتي علقمة (يوم الجمعة) (٢) قال: فاتاه ولم يكن ثمة، فجاء رجل فقال: الا تعجبون من الناس، وكثرة دعائهم، وقلة إجابتهم؟ فقال ربيع: تدرون لم ذاك؟ إن الله لا يقبل إلا (النخيلة) (٣) من الدعاء.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك]: (أخبرنا).
(٢) سقط من: [أ، ح، ط، هـ].
(٣) أي: الخالصة، وفي [أ، ب، ط]: (التخلية)، وفي [هـ]: (الناخلة).

حضرت مالک بن حارث فرماتے ہیں: حضرت ربیع جمعہ کے دن حضرت علقمہ کے پاس تشریف لایا کرتے تھے حضرت مالک فرماتے ہیں: پس و ہ ایک مرتبہ تشریف لائے تو وہاں کوئی موجود نہیں تھا، پھر ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: کیا تمہیں تعجب نہیں ہوتا لوگوں کی کثرت سے دعا کرنے پر اور ان کی دعاؤں کے کم قبول ہونے پر؟ اس پر حضرت ربیع نے فرمایا: کیا تم لوگوں کو اس کی وجہ معلوم ہے؟ سنو! یقینا اللہ تعالیٰ صرف اخلاص سے مانگی گئی دعا کو قبول فرماتے ہیں حضرت عبد الرحمن بن یزید فرماتے ہیں: جب میں وہاں آیا تو حضرت علقمہ نے حضرت ربیع کے اس قول کے بارے میں مجھے بتلایا، تو میں حضرت ربیع سے کہا: کیا آپ نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول نہیں سنا؟ انہوں نے پوچھا: ان کا کیا قول ہے؟ حضرت عبد الرحمن بن یزید نے فرمایا: حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے: قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں، اللہ تعالیٰ نہیں سنتے کسی گوییّ کی پکار کو، اور نہ ہی ریاکاری کرنے والے کی پکار کو، اور نہ ہی کھیل کود کرنے والے کی پکار کو، اور نہ ہی بلانے والے کی پکار کو مگر اس کی دعا سنتے ہیں جو دل کی گہرائیوں سے دعا مانگتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31236]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31236، ترقيم محمد عوامة 29880)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 31237
٣١٢٣٧ - [قال عبد الرحمن بن يزيد: فلما جئت اخبرني علقمة بقول ربيع، فقلت له: اما سمعت قول عبد الله؟ قال: وما ذاك؟ قال: قال عبد الله] (١) : والذي لا إله غيره لا يسمع الله من مسمع ولا (مراء) (٢) ولا لاعب ولا داع إلا داع دعا بتثبت من قلبه (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ح، ك، هـ].
(٢) في [أ، هـ]: (مرائي)، وسقط من: [جـ].
(٣) صحيح؛ أخرجه البخاري في الأدب المفرد (٦٠٦)، وأخرجه مرفوعًا ابن الجوزي في العلل (١٤٠٨)، وانظر: علل الدارقطني ٥/ ٥١.

تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31237، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29881 ترقیم الشثری: -- 31238
٣١٢٣٨ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن مالك بن الحارث قال: يقول (الله) (١) : من شغله ذكري عن مسالتي اعطيته ⦗١٥٠⦘ فوق ما اعطي السائلين (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، ط].
(٢) مرسل؛ مالك ليس صحابيًا.

حضرت اعمش فرماتے ہیں کہ حضرت مالک بن حارث نے حدیث قدسی بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: جس شخص کو میری یاد سوال کرنے سے غافل کر دے، تو میں اس کو سب مانگنے والوں میں سے زیادہ عطا کرتا ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31238]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31238، ترقيم محمد عوامة 29881)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29882 ترقیم الشثری: -- 31239
٣١٢٣٩ - حدثنا يزيد بن هارون (قال) (١) : حدثنا (٢) عبد الرحمن (ابو) (٣) (امية) (٤) بن فضالة قال: حدثنا بكر بن عبد الله المزني قال ابو ذر: يكفى من الدعاء مع البر ما يكفي الطعام من الملح (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، جـ، ك].
(٢) في [أ، ح، ط، هـ]: زيادة (أبو).
(٣) في [هـ]: (هو).
(٤) في [ب]: (مية).
(٥) حسن؛ عبد الرحمن أبو أمية بن فضالة صدوق.

حضرت بکر بن عبد اللہ المزنی فرماتے ہیں: حضرت ابو زر کا ارشاد ہے: دعا کے ساتھ نیکی کی اتنی ہی ضرورت ہے جتنی کھانے میں نمک کی ہوتی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31239]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31239، ترقيم محمد عوامة 29882)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29883 ترقیم الشثری: -- 31240
٣١٢٤٠ - حدثنا ابن نمير عن موسى بن (مسلم) (١) عن (عمرو) (٢) بن مرة رفعه قال: من شغله ذكري عن مسالتي اعطيته فوق ما اعطي السائلين -يعني الرب ﵎ (٣) (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح، ط، هـ]: (أسلم).
(٢) في [ز]: (عمر).
(٣) سقط من: [جـ، ك].
(٤) مرسل، عمرو بن مرة ليس صحابيًا.

حضرت عمرو بن مرۃ مرفوع حدیث بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حدیث قدسی بیان فرمائی: جس شخص کو میری یاد سوال کرنے سے مشغول کر دے، تو میں اس شخص کو سب مانگنے والوں میں زیادہ عطا کرتا ہوں یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ، زیادہ عطا کرتے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31240]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31240، ترقيم محمد عوامة 29883)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں