مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
27. ما يدعى به للعامة: كيف هو؟
جو دعا عوام کے لیے مانگی جاتی ہے؟ وہ کیسے مانگی جائے؟
ترقیم عوامۃ: 29934 ترقیم الشثری: -- 31293
٣١٢٩٣ - حدثنا ابو اسامة عن مسعر عن سعد بن إبراهيم قال: كان طلق بن حبيب يقول: اللهم ابرم لهذه الامة امرا (رشيدا) (١) تعز فيه وليك وتذل (فيه) (٢) عدوك، ويعمل فيه بطاعتك.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح، ط، هـ]: (راشدًا)، وانظر: حلية الأولياء ٣/ ٦٥.
(٢) في [هـ]: (به).
حضرت سعد بن ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت طلق بن حبیب یوں فرمایا کرتے تھے: اے اللہ! تو اس امت کے لیے درست معاملہ کا قطعی فیصلہ فرما، جس میں تو اپنے دوست کو عزت بخش، اور اپنے دشمن کو ذلیل فرما، اور اس میں تیری ہی فرمانبرداری کے ساتھ عمل کیا جائے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31293]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31293، ترقيم محمد عوامة 29934)
ترقیم عوامۃ: 29935 ترقیم الشثری: -- 31294
٣١٢٩٤ - حدثنا حسين بن علي عن (عبيد بن) (١) عبد الملك قال: اخبرني من راى عمر بن عبد العزيز واقفا بعرفة يدعو وهو يقول باصبعه هكذا يشير بها: اللهم ⦗١٧٢⦘ زد محسن امة محمد إحسانا، و (راجع) (٢) بمسيئهم إلى التوبة، ثم يقول هكذا ثم يدير باصبعه: وحط من وراءهم برحمتك.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ط، هـ].
(٢) في [هـ]: (ارجع).
حضرت عبید بن عبد الملک فرماتے ہیں کہ مجھے اس شخص نے بتلایا ہے جس نے حضرت عمر بن عبد العزیز کو مقام عرفات میں کھڑے ہو کر یہ دعا مانگتے ہوئے دیکھا ہے۔ وہ یوں فرما رہے تھے اور اپنی انگلی کے ساتھ اشارہ بھی فرما رہے تھے۔ اے اللہ! تو امت محمدیہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بھلائی کرنے والوں کی بھلائی میں اضافہ فرما، اور ان کے گناہ کرنے والوں کو توبہ کی طرف پھیر دے۔ پھر اس طریقہ سے دعا فرمائی، اور اپنی انگلی کو بھی گھمایا اور تو اپنی رحمت کے ساتھ ان کا پیچھے سے احاطہ فرما۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31294]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31294، ترقيم محمد عوامة 29935)
ترقیم عوامۃ: 29936 ترقیم الشثری: -- 31295
٣١٢٩٥ - حدثنا حسين بن علي عن عبيد بن عبد الملك قال: كان عمر بن عبد العزيز يقول: اللهم اصلح من كان صلاحه صلاحا لامة محمد، اللهم واهلك من كان هلاكه صلاحا للامة محمد ﷺ.
حضرت عبید بن عبد الملک فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز یوں دعا فرمایا کرتے تھے: اے اللہ! تو اصلاح فرما اس شخص کی جس کا ٹھیک ہونا امت محمدیہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حق میں بہتر ہو۔ اے اللہ! اور تو ہلاک فرما دے اس شخص کو جس کی ہلاکت امت محمدیہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حق میں بہتر ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31295]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31295، ترقيم محمد عوامة 29936)