مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
34. من كان يقول في دعائه: أحيني ما كانت الحياة خيرا لي؟
جو شخص اپنی دعا میں یوں کہے! تو مجھے زندہ رکھ جب تک زندگی میرے لیے بہتر ہے
ترقیم عوامۃ: 29958 ترقیم الشثری: -- 31317
٣١٣١٧ - حدثنا معاوية بن هشام عن شريك عن ابي هاشم عن ابي مجلز عن قيس بن عباد قال: صلى (١) عمار صلاة كانهم انكروها، فقيل له في ذلك، فقال: الم اتم الركوع والسجود؟ قالوا: بلى، قال: فإني قد دعوت (الله) (٢) بدعاء سمعته من رسول الله ﷺ:"اللهم بعلمك الغيب، وقدرتك على الخلق، احيني ما علمت الحياة خيرا لي، وتوفني إذا علمت الوفاة خيرا لي، اللهم إني اسالك كلمة الإخلاص في الغضب والرضى، والقصد في الغنى والفقر، وخشيتك في الغيب والشهادة، واسالك الرضا (بالقدر) (٣) ، واسالك نعيما لا ينفد، وقرة عين لا تنقطع، ولذة العيش بعد الموت، ولذة النظر إلى وجهك، وشوقا إلى لقائك، واعوذ بك من (ضراء) (٤) مضرة، وفتنة مضلة، اللهم زينا بزينة الإيمان واجعلنا (هداة) (٥) ⦗١٨٢⦘ (مهتدين) (٦) " (٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: زيادة (بنا)، وفي مسند ابن أبي شيبة.
(٢) سقط من: [س].
(٣) في [هـ]: (بالقدرة).
(٤) في [ط]: (ضر).
(٥) في [هـ]: (هذا).
(٦) في [أ، ب، جـ، ط، ك]: (مهندين).
(٧) حسن؛ شريك صدوق، أخرجه أحمد (١٨٣٢٥)، والنسائي ٣/ ٥٥، وابن حبان (١٩٧١)، والحاكم ١/ ٥٢٤، وعبد اللَّه في السنة (٢٨٠)، وابن أبي عاصم في السنة (١٢٨)، والطبراني في الدعاء (٦٢٥)، والدارقطني في الرؤية (١٥٩)، والبزار (١٣٩٢)، وعثمان بن سعيد في الرد على الجهمية ص ٥١، ومحمد بن نصر في قيام الليل ص ١٤٧، وابن خزيمة في التوحيد ص ١٢، وأبو يعلى (١٦٢٤)، وابن منده في الرد على الجهمية (٨٦)، واللالكائي (٨٤٤)، والبيهقي في الدعوات (٢٢٠).
حضرت قیس بن عباد فرماتے ہیں کہ حضرت عمار نے نماز پڑھائی تو لوگ گویا ان کی نماز کو ناپسند کر رہے تھے، پھر ان سے اس بارے میں پوچھا گیا؟ تو انہوں نے فرمایا: کیا میں رکوع و سجود کو مکمل طور پر ادا نہ کروں؟ لوگوں نے کہا: کیوں نہیں! ضرور ادا کریں۔ انہوں نے فرمایا: یقینا میں نے اللہ سے دعا مانگی جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی تھی۔ ”اے اللہ! اپنے علم غیب کے ساتھ اور اپنی مخلوق پر قدرت کے ساتھ، تو مجھے زندہ رکھ جب تک تو جانتا ہے کہ زندگی میرے حق میں بہتر ہے، اور مجھے موت دے دے جب تو جان لے کہ موت میرے لیے بہتر ہے۔ اے اللہ! میں تجھ سے غصہ اور خوشی میں اخلاص کی بات کا سوال کرتا ہوں، اور امیری اور فقیری میں میانہ روی کا، ظاہر اور پوشیدگی میں تیرے خوف کا، اور میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تقدیر پر راضی رہنے کا، اور میں تجھ سے سوال کرتا ہوں ایسی نعمت کا جو ختم نہ ہو، اور آنکھ کی ٹھنڈک کا جو منقطع نہ ہو، اور موت کے بعد مزے کی زندگی کا۔ اور تیرے چہرۂ انور کے دیدار کی لذت کا، اور تیری ملاقات کے شوق کا، اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں تکلیف کی حالت میں ہونے والی تکلیف سے اور گمراہ کرنے والے فتنہ سے۔ اے اللہ! ہمیں ایمان کی زینت سے مزین فرما، اور ہمیں ہدایت دینے والا اور ہدایت یافتہ بنا دے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31317]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31317، ترقيم محمد عوامة 29958)
ترقیم عوامۃ: 29959 ترقیم الشثری: -- 31318
٣١٣١٨ - حدثنا عبيدة بن حميد عن حميد عن انس بن مالك قال: قال رسول الله ﷺ:"لا (يتمنين) (١) احدكم الموت لضر نزل به في الدنيا، ولكن ليقل: اللهم احيني ما كانت الحياة خيرا لي، وتوفني إذا كانت الوفاة خيرا لي" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، ك]: (يتمنى).
(٢) صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٣٥١)، ومسلم (٢٦٨٠).
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص بھی دنیا کی کسی مصیبت کی وجہ سے موت کی تمنا نہ کرے۔ اور لیکن اسے چاہیے کہ وہ یوں دعا کرے: اے اللہ! مجھے زندہ رکھ جب تک زندگی میرے حق میں بہتر ہو، اور مجھے وفات دے جب وفات میرے حق میں بہتر ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31318]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31318، ترقيم محمد عوامة 29959)
ترقیم عوامۃ: 29960 ترقیم الشثری: -- 31319
٣١٣١٩ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن مالك بن الحارث قال: كان من دعاء عمار: اللهم إني اسالك بعلم الغيب وقدرتك على الخلق ان تحيني ما علمت الحياة خيرا لي، وتوفني ما علمت الوفاة خيرا لي، اللهم اسالك خشيتك في الغيب والشهادة، واسالك القصد في الغنى والفقر، واسالك العدل في الرضا والغضب، اللهم (حبب) (١) إلى لقاءك وشوقا إليك في غير فتنة مضلة، (ولا) (٢) ضراء مضرة (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (أحبب).
(٢) في [ط]: (وإلا).
(٣) صحيح؛ أخرجه أحمد (١٨٣٢٥)، وتقدم نحوه برقم [٣١٣١٧].
حضرت مالک بن الحارث فرماتے ہیں کہ حضرت عمار یوں دعا کرتے: اے اللہ! میں آپ سے سوال کرتا ہوں آپ کے علم غیب کے ساتھ، اور مخلوق پر آپ کی قدرت کے ساتھ، کہ آپ مجھے زندہ رکھیں جب تک آپ جانیں کہ زندگی میرے حق میں بہتر ہے، اور مجھے وفات دے دیں جب آپ جان لیں کہ وفات میرے لیے بہتر ہے۔ اے اللہ! میں آپ سے سوال کرتا ہوں ظاہر اور پوشیدگی میں آپ کے خوف کا، اور میں آپ سے امیری اور فقیری میں میانہ روی مانگتا ہوں، اور میں آپ سے سوال کرتا ہوں غصہ اور خوشی میں اعتدال کا۔ اے اللہ! میرے نزدیک اپنی ملاقات کو محوظب بنا دے، اور اپنی ملاقات کے شوق کو بھی جو نہ گمراہ کرنے والے فتنہ میں ہو اور نہ ہی کسی حالت تکلیف میں تکلیف دے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31319]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31319، ترقيم محمد عوامة 29960)