مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
28. ما يدعو به الرجل إذا قام من مجلسه
اس دعا کا بیان جو آدمی اپنی مجلس سے اُٹھتے وقت مانگے
ترقیم عوامۃ: 29937 ترقیم الشثری: -- 31296
٣١٢٩٦ - حدثنا عبدة بن سليمان عن حجاج بن دينار عن ابي هاشم عن ابي العالية عن ابي برزة الاسلمي قال: كان رسول الله ﷺ يقول إذا اراد ان يقوم من المجلس:"سبحانك اللهم وبحمدك، اشهد ان لا إله إلا انت، استغفرك واتوب إليك" (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ والرفع زيادة ثقة مقبولة، أخرجه أحمد (١٩٧٦٩)، وأبو داود (٤٨٥٩)، والنسائي في عمل اليوم والليلة (٤٢٦)، والحاكم ١/ ٥٣٧، والدارمي (٢٦٥٨)، وأبو يعلى (٧٤٢٦)، والطبراني في الدعاء (١٩١٧) وفي الكبير (٤٤٤٥)، والبيهقي في الآداب (٣٠٥)، والمزي ٢٨/ ٢٣.
حضرت ابو برزۃ الاسلمی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی مجلس سے اٹھنے کا ارادہ فرماتے تو یوں دعا فرمایا کرتے تھے: اے اللہ! تو پاک ہے اور میں تیری حمد بیان کرتا ہوں، میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، میں تجھ سے معافی چاہتا ہوں، اور تیرے سامنے توبہ کرتا ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31296]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31296، ترقيم محمد عوامة 29937)
ترقیم عوامۃ: 29938 ترقیم الشثری: -- 31297
٣١٢٩٧ - حدثنا ابن فضيل (حدثنا حصين بن عبد الرحمن) (١) عن مجاهد عن عبد الله بن عمر قال: من قال حين يقوم من مجلسه: سبحانك اللهم وبحمدك، اشهد ان لا إله إلا انت استغفرك واتوب إليك، قال: كفى الله عنه كل ذنب في ذلك المجلس (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) زيادة من كتاب الدعاء لابن فضيل (١٠٧).
(٢) صحيح.
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا: جو شخص مجلس سے اٹھتے وقت یہ دعا پڑھے: اے اللہ! تو پاک ہے اور میں تیری حمد بیان کرتا ہوں، میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، میں تجھ سے معافی چاہتا ہوں اور تیرے سامنے توبہ کرتا ہوں۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اللہ رب العزت اس مجلس میں ہونے والے ہر گناہ کو اس سے ہٹا دیتے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31297]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31297، ترقيم محمد عوامة 29938)
ترقیم عوامۃ: 29939 ترقیم الشثری: -- 31298
٣١٢٩٨ - حدثنا جرير عن منصور عن فضيل بن عمرو عن زياد بن الحصين قال: دخلت على ابي العالية فلما اردت ان اخرج من عنده قال: الا ازودك كلمات علمهن جبريل محمدا ﷺ (١) قال: قلت: بلى! قال: فإنه لما كان (بآخرة) (٢) كان إذا قام من مجلسه قال:"سبحانك اللهم وبحمدك، اشهد ان لا إله إلا انت، استغفرك واتوب إليك" (٣) ، فقيل: يا رسول الله ما هؤلاء الكلمات التي تقولهن؟ قال:"هن كلمات علمنيهن جبريل (كفارات) (٤) لما يكون في المجلس (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ك].
(٢) في [ط]: (باحر).
(٣) في [ك]: زيادة (قال).
(٤) في [ب]: (كفارة).
(٥) مرسل؛ أبو العالية تابعي، أخرجه النسائي في عمل اليوم والليلة (٤٣٥)، وتقدم متصلًا برقم [٣١٣٤١] ورجح أبو حاتم وأبو زرعه كما في العلل لابن أبي حاتم ٢/ ١٨٨، والدارقطني ٦/ ٣٧ إرساله، والاتصال زيادة ثقة فتقبل.
حضرت زیاد بن الحصین فرماتے ہیں: میں حضرت ابو العالیہ کی خدمت میں حاضر ہوا، جب میں نے ان کے پاس سے نکلنے کا ارادہ کیا تو وہ فرمانے لگے: کیا میں تجھے ایسے کلمات نہ بتادوں جو کلمات حضرت جبرائیل نے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سکھلائے تھے؟ حضرت زیاد فرماتے ہیں: کہ میں نے کہا: کیوں نہیں؟ (ضرور سکھلائیں) تو حضرت ابو العالیہ فرمانے لگے: جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجلس کے بالکل اخیر میں ہوتے اور مجلس سے اٹھنے لگتے تھے تو یہ کلمات پڑھتے: اے اللہ! تو پاک ہے اور میں تیری حمد بیان کرتا ہوں، میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہں ج، میں تجھ سے معافی چاہتا ہوں ا ورتیرے سامنے توبہ کرتا ہوں۔ حضرت ابو العالیہ فرماتے ہیں: پھر پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! جو کلمات آپ نے کہے ہیں وہ کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کلمات حضرت جبرائیل نے مجھے سکھائے ہیں، اور یہ مجلس میں ہونے والے کاموں کا کفارہ بن جاتے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31298]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31298، ترقيم محمد عوامة 29939)
ترقیم عوامۃ: 29940 ترقیم الشثری: -- 31299
٣١٢٩٩ - حدثنا وكيع عن سفيان عن ابي إسحاق عن ابي الاحوص في قوله: ﴿وسبح بحمد ربك حين تقوم﴾ [الطور: ٤٨] ، قال: (إذا) (١) قمت فقل: (سبحان) (٢) الله وبحمده.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ك].
(٢) في [أ، ب]: (بسم).
حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ حضرت ابو الاحوص نے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں ارشاد فرمایا: (اور تسبیح کرو اپنے رب کی حمد کے ساتھ جب تم اٹھو) جب تو اٹھے تو یہ کلمات کہہ: اللہ پاک ہے اور میں اس کی حمد بیان کرتا ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31299]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31299، ترقيم محمد عوامة 29940)
ترقیم عوامۃ: 29941 ترقیم الشثری: -- 31300
٣١٣٠٠ - حدثنا يزيد بن هارون عن محمد بن مسلم عن عمرو بن دينار عن عبيد بن عمير قال: كنا نعد الاواب الحفيظ، إذا قام من مجلسه قال: اللهم اغفر لي ما اصبت في (مجلسي) (١) هذا.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (مجلس).
حضرت عمرو بن دینار فرماتے ہیں کہ حضرت عبید بن عمیر نے ارشاد فرمایا: جب کوئی شخص اپنی مجلس سے کھڑا ہو تو یہ دعا پڑھے: اے اللہ! تو میری مغفرت فرما ان کاموں کی وجہ سے جو میں نے اپنی اس مجلس میں کیے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31300]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31300، ترقيم محمد عوامة 29941)
ترقیم عوامۃ: 29942 ترقیم الشثری: -- 31301
٣١٣٠١ - حدثنا وكيع عن سفيان (عن حبيب) (١) عن يحيى بن جعدة قال: كفارة المجلس: سبحانك وبحمدك، استغفرك واتوب إليك.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، جـ، ح، ط، هـ].
حضرت حبیب فرماتے ہیں کہ حضرت یحییٰ بن جعدہ نے ارشاد فرمایا: مجلس کا کفارہ یہ کلمات ہیں: میں تیری پاکی بیان کرتا ہوں، اور تیری حمد بیان کرتا ہوں میں تجھ سے معافی چاہتا ہوں اور تیرے سامنے توبہ کرتا ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31301]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31301، ترقيم محمد عوامة 29942)