مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
56. ما جاء عن علي ﵁ مما دعا مما بقي من دعائه
سیدنا علی سے منقول دعائوں کا بیان
ترقیم عوامۃ: 30132 ترقیم الشثری: -- 31494
٣١٤٩٤ - حدثنا غندر عن شعبة عن عمرو بن مرة عن عبد الله بن سلمة عن علي انه كان يدعو: اللهم ثبتنا على كلمة العدل بالرضى والصواب، ⦗٢٤٧⦘ وقوام الكتاب، هادين مهديين (راضين) (١) مرضيين، (غير) (٢) ضالين ولا مضلين (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (راجين).
(٢) في [ب]: (غير).
(٣) حسن؛ عبد اللَّه بن سلمة صدوق، أخرجه البغوي في الجعديات (٦٤)، والذهبي في تذكرة الحفاظ ٢/ ٦٢٣، وتاريخ الإسلام ٢٦/ ١٤١.
حضرت عبد اللہ بن سلمہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ یوں دعا مانگا کرتے تھے: اے اللہ! تو ہمیں انصاف کے کلمہ پر رضا مندی اور درستگی اور صحیح کتاب کے ساتھ ثابت قدم فرما، جو ہدایت کا راستہ دکھلانے والا، ہدایت یافتہ، راضی کرنے والا اور راضی ہونے والا، جو نہ گمراہ ہے اور نہ ہی گمراہ کرنے والا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31494]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31494، ترقيم محمد عوامة 30132)
ترقیم عوامۃ: 30133 ترقیم الشثری: -- 31495
٣١٤٩٥ - حدثنا ابو خالد الاحمر (عن حجاج) (١) عن الوليد بن ابي الوليد عمن حدثه عن علي انه كان يقول في دعائه: اللهم إني اسالك برحمتك التي وسعت بها كل شيء، (وبعزتك التي اذللت بها كل شيء وخضع لك بها كل شيء وذل لك بها كل شيء) (٢) ، وبجبروتك التي غلبت بها كل شيء، وبعظمتك التي (غلبت) (٣) بها كل شيء، وبسلطانك الذي ملات به كل شيء، وبقوتك التي لا يقوم لها شيء، وبنورك الذي اضاء له كل شيء، وبعلمك الذي احاط بكل شيء، (و) (٤) باسمك الذي (يبتدا) (٥) به كل شيء، وبوجهك الباقي بعد فناء كل شيء، يا نور يا قدوس يا نور يا قدوس- ثلاثا، (يا) (٦) اول الاولين ويا آخر الآخرين، ويا الله يا رحمن يا رحيم (اغفر لي) (٧) الذنوب التي تنزل النقم، (واغفر لي الذنوب التي تهتك العصم) (٨) ، واغفر لي الذنوب التي تورث الندم، واغفر لي الذنوب ⦗٢٤٨⦘ التي تحبس القسم، واغفر لي الذنوب التي تغير النعم، واغفر لي الذنوب التي تنزل النبلاء وتديل الاعداء، واغفر لي الذنوب التي تحبس غيث السماء، وتعجل (الفناء) (٩) و (تظلم) (١٠) (الهواء) (١١) وترد الدعاء، واغفر لي الذنوب التي (تردي إلى النار) (١٢) (١٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) ساقط من: [جـ].
(٢) سقط من: [أ، ح، ط، هـ].
(٣) في [ك]: (علمت).
(٤) سقط من: [ك].
(٥) في [ظ]: (تبدأ)، وفي [أ، جـ، هـ]: (تبيد).
(٦) سقط من: [ك].
(٧) في [ط]: (غفرت).
(٨) سقط من: [أ، ح، ط، هـ].
(٩) في [ط]: (العباد).
(١٠) في [أ، ب، جـ، ط، ك]: (بظلم).
(١١) في [أ، ب، جـ، ط]: (الهوى)، وفي [ك]: (الهوا).
(١٢) في [أ، هـ]: (تكشف الغطاء)، وفي [أ، ح]: (ترد إلى النار).
(١٣) مجهول؛ لجهالة راويه، أخرجه ابن أبي الدنيا في الفرج (٦٣).
حضرت ولید بن ابو الولید نقل فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہاپنی دعا میں پہلے تین مرتبہ یوں فرماتے: اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیری اس رحمت کے ساتھ جس کے ذریعے تو ہر چیز پر حاوی ہے، اور تیری اس عزت کے ساتھ جس کے ذریعہ تو نے ہر چیز کو ذلیل کردیا، اور ہر چیز تیرے سامنے جھک گئی اور ہر چیز تیرے سامنے حقیر ہوگئی۔ اور تیری اس طاقت کے ساتھ جس کے ذریعہ تو ہر چیز پر غالب ہے۔ اور تیری اس عظمت کے ساتھ جس کے ذریعہ تو ہر چیز پر غالب ہے، اور تیری اس بادشاہت کے ساتھ جس کے ذریعہ تو نے ہر چیز کو بھر دیا، اور تیری اس قوت کے ساتھ جس کے سامنے کوئی چیز ٹھہر نہیں سکتی۔ اور تیرے اس نور کے ساتھ جس نے ہر چیز کو روشن کردیا۔ اور تیرے اس علم کے ساتھ جس نے ہر چیز کا احاطہ کیا ہوا ہے، اور تیرے اس نام کے ساتھ کہ جس سے ہر چیز کی ابتدا کی جاتی ہے، اور تیرے اس بابرکت چہرے کے ساتھ جو ہر چیز کے فنا ہونے کے بعد بھی باقی رہے گا، اے نور بخشنے والے، اے برائیوں سے پاک ذات، اے نور بخشنے والے، اے برائیوں سے پاک ذات، (تین مرتبہ پڑھتے) اے پہلوں میں سب سے پہلے، اور اے بعد والوں میں سے سب سے بعد والے! ا اور اے اللہ! اے رحم کرنے والے، اے بہت رحم کرنے والے، میرے ان گناہوں کو معاف فرما دے جن کی وجہ سے تو سزائیں نازل کرتا ہے، اور میرے ان گناہوں کو معاف فرما دے جن کی وجہ سے تو عصمت دری کرتا ہے، اور میرے ان گناہوں کو بھی معاف فرما دے جن کی وجہ سے تو ندامت کا وارث بناتا ہے۔ اور میرے ان گناہوں کو بھی معاف فرما دے جن کی وجہ سے تو نصیب کو روک لیتا ہے۔ اور میرے ان گناہوں کو بھی معاف فرما دے جن کی وجہ سے تو نعمتوں کو بدل دیتا ہے اور میرے ان گناہوں کو بھی معاف فرما دے جن کی وجہ سے تو بلاؤں اور مصیبتوں کو نازل کرتا ہے، اور دشمنوں کو غالب کرتا ہے، اور میرے ان گناہوں کو بھی معاف فرما جن کی وجہ سے تو آسمان کی بارش کو روک لیتا ہے، اور تو برباد کرنے میں جلدی کرتا ہے اور تو نفس پر ظلم کرتا ہے اور تو دعا کو رد کرتا ہے، اور میرے ان گناہوں کو بھی معاف فرما جن کی وجہ سے تو جہنم کی طرف لوٹاتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31495]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31495، ترقيم محمد عوامة 30133)
ترقیم عوامۃ: 30134 ترقیم الشثری: -- 31496
٣١٤٩٦ - حدثنا محمد بن فضيل عن عبد الله الاسدي عن رجل عن علي قال: كان يقول: اللهم يا (داحي المدحوات) (١) ويا باني المبنيات ويا مرسي المرسيات، ويا جبار القلوب على فطرتها (شقيها) (٢) وسعيدها، و (يا) (٣) باسط الرحمة للمتقين، اجعل (شرائف) (٤) صلواتك ونوامي بركاتك ورافات تحيتك وعواطف زواكي رحمتك على محمد عبدك ورسولك، الفاتح لما اغلق والخاتم لما سبق و (فالج) (٥) الحق بالحق، و (دامغ) (٦) (جايشات) (٧) الاباطيل كما (حملته) (٨) ، ⦗٢٤٩⦘ (فاضطلع) (٩) بامرك (مستنصرا) (١٠) في رضوانك غير ناكل عن قدم، ولا (منثنن) (١١) عن عزم، (حافظ) (١٢) لعهدك، (ماضي) (١٣) لنفاذ امرك، [حتى ارى ان ارى فيمن افضى إليك، (متنصر) (١٤) بامرك واسباب هداة القلوب، بعد (واضحات) (١٥) الاعلام إلى (خوضات) (١٦) الفتن (إلى نائرات) (١٧) الاحكام] (١٨) ، فهو امينك المامون، وشاهدك يوم الدين وبعيثك رحمة للعالمين، اللهم افسح له مفسحا عندك، واعطه بعد رضاه الرضى من فوز ثوابك المحلول، و (عظيم) (١٩) جزائك (المعلول) (٢٠) ، اللهم اتمم له موعدك بانبعاثك إياه مقبول الشفاعة عدل الشهادة مرضي المقالة، ذا منطق عدل وخطيب فصل وحجة، وبرهان عظيم، اللهم اجعلنا سامعين مطيعين واولياء ⦗٢٥٠⦘ مخلصين ورفقاء مصاحبين، اللهم (ابلغه) (٢١) (منا) (٢٢) السلام واردد علينا منه السلام (٢٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك]: (يا داجي الدجات).
(٢) في [هـ]: (سقيها).
(٣) سقط من: [ك].
(٤) في [ك]: (مرايف).
(٥) في [هـ]: (فاتح).
(٦) في [أ، ب، جـ، ط]: (دافع).
(٧) في [أ، هـ]: (جيشات).
(٨) في [هـ]: (خملته).
(٩) في [ط]: (فأخذ طلع).
(١٠) في [ز]: (مستبصرًا).
(١١) في [ك]: (مسمى)، وفي [هـ]: (مثن).
(١٢) في [أ، ح، ط، هـ]: (الحافظ).
(١٣) في [أ، هـ]: (الماضي).
(١٤) في [أ، ك، هـ]: (تنصر).
(١٥) في [أ، ب، جـ، ط]: (وأصحاب).
(١٦) في [ب]: (حوضات)، وفي [أ]: (خرصات).
(١٧) في [أ، ب، جـ، ط]: زيادة (ما نائرات).
(١٨) كذا في النسخ، وفي المراجع: (حتى أورى قبسًا لقابس، آلاء اللَّه تصل بأهله أسبابه، به هديت القلوب بعد خوضات الفتن والإثم، وأقام موضحات الأعلام، ومنيرات الإسلام، ودائرات الأحكام)، انظر: تفسير ابن كثير ٣/ ٥١٠، وكنز العمال ٢/ ١١٨ ومراجع التخريج.
(١٩) في [جـ، ك]: (عظم).
(٢٠) في [ط]: (المغلول)
(٢١) في [هـ]: (بلغه).
(٢٢) في [ك]: (من).
(٢٣) مجهول؛ لإبهام الرجل الراوي عن علي، ولجهالة عبد اللَّه الأسدي، وبنحوه بإسناد آخر عن علي موقوفًا أخرجه ابن جرير في تهذيب الآثار (الجزء المفقود) (٣٥٢)، والطبراني في الأوسط (٦٠٨٩)، والآجري في الشريعة (٤١٩)، وابن بطة في الإبانة (١٥٧٦)، والقالي في الأمالي ٣/ ١٧٥.
حضرت عبد اللہ اسدی ایک شخص سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ یوں دعا فرمایا کرتے تھے: اے اللہ! اے بچھانے والے بچھی ہوئی زمینوں کے، عمارتوں کی تعمیر کرنے والے، پہاڑوں کے گاڑنے والے، اور دلوں کو بزور بنانے والے اس کی فطرت پر ان کے بدبخت ہونے کو اور نیک بخت ہونے کو، اور متقیوں اور پرہیز گاروں کے لیے رحمت کو کشادہ کرنے والے، نازل فرما اپنی بزرگ ترین خاصی رحمتیں اور بڑھنے والی برکتیں، اور اپنی بڑی مہربانی کو، اور اپنی پاکیزہ، مہربان رحمتوں کو حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جو تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں، اور کھولنے والے ہیں اس سعات کو جو بند کردی گئی، اور مکمل کرنے والے ہیں اس دین کو جو غالب آگیا، اور حق کو غالب کرنے والے ہیں سلامتی کے ساتھ، اور توڑنے والے ہیں ان لشکروں کے جو ناحق پر ہیں جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو برانگیختہ کیا ان کے توڑنے پر پس مستعد ہوگئے تیرے حکم سے، مدد طلب کرنے والے تیری رضا مندی میں، بلاقید کے پنیر میں، اور بلا سستی کے ارادے میں (یعنی لشکر کفار کے توڑنے میں اٹھنے کے لیے آپ نے کوتاہی نہیں کی) نگاہ رکھنے والے تیری وحی کی طرف، حفاظت کرنے والے تیرے عصب (کے) تیرے حکم کے نفاذ پر وقت گزارنے والے، یہاں تک کہ روشن کردیا اسلام کے شعلۂ نور کو روشنی لینے والوں کے لیے، اللہ کی نعمتیں ملا دیتی ہیں اس کے اسباب کو ان سے جو اس مشغلہ کے اھل لوگ ہیں (یعنی وہ فائدہ اٹھا لیتے ہیں) آپ ہی کے سبب سے ہدایت ملی دلوں کو، ان کے فتنوں اور گناہوں میں ڈوب جانے کے بعد، اور آپ نے ظاہر کرنے والی نشانیوں کو مزید واضح کیا، اور اسلام کے چمکدار حکموں کو، اور اسلام کی روشنیوں کو، پس آپ ہی تیرے بھروسہ کے قابل امانت دار ہیں، اور آپ ہی قیامت کے دن تیرے گواہ ہیں، اور تیری بھیجی ہوئی رحمت میں تمام جہان والوں کے لیے، اے اللہ! کشادہ کر دے ان کی جگہ اپنے پاس اور ان کو عطا فرما اپنی رضا مندی کے بعد ایسی رضا مندی جو تیرے اجر کی کامیابی کی طرف سے ہو، اور تیری عظیم جزا جو کہ کسی وجہ سے ملتی ہے اس کی طرف سے، اے اللہ، تو ان سے کیے جانے والے اپنے وعدے کو پورا فرما، ان کو مبعوث فرما کر شفاعت کیے جانے والے مقام پر، انصاف کی گواہی مقبول کر کے، اور آپ کے ہر قول کو اپنی رضا مندی کے موافق کر کے، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو صاحب انصاف بنا کر، اور آپ کو ایسا خطیب بنا کر جو حق و باطل مں ر فرق کرنے والا ہو، اور بڑی حجت والا بنا کر۔ اے اللہ! ہمیں بنا دے سننے والوں میں سے (پھر) فرمانبرداری کرنے والوں میں سے، اور مخلص لوگوں کے دوستوں میں سے، اور اپنے ساتھیوں کے رفقاء میں سے، اے اللہ! تو پہنچا دے ان کو ہماری طرف سے سلامتی، اور لوٹا دے ان کی طرف سے ہم پر سلامتی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31496]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31496، ترقيم محمد عوامة 30134)
ترقیم عوامۃ: 30135 ترقیم الشثری: -- 31497
٣١٤٩٧ - حدثنا (عبيدة) (١) بن حميد عن ابي جعفر محمد البصري عن رجل يدعى سالما قال: كان من دعاء علي: اللهم اجعلني ممن رضيت عمله وقصرت امله، واطلت عمره، واحييته بعد الموت حياة طيبة ورزقته، اللهم إني اسالك (نعيما) (٢) لا ينفد، وفرحة لا ترتد، ومرافقة نبيك محمد ﷺ وإبراهيم في اعلى جنة الخلد، اللهم هب لي (شغفا) (٣) (يوجل) (٤) له قلبي، وتدمع له عيني، و (يقشعر) (٥) له جلدي، ويتجافى له جنبي، واجد نفعه في قلبي. اللهم طهر قلبي من النفاق، وصدري من (الغل) (٦) ، واعمالي من الرياء، وعيني من الخيانة، ولساني من الكذب، وبارك لي في سمعي وقلبي، وتب علي إنك انت التواب الرحيم. ⦗٢٥١⦘ اللهم إني اعوذ بوجهك الكريم الذي اشرقت له السماوات السبع وكشفت به الظلمات، و (صلح) (٧) عليه امر الاولين والآخرين من ان يحل علي غضبك (او) (٨) ينزل (بي) (٩) سخطك او (اتبع) (١٠) هواي بغير هدى منك. او اقول للذين كفروا: ﴿هؤلاء اهدى من الذين آمنوا سبيلا﴾ [النساء: ٥١] . اللهم كن لي برا رؤوفا رحيما بحاجتي حفيا، اللهم اغفر لي يا غفار، وتب علي يا تواب، وارحمني يا رحمن، واعف عني يا حليم، اللهم ارزقني زهادة واجتهادا في العبادة، ولقني إياك على شهادة (يسبق) (١١) (بشراها) (١٢) (وجعها) (١٣) وفرحها جزعها، يا رب لقني عند الموت نضرة وبهجة وقرة عين وراحة في الموت. اللهم لقني في قبري ثبات المنطق وقرة عين المنظر، وسعة في المنزل، اللهم قفني من عمل يوم القيامة موقفا يبيض به وجهي، ويثبت به مقالتي، وتقر به عيني، وتنزل به علي امنيتي، وتنظر إلى بوجهك نظرة استكمل بها الكرامة في الرفيق الاعلى في اعلى عليين، فإن نعمتك تتم (الصالحات) (١٤) ، اللهم إني ضعيف من ضعف (خلقتني إلى ضعف) (١٥) ما (اصير) (١٦) ، فما شئت إلا ما ⦗٢٥٢⦘ (تشاء) (١٧) (فشا لي) (١٨) ان استقيم (١٩) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (عبدة).
(٢) سقط من: [جـ].
(٣) أي: محبة عظيمة، وفي [هـ]: (شفقًا).
(٤) في [ط]: (يرجل)، وفي [ك]: زيادة (من).
(٥) في [ط]: (تقشعر).
(٦) في [ب]: (الغالي).
(٧) في [أ، ب، ط]: (صلحت).
(٨) في [ك]: (أو)، وفي [ب]: (و).
(٩) في [أ، ب، ط]: (لي).
(١٠) في [أ، ط]: (أتتبع).
(١١) في [أ، ب، ط، ك]: (سبق)، وفي [هـ]: (سبقت).
(١٢) في [ك]: (كرها).
(١٣) في [هـ]: (وحقها).
(١٤) في [ك]: (صالحة).
(١٥) في [أ، هـ]: (خلقي).
(١٦) في [ط]: (أحبر)، وفي [هـ]: (أصبر).
(١٧) في [جـ، ك]: (شئنا).
(١٨) في [أ، ط]: (فشأني).
(١٩) مجهول؛ لجهالة سالم الراوي عن علي.
حضرت ابو جعفر محمد بصری اس آدمی سے نقل کرتے ہیں جو سالم نام سے پکارا جاتا تھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی دعا میں سے ہے: اے اللہ! مجھے بنا دے ان لوگوں میں سے جن کے عمل سے تو راضی ہے اور جن کی امیدوں کو تو نے چھوٹا کردیا، اور جن کی عمر کو تو نے لمبا کردیا، اور تو ان کو دے گا موت کے بعد پاکیزہ زندگی اور پاکیزہ رزق، اے اللہ! میں تجھ سے مانگتا ہوں ایسی نعمت جو کبھی ختم نہ ہو، اور ایسی خوشی جو کبھی واپس نہ ہو، اور تیرے نبی حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت ابراہیم کی ہمراہی ہمیشہ کی جنت کے اعلی رضی اللہ عنہ درجوں میں، اے اللہ! مجھے عطا فرما ایسا گوشہ جس میں میرا دل روشن ہوجائے، اور میری آنکھوں سے آنسو بہہ پڑیں، اور میرے جسم پر کپکپی طاری ہوجائے، اور میرا پہلو بستر سے جدا ہوجائے، اور میں اپنے دل میں اس کا نفع پاؤں۔ اے اللہ! میرے دل کو نفاق سے پاک و صاف کر دے، اور میرے سینہ کو کینہ سے، اور میرے عملوں کو دکھاوے سے، اور میری آنکھ کو خیانت سے، اور میری زبان کو جھوٹ بولنے سے، اور میرے سننے میں اور میرے دل میں برکت عطا فرما۔ اور میری توبہ قبول فرما۔ بلاشبہ تو ہی تو بہ قبول کرنے والا، رحم فرمانے والا ہے۔ اے اللہ! میں پناہ لیتا ہوں تیرے باعزت چہرے کی جس نے ساتوں آسمانوں کو روشن کردیا، اور جس کے ذریعہ سے ظلمتوں کو ختم کردیا گیا، اور پہلے اور آخری لوگوں کا معاملہ جس کی بدولت درست ہوا اس بات سے کہ مجھ پر تیرا غضب اترے، یا مجھ پر تیری ناراضگی اترے اس بات سے کہ میں تیری طرف سے آنے والی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہشات کی پیروی کرنے لگوں یا اس بات سے کہ میں کافروں سے کہوں کہ وہ زیادہ راہ راست پر ہیں مومنوں سے، اے اللہ! تو مجھ پر مہربان، شفیق اور رحم کرنے والا بن جا، اور میری ضرورت میں میرا شفیق، اے اللہ! میری مغفرت فرما اے مغفرت فرمانے والے، اور میری توبہ قبول فرما اے توبہ قبول فرمانے والے، اور مجھ پر رحم فرما اے رحم فرمانے والے، اور مجھ سے درگزر فرما اے بردبار، الٰہی! مجھے بقدر کفایت رزق عطا فرما، اور مجھے عبادت میں کوشش کرنے کی توفیق عطا فرما، اور مجھے اپنے سامنے ایسی گواہی تلقین فرما کہ جس کی خوشخبری اس کی تکلیف پر سبقت لے جائے، اور اس کی خوشی اس کے غم پر، اے میرے پروردگار، مجھے موت کے وقت شادمانی اور آسودہ حالی کی چمک دمک عطا فرما اور آنکھ کی ٹھنڈک اور موت میں آسانی فرما۔ اے اللہ! قبر میں مجھے ثابت قدم بنا۔ گھر میں مجھے میری پسند کا منظر دکھا۔ قیامت کے دن میرے چہرے کو روشن فرما۔ میری گفتگو کو ثابت فرما۔ میری آنکھ کو ٹھنڈا بنا، میری تمنا کو پورا فرما، میری طرف قیامت کے دن رحمت کی نظر فرما، تیری نعمت سے نیکیاں پوری ہوتی ہیں، اے اللہ! میں کمزور ہوں اور تو نے مجھے کمزوری کی حالت میں پیدا کیا ہے، اصل چاہت تیری ہے تو مجھے اپنی چاہت کے سیدھے راستے پر چلا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31497]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31497، ترقيم محمد عوامة 30135)
ترقیم عوامۃ: 30136 ترقیم الشثری: -- 31498
٣١٤٩٨ - حدثنا عفان حدثنا شعبة اخبرني منصور بن المعتمر قال: سمعت ربعي بن حراش عن علي قال: (ما) (١) من كلمات احب إلي الله ان يقولهن العبد: اللهم لا إله إلا انت، اللهم لا اعبد إلا إياك، اللهم لا اشرك بك شيئا، اللهم إني قد ظلمت نفسي فاغفر لي ذنوبي إنه لا يغفر الذنوب إلا انت (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ط، هـ].
(٢) صحيح.
حضرت ربعی بن حراش فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: ان کلمات سے زیادہ کوئی کلمات اللہ کے ہاں پسندیدہ نہیں ہیں کہ بندہ یوں کہے: اے اللہ! تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اے اللہ! میں تیرے سوا کسی کی بھی عباد ت نہیں کرتا، اے اللہ! میں تیرے ساتھ کسی چیز کو بھی شریک نہیں ٹھہراتا، اے اللہ! یقینا میں نے اپنی جان پر ظلم کیا، پس تو میرے گناہوں کو معاف فرما، اس لیے کہ تراے سوا کوئی بھی گناہوں کو معاف نہیں کرسکتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31498]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31498، ترقيم محمد عوامة 30136)