مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
49. في ثواب التسبيح
اللہ کی پاکی بیان کرنے کے ثواب میں
ترقیم عوامۃ: 30035 ترقیم الشثری: -- 31394
٣١٣٩٤ - حدثنا وكيع عن مسعر عن (عبد الملك) (١) بن (ميسرة) (٢) عن هلال بن يساف قال: قال عبد الله: لان اسبح تسبيحات (احب) (٣) إلى من ان انفق عددهن دنانير في سبيل الله ﷿ (٤) (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، ط، هـ]: (عبد اللَّه).
(٢) في [ط، هـ]: (يسرة).
(٣) في [ط]: (أحبه).
(٤) سقط من: [أ، ح، ط، هـ].
(٥) منقطع؛ هلال بن يساف لم يسمع من عبد اللَّه.
حضرت ھلال بن یساف فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ نے ارشادفرمایا: مجھے تسبیحات بیان کرنا اس بات سے زیادہ پسندیدہ ہے کہ اس کی تعداد کے بقدر دنانیر کو اللہ کے راستے میں خرچ کروں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31394]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31394، ترقيم محمد عوامة 30035)
ترقیم عوامۃ: 30036 ترقیم الشثری: -- 31395
٣١٣٩٥ - حدثنا غندر عن شعبة عن منصور عن طلق بن حبيب عن عبد الله بن عمرو قال: لان اقولها -يعني سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله اكبر- ⦗٢١٣⦘ احب إلي من ان احمل على عدتها من (خيل) (١) بارسانها (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (حبيل).
(٢) صحيح؛ الراجح في طلق أنه ثقة.
حضرت طلق بن حبیب فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں: مجھے ان کلمات کا کہنا یعنی اللہ پاک ہے اور سب تعریف اللہ کے لیے ہے، اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، اور اللہ سب سے بڑا ہے، زیادہ پسندیدہ ہے اس بات سے کہ میں ان کے برابر گھوڑوں پر سوار ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31395]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31395، ترقيم محمد عوامة 30036)
ترقیم عوامۃ: 30037 ترقیم الشثری: -- 31396
٣١٣٩٦ - حدثنا محمد بن بشر وابو اسامة عن مسعر عن عمرو بن مرة عن مصعب بن سعد قال: إذا قال العبد: سبحان الله، قالت الملائكة: (وبحمده) (١) ، فإذا قال: سبحان الله وبحمده، صلوا عليه.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ك].
حضرت مصعب بن سعد ارشاد فرماتے ہیں کہ جب کوئی بندہ کہتا ہے: اللہ پاک ہے، تو فرشتے کہتے ہیں، اور اسی کی تعریف ہے۔ اور جب بندہ کہتا ہے: اللہ پاک ہے اور اپنی تعریف کے ساتھ ہے، تو فرشتے اس کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہیں، اور ابو اسامہ نے مؤنث کا صغہہ ذکر کیا ہے کہ ملائکہ اس کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31396]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31396، ترقيم محمد عوامة 30037)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 31397
٣١٣٩٧ - وقال ابو اسامة: (صلت) (١) عليه.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (صليت).
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31397، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: 30038 ترقیم الشثری: -- 31398
٣١٣٩٨ - حدثنا ابو خالد الاحمر عن موسى بن (عبيدة) (١) عن زيد بن اسلم عن جابر بن عبد الله قال: قال رسول الله ﷺ:"الا اعلمكم ما (علم) (٢) نوح ابنه؟" قالوا: بلى، قال:"آمرك (ان) (٣) تقول: لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير، فإن السماوات لو كانت في كفة لرجحت بها، ولو كانت حلقة قصمتها، وآمرك (بسبحان) (٤) الله وتحمده، فإنه صلاة الخلق وتسبيح الخلق (وبها) (٥) يرزق الخلق" (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، هـ]: (عبيد).
(٢) في [ك]: (يعلم).
(٣) سقط من: [جـ].
(٤) في [هـ]: (تسبح)، وفي [أ، ب، ط]: (تسبحن).
(٥) في [جـ، ك]: (بها).
(٦) ضعيف؛ موسى بن عبيدة ضعيف، أخرجه عبد بن حميد (١١٥١)، وابن حبان في المجروحين ٢/ ٢٣٥، وابن جرير في التفسير ١٥/ ٩٢، وابن عساكر ٦٢/ ٢٨٢.
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا میں تم لوگوں کو وہ کلمات نہ سکھاؤں جو حضرت نوح نے اپنے بیٹے کو سکھائے تھے؟ تو صحابہ نے فرمایا کیوں نہیں؟ ضرور، حضرت نوح نے فرمایا تھا، میں تجھے حکم دیتا ہوں ان کلمات کے پڑھنے کا: اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے، اسی کا ملک ہے اور اسی کے لیے تعریف ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ پس بلاشبہ اگر تمام آسمانوں کو ایک ترازو کے پلڑے میں رکھا جائے تو کلمہ والا پلڑا جھک جائے۔ اور اگر کسی دائرہ میں ہو تو یہ کلمات ان کو توڑ دیں اور میں تجھے حکم دیتا ہوں اللہ کی پاکی اور اس کی تعریف بیان کرنے کا۔ پس بیشک یہ مخلوق کی دعا ہے اور مخلوق کی تسبیح ہے۔ اور اسی کے ذریعے مخلوق کو رزق دیا جاتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31398]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31398، ترقيم محمد عوامة 30038)
ترقیم عوامۃ: 30039 ترقیم الشثری: -- 31399
٣١٣٩٩ - حدثنا سفيان بن عيينة عن عمرو عن عبيد بن عمير قالت: تسبيحة بحمد الله في صحيفة المؤمن خير من ان تسيل او تسير معه جبال الدنيا ذهبا.
حضرت عبید بن عمیر فرماتے ہیں کہ مومن کے نامہ اعمال میں اللہ کی تعریف کی ایک تسبیح کا ہوجانا بہتر ہے اس بات سے کہ اس کے ساتھ دنیا کے پہاڑ سونا بن کر بہہ پڑیں یا چل پڑیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31399]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31399، ترقيم محمد عوامة 30039)
ترقیم عوامۃ: 30040 ترقیم الشثری: -- 31400
٣١٤٠٠ - حدثنا وكيع عن مسعر عن الوليد بن (العيزار) (١) عن ابي الاحوص قال: قال سمعته يقول: تسبيحة في طلب حاجة خير من (لقوح) (٢) صفي في عام ازبة او لزبة.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ز]: (المغيرة).
(٢) أي: ناقة غزيرة الحليب في سنة مجدية، وفي [ط]: (بقدح).
حضرت ولید بن العیزار فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو الاحوص کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کسی ضرورت کو پورا کرنے میں تسبیح کرنا قحط سالی کے زمانہ میں دودھ سے بھرئے ہوئے تھنوں والی اونٹنی سے بہتر ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31400]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31400، ترقيم محمد عوامة 30040)
ترقیم عوامۃ: 30041 ترقیم الشثری: -- 31401
٣١٤٠١ - حدثنا وكيع عن مسعر عن (عفاق) (١) عن عمرو بن ميمون قال: ايعجز احدكم ان يسبح مائة تسبيحة (فتكون) (٢) له الف تسبيحة.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ط، هـ]: (عفان).
(٢) في [هـ]: (وتكون).
حضرت عمرو بن میمون ارشاد فرماتے ہیں کہ کیا تم میں سے کوئی سو مرتبہ تسبیح پڑھنے سے عاجز ہے اور وہ ثواب میں اس کے لیے ہزار تسبیح کے برابر ہوجائیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31401]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31401، ترقيم محمد عوامة 30041)
ترقیم عوامۃ: 30042 ترقیم الشثری: -- 31402
٣١٤٠٢ - حدثنا محمد بن فضيل عن عاصم عن ثابت البناني قال: حدثني رجل من اصحاب محمد ﷺ عند هذه السارية قال:"من قال: سبحان الله وبحمده استغفر الله واتوب إليه، كتبت له في رق ثم طبع عليها خاتما من مسك، فلم يكسر حتى يوافق بها يوم القيامة" (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه ابن فضيل في الدعاء (١٤١).
حضرت ثابت بنانی فرماتے ہیں کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ میں سے ایک آدمی نے مجھے بیان کیا ہے کہ: جو شخص یہ کلمات کہے: اللہ پاک ہے اور اپنی تعریف کے ساتھ ہے، میں اللہ سے معافی چاہتا ہوں اور اسی سے اپنے گناہوں کی توبہ کرتا ہوں تو ایک سفید تختہ پر اس کے لیے ان کا ثواب لکھا جاتا ہے، پھر اس پر مشک کی ایک مہر لگا دی جاتی ہے۔ پھر نہیں توڑا جاتا اس مہر کو یہاں تک کہ وہ قیامت کے دن ان کلمات کا پورا پورا ثواب حاصل کرلے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31402]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31402، ترقيم محمد عوامة 30042)
ترقیم عوامۃ: 30043 ترقیم الشثری: -- 31403
٣١٤٠٣ - حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرني هشام بن عبد الله عن يحيى بن ابي كثير عن ابي الدرداء قال: لان اسبح مائة تسبيحة (احب إلي) (١) من ان اتصدق بمائة دينار على المساكين (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) تكرر في: [جـ].
(٢) منقطع؛ يحيى لم يسمع من أبي الدرداء.
حضرت ابو الدرداء فرماتے ہیں کہ سو مرتبہ میں اللہ کی پاکی بیان کروں یہ مجھے زیادہ پسندیدہ ہے اس بات سے کہ میں سو دینار مساکین پر خرچ کروں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31403]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31403، ترقيم محمد عوامة 30043)