🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

45. الرجل يريد الحاجة: ما يدعو به؟
جو آدمی ضرورت پوری کرنا چاہتا ہو تو وہ یوں دعا کرے
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30015 ترقیم الشثری: -- 31374
٣١٣٧٤ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن إبراهيم قال: قال عبد الله: إذا اراد احدكم (الحاجة) (١) فليقل: اللهم إني استخيرك بعلمك واستقدرك بقدرتك واسالك من فضلك، فإنك تقدر ولا (اقدر) (٢) ، وتعلم ولا (اعلم) (٣) وانت علام الغيوب، اللهم إن كان هذا الامر الذي اردته خيرا لي في ديني ومعيشتي وخير عاقبتي فيسره لي وبارك لي فيه، وإن كان غير ذلك خيرا فقدر لي الخير حيثما كان، ثم رضني بما قضيت (٤) ،

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (الحجة).
(٢) في [ك]: (تقدر).
(٣) في [ك]: (أعلمك).
(٤) منقطع؛ إبراهيم لم يسمع من ابن مسعود، أخرجه عبد الرزاق (٢٠٢١٠)، والطبراني في الأوسط (٧٣٢٢)، وروي مرفوعًا أخرجه البزار (١٥٢٨)، وأبو حنيفة كما في المسند ١/ ٨١، والشاشي (٣٥٩)، والطبراني (١٠٠١٢)، والخطيب ٣/ ٤٥، والخرائطي كما في المنتقي (٤٦٩).

حضرت ابراہیم ارشاد فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کوئی ایک کسی ضرورت کے پوری کرنے کا ارادہ کرے تو اسے چاہیے کہ وہ یہ کلمات کہہ لیا کرے: اے اللہ! میں تیرے علم کے ذریعہ تجھ سے خیر مانگتا ہوں۔ اور میں تیری قدرت کے ذریعہ تجھ سے قدرت مانگتا ہوں اور میں تیرے فضل کا سوال کرتا ہوں۔ بلا شبہ تجھے ہی قدرت حاصل ہے اور مجھے قدرت نہیں ہے۔ اور تو جانتا ہے اور میں نہیں جانتا، اور تو غیب کی باتوں کو خوب جاننے والا ہے۔ اے اللہ! اگر یہ کام جس کے کرنے کا میں نے ارادہ کیا ہے میرے دین، دنیا و آخرت میں میرے لیے بہتر ہے تو اس کام کو میرے لیے آسان فرما۔ اور میرے لیے اس میں برکت فرما۔ اور اگر اس کے علاوہ کوئی اور کام بہتر ہے پس وہ خیر میرے مقدر فرما جہاں کہیں بھی ہو۔ پھر مجھے راضی فرما دے اس فیصلہ سے جو تو نے کیا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31374]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31374، ترقيم محمد عوامة 30015)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30016 ترقیم الشثری: -- 31375
٣١٣٧٥ - (١) حدثنا زيد بن (الحباب) (٢) قال: حدثني (عبد الرحمن) (٣) بن ابي (الموال) (٤) قال: سمعت محمد بن المنكدر يحدث عبد الله بن الحسن عن جابر قال: كان رسول الله ﷺ يعلمنا الاستخارة كما يعلمنا (السورة) (٥) من القرآن، قال:"إذا هم احدكم بامر فليصل ركعتين غير الفريضة، ثم يسمي الامر ويقول: اللهم إني استخيرك بعلمك، و (استقدرك) (٦) (بقدرتك) (٧) ، (و) (٨) اسالك من فضلك العظيم، فإنك تقدر ولا اقدر، وتعلم ولا اعلم، وانت علام الغيوب، (اللهم) (٩) إن كان هذا الامر خيرا لي في ديني وعاقبة امري فاقدره لي (ويسره) (١٠) (لي) (١١) وبارك لي فيه، وإن كان شرا (لي) (١٢) في ديني وعاقبة امري فاصرفه عني واصرفني عنه، واقدر لي الخير حيث كان ثم رضني به" (١٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك]: زيادة (حدثنا أبو بكر قال).
(٢) في [جـ، ك]: (حباب).
(٣) في [أ، ب، ط]: (عبد اللَّه).
(٤) في [ك]: (الموالي).
(٥) في [جـ، ك]: (سورة).
(٦) في [ط]: (استقدر).
(٧) في [ك]: (بقدرك).
(٨) سقط من: [ك].
(٩) سقط من: [أ، ب، جـ، ك].
(١٠) تكرر في: [ك].
(١١) سقط من: [ط].
(١٢) سقط من: [ط، هـ].
(١٣) صحيح؛ أخرجه البخاري (١١٦٢)، وأحمد (١٤٧٤٨).

حضرت جابر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم کو استخارہ اس طرح سکھاتے تھے جیسے قرآن مجید کی کوئی سورت سکھاتے تھے۔ اور یوں ارشاد فرمایا کرتے تھے: جب تمہیں کوئی کام درپیش ہو تو دو رکعت نماز نفل پڑھو۔ پھر اس کام کا نام لو۔ اور یوں دعا کرو: اے اللہ! میں ترھے علم کے ذریعہ تجھ سے خیر مانگتا ہوں اور تیری قدرت کے ذریعہ تجھ سے قدرت طلب کرتا ہوں، اور میں تیرے بڑے فضل کا سوال کرتا ہوں پس بلاشبہ تجھے قدرت ہے اور مجھے قدرت نہیں ہے۔ اور تو جانتا ہے اور میں نہیں جانتا اور غیب کی باتوں کو تو خوب جاننے والا ہے۔ اے اللہ! اگر یہ کام میری دنیا و آخرت میں میرے لیے بہتر ہے تو اس کو میرے لیے مقدر فرما۔ اور آسان فرما۔ اور میرے لیے ا س میں برکت عطا فرما۔ اور اگر یہ کام میری دنیا و آخرت میں شر ہے تو اس کو مجھ سے اور مجھ کو اس سے دور فرما۔ اور میرے لیے خیر مقدر فرما جہاں کہیں بھی ہو اور پھر اس سے راضی فرما دے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31375]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31375، ترقيم محمد عوامة 30016)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30017 ترقیم الشثری: -- 31376
٣١٣٧٦ - حدثنا وكيع عن الاعمش عن حبيب عن عبيد بن عمير قال: إذا اراد احدكم الحاجة فليقل: اللهم (إني) (١) استخيرك بعلمك واستقدرك (بقدرتك) (٢) واسالك من فضلك، فإنك تقدر ولا (اقدر) (٣) وتعلم ولا اعلم وانت علام الغيوب، اللهم إن كان هذا (الامر) (٤) الذي اردته خيرا لي في ديني ومعيشتي وخير عاقبة فيسره لي وبارك لي فيه، وإن كان غير ذلك خيرا فقدر لي الخير حيث كان ورضني به.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، جـ، ك].
(٢) في [ك]: (بمدرك).
(٣) سقط من: [ك].
(٤) سقط من: [هـ].

حضرت عبید بن عمیر فرماتے ہیں کہ جب تم میں سے کسی ایک کو کوئی ضرورت درپیش ہو تو اس کو چاہیے کہ یوں دعا کرے اے اللہ! میں تیرے علم کے ذریعہ تجھ سے خیر مانگتا ہوں۔ اور تیری قدرت کے ذریعہ تجھ سے قدرت طلب کرتا ہوں۔ اور میں تجھ سے تیرے فضل کا سوال کرتا ہوں۔ پس بلاشبہ تجھے قدرت ہے اور مجھے قدرت نہیں ہے۔ اور تو جانتا ہے اور میں نہیں جانتا۔ اور تو غیب کی باتوں کو خوب جاننے والا ہے۔ اے اللہ! اگر یہ کام جس کے کرنے کا میں نے ارادہ کیا ہے میرے دین و دنیا اور آخرت میں بہتر ہے تو اس کو میرے لیے آسان فرما اور میرے لیے اس میں برکت فرما۔ اور اگر اس کے علاوہ کسی کام میں بھلائی ہے تو اس بھلائی کو میرے لیے مقدر فرما جہاں کہیں بھی ہو اور مجھے اس سے راضی فرما دے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31376]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31376، ترقيم محمد عوامة 30017)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں