مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
50. ما ذكر في الاستغفار
استغفار کے بارے میں جو فضیلت ذکر کی گئی ہے
ترقیم عوامۃ: 30052 ترقیم الشثری: -- 31412
٣١٤١٢ - حدثنا ابو اسامة عن (حسين) (١) بن ذكوان عن عبد الله بن بريدة عن بشير بن كعب عن شداد بن (اوس) (٢) قال: قال رسول الله ﷺ:"سيد الاستغفار ان يقول: اللهم انت ربي وانا عبدك، لا إله إلا انت خلقتني وانا عبدك، اصبحت على عهدك ووعدك ما استطعت، اعوذ بك من شر ما صنعت، ابوء (٣) بنعمتك علي وابوء لك بذنوبي، فاغفر لي إنه لا يغفر الذنوب إلا انت" (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ط]: (حسن).
(٢) في [ط، هـ]: (يونس).
(٣) في [هـ]: زيادة (لك).
(٤) صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٣٢٣)، وأحمد (١٧١١١).
حضرت شداد بن اوس فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سید الاستغفار یہ ہے کہ بندہ یوں کہے! اے اللہ! تو میرا رب ہے، اور میں تیرا بندہ ہوں تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے تو نے ہی مجھے پیدا کیا ہے اور میں تیرا ہی بندہ ہوں میں نے صبح کی تیرے وعدے پر اور تیرے عہد پر اپنی استطاعت کے مطابق میں تیری پناہ مانگتا ہوں ان کاموں کے شر سے جو میں نے کیے ہیں، میں اعتراف کرتا ہوں مجھ پر ہونے والی تیری نعمتوں کا، اور میں تیرے سامنے اپنے گناہوں کا بھی اعتراف کرتا ہوں، پس تو مجھے معاف فرما دے، بیشک تیرے علاوہ کوئی بھی گناہوں کو معاف نہیں کرسکتا۔ بخاری ٦٣٠٦۔ احمد ١٢٢ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31412]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31412، ترقيم محمد عوامة 30052)
ترقیم عوامۃ: 30053 ترقیم الشثری: -- 31413
٣١٤١٣ - حدثنا زيد بن الحباب (قال) (١) : حدثني كثير بن زيد قال: حدثني ⦗٢١٨⦘ المغيرة بن سعيد (بن) (٢) نوفل عن شداد بن اوس ان رسول الله ﷺ قال له:"الا ادلك على سيد الاستغفار ان تقول: (اللهم) (٣) انت الهي لا إله إلا انت، خلقتني وانا عبدك وانا على عهدك ووعدك ما استطعت، اعوذ بك من شر ما صنعت، وابوء لك بنعمتك علي وابوء لك بذنوبي فاغفر لي فإنه لا يغفر الذنوب إلا انت، ما من عبد يقولها فياتيه قدره في (يومه) (٤) قبل يمسي او في مسائه قبل ان يصبح إلا كان من اهل الجنة" (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ط، هـ].
(٢) سقط من: [ط].
(٣) سقط من: [ط، هـ].
(٤) في [ط]: (يوم).
(٥) مجهول؛ لجهالة المغيرة بن سعيد بن نوفل، أخرجه الطبراني (٧١٨٩) وفي الدعاء (٣١٥).
حضرت شداد بن اوس فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے ارشاد فرمایا: کیا میں تمہاری سید الاستغفار کے بارے میں راہنمائی نہ فرماؤں؟ تم یہ کلمات کہہ لیا کرو: اے اللہ! تو ہی میرا معبود ہے۔ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو نے ہی مجھے پیدا کیا ہے اور میں تیرا بندہ ہوں۔ اور میں تیرے وعدے اور عہد کو اپنی طاقت کے بقدر پورا کرتا ہوں میں تیری پناہ مانگتا ہوں ان اعمال کے شر سے جو میں نے کیے ہیں، اور میں اعتراف کرتا ہوں مجھ پر ہونے والی تیری نعمتوں کا، اور میں تیرے سامنے اپنے گناہوں کا اعتراف کرتا ہوں، پس تو میری مغفرت فرما۔ پس بیشک تیرے سوا کوئی بھی گناہوں کی مغفرت نہیں کرسکتا۔ کوئی بندہ ایسا نہیں کہ وہ ان کلمات کو کہے اس دن میں پس اس کا وقت مقرر شام ہونے سے پہلے اس کے پاس آئے، یا شام میں کہے تو صبح ہونے سے پہلے موت آئے، مگر یہ کہ وہ شخص اہل جنت میں سے ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31413]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31413، ترقيم محمد عوامة 30053)
ترقیم عوامۃ: 30054 ترقیم الشثری: -- 31414
٣١٤١٤ - حدثنا ابو الاحوص عن ابي إسحاق عن (١) المغيرة عن حذيفة قال: شكوت إلى رسول الله ﷺ ذرب لساني فقال:"اين انت من الاستغفار؟ إني لاستغفر الله في كل يوم" مائة مرة (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: زيادة (أبي)، وكلاهما قيل في اسمه.
(٢) مجهول؛ لجهالة المغيرة، أخرجه أحمد (٢٣٣٤٠)، والنسائي في عمل اليوم واليلة (٤٥٠)، وابن ماجه (٣٨١٧)، والحاكم ١/ ٥١٠، والدارمي (٢٧٢٣)، وهناد في الزهد (٩١٦)، والطيالسي (٤٢٧)، وابن حبان (٩٢٦)، والبزار (٢٩٧٠)، وابن السني (٣٦٢)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ٢٦٧، وابن عدي ٦/ ٢٢٥٧، والطبراني في الدعاء (١٨١٢)، والبيهقي في الشعب (٦٧٨٨).
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہارشاد فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنی زبان کی تیزی و بدگوئی کی شکایت کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پس تیری استغفار کہاں ہے؟ (استغفار کیوں نہیں کرتا) بیشک میں ہر روزسو مرتبہ اللہ سے استغفار کرتا ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31414]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31414، ترقيم محمد عوامة 30054)
ترقیم عوامۃ: 30055 ترقیم الشثری: -- 31415
٣١٤١٥ - حدثنا محمد بن بشر حدثنا محمد بن عمرو حدثنا ابو سلمة عن ابي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"إني لاستغفر الله واتوب إليه في اليوم مائة مرة" (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) حسن؛ محمد بن عمرو صدوق، أخرجه أحمد (٩٨٠٧)، والبخاري (٦٣٠٧).
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں بلاشبہ دن میں سو مرتبہ توبہ و استغفار کرتا ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31415]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31415، ترقيم محمد عوامة 30055)
ترقیم عوامۃ: 30056 ترقیم الشثری: -- 31416
٣١٤١٦ - حدثنا عبد الله بن نمير حدثنا مالك بن مغول عن محمد بن سوقة عن نافع عن ابن عمر قال: إن (كانا) (١) لنعد لرسول الله ﷺ في المجلس يقول:"رب اغفر لي وتب علي إنك انت التواب الغفور" مائة مرة (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، ك]: (كان).
(٢) صحيح؛ أحمد (٤٧٢٦)، وأبو داود (١٥١٦)، والترمذي (٣٤٣٤)، وابن حبان (٩٢٧)، وابن ماجه (٣٨١٤)، والنسائي في عمل اليوم والليلة (٤٥٨)، وابن السني (٣٧٠)، وأبو نعيم في الحلية ٥/ ١٢، وعبد بن حميد (٨١٠)، والطبراني (١٣٥٣٢)، والبخاري في الأدب المفرد (٦٢٧)، والبغوي (١٢٨٩).
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک مجلس میں کہے ہوئے ان کلمات کو گنتے تو وہ سو مرتبہ ہوتے تھے۔ اے میرے رب! تو مجھے معاف فرما دے۔ اور میری توبہ کو قبول فرما۔ بلاشبہ تو ہی توبہ قبول کرنے والا اور مغفرت کرنے والا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31416]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31416، ترقيم محمد عوامة 30056)
ترقیم عوامۃ: 30057 ترقیم الشثری: -- 31417
٣١٤١٧ - حدثنا غندر عن شعبة عن عمرو بن مرة عن ابي بردة قال: سمعت (الاغر) (١) وكان من اصحاب النبي ﷺ يحدث ابن عمر قال: قال رسول الله ﷺ:"توبوا إلى ربكم فإني اتوب (إليه) (٢) في اليوم مائة مرة" (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك]: (الأغرب).
(٢) ساقط من: [أ، ب، جـ، ط، ك].
(٣) صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٧٠٢)، وأحمد (١٧٨٤٧).
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگ اپنے رب سے توبہ کیا کرو۔ بلاشبہ میں دن میں سو مرتبہ توبہ کرتا ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31417]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31417، ترقيم محمد عوامة 30057)
ترقیم عوامۃ: 30058 ترقیم الشثری: -- 31418
٣١٤١٨ - حدثنا الفضل بن دكين حدثنا مغيرة بن ابي الحر عن سعيد بن [ابي] بردة عن ابيه عن جده قال: جاء رسول الله ﷺ ونحن جلوس فقال:"ما اصبحت غداة إلا استغفرت الله فيها مائة مرة" (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ وأبو بردة ثقة كثير الحديث قد يروي الحديث من وجهين، والمغيرة ثقة، وقد وافقه أبو إسحاق عن أبي بردة، والحديث أخرجه أحمد (١٩٦٧٢)، وابن ماجه (٣٨١٦)، والنسائي في الكبرى (١٠٢٧٥)، وعبد بن حميد (٥٥٨)، والعقيلي ٤/ ١٧٥، والطبراني في الأوسط (٣٧٤٩)، وأبو نعيم في تاريخ أصبهان ١٥/ ٦٠، والطحاوي ٤/ ٢٨٩، والبيهقي في شعب الإيمان (٦٧٨٩).
حضرت ابو بردہ کے والد فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اس حال میں کہ ہم بیٹھے تھے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے کبھی صبح نہیں کی مگر یہ کہ ا س میں سو مرتبہ استغفار کیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31418]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31418، ترقيم محمد عوامة 30058)
ترقیم عوامۃ: 30059 ترقیم الشثری: -- 31419
٣١٤١٩ - حدثنا ابو اسامة عن كهمس عن عبد الله بن شقيق قال: كان ابو الدرداء يقول: طوبى لمن وجد في صحيفته (نبذ) (١) من (استغفار) (٢) (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (نبذة).
(٢) في [ط، هـ]: (الاستغفار).
(٣) صحيح.
حضرت عبد اللہ بن شقیق فرماتے ہیں کہ حضرت ابو الدرداء ارشاد فرمایا کرتے تھے: خوشخبری ہے اس شخص کے لیے جس کے نامۂ اعمال میں استغفار کا بھی کچھ حصہ پایا جائے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31419]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31419، ترقيم محمد عوامة 30059)
ترقیم عوامۃ: 30060 ترقیم الشثری: -- 31420
٣١٤٢٠ - (١) حدثنا عفان حدثنا (بكير) (٢) بن ابي (سميط) (٣) حدثنا منصور بن زاذان عن ابي الصديق الناجي عن ابي سعيد الخدري قال: من قال: استغفر الله (٤) الذي لا إله إلا هو الحي القيوم واتوب إليه، خمس مرات، غفر له وإن كان عليه مثل زبد البحر (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك]: زيادة (حدثنا أبو بكر قال).
(٢) في [أ، ط، هـ]: (بكر).
(٣) في [أ، هـ]: (السمط)، وفي [ط]: (السميط).
(٤) في [ط، هـ]: زيادة (العظيم).
(٥) حسن؛ بكير بن أبي سميط صدوق.
حضرت ابو الصدیق الناجی فرماتے ہیں کہ حضرت ابو سعید الخدری نے ارشاد فرمایا: جو شخص پانچ مرتبہ استغفار کے یہ کلمات پڑھے: میں اس اللہ سے اپنے گناہوں کی مغفرت چاہتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ زندہ ہے اور قائم رکھنے والا، اور میں اسی سے توبہ کرتا ہوں تو اس کی مغفرت کردی جاتی ہے اگرچہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31420]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31420، ترقيم محمد عوامة 30060)
ترقیم عوامۃ: 30061 ترقیم الشثری: -- 31421
٣١٤٢١ - حدثنا ابن علية عن يونس عن حميد بن هلال عن ابي بردة قال: جلست إلى شيخ من اصحاب رسول الله ﷺ في مسجد الكوفة فحدثني قال: سمعت رسول الله ﷺ او قال: (قال) (١) رسول الله ﷺ: في"يا ايها الناس تويوا إلى الله واستغفروه فإني اتوب إلى الله و (استغفره) (٢) في كل يوم مائة مرة"، قلت: اللهم إني استغفرك (اثنتين) (٣) ، قال:" (وهو) (٤) اقول لك" (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ح، ط، هـ].
(٢) في [أ، ب، هـ]: (استغفر).
(٣) في [ك]: (اثنتان)، وفي [هـ]: (اثنين).
(٤) في [ط]: (هوها).
(٥) صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٧٠٢)، وأحمد (١٨٢٩٣).
حضرت ابو بردہ فرماتے ہیں کہ میں کوفہ کی مسجد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک بزرگ کے پاس بیٹھا تھا وہ فرمانے لگے کہ میں نے سنا یا فرمایا: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! اللہ سے توبہ و استغفار کرو۔ پس بلاشبہ میں دن میں سو مرتبہ اللہ سے توبہ و استغفار کرتا ہوں۔ ابو بردہ فرماتے ہیں: میں نے دو مرتبہ پڑھا، اے اللہ میں تجھ سے معافی مانگتا ہوں۔ وہ صحابی فرمانے لگے: میں اسی بات کی تو تلقین کر رہا ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31421]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31421، ترقيم محمد عوامة 30061)