🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

57. ما جاء عن عبد الله بن مسعود ﵁
سیدنا عبد اللہ بن مسعود سے منقول دعائوں کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30137 ترقیم الشثری: -- 31499
٣١٤٩٩ - حدثنا ابو الاحوص عن ابي إسحاق عن الاسود وعلقمة قالا: قال عبد الله: إن في كتاب الله آيتين ما اصاب عبد ذنبا (١) فقراهما ثم استغفر الله إلا غفر له: ﴿والذين إذا فعلوا فاحشة او ظلموا انفسهم﴾ [آل عمران: ١٣٥] ، إلى آخر الآية، ﴿ومن يعمل سوءا او يظلم نفسه﴾ (٢) [النساء: ١١٠] .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ط]: زيادة (آيتين).
(٢) صحيح.

حضرت اسود اور حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبدا للہ نے ارشاد فرمایا: کتاب اللہ میں دو آیات ہیں، جو کوئی بندہ گناہ کرتا ہے پھر ان دونوں آیات کو پڑھ کر اللہ سے استغفار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرما دیتے ہیں۔ (آیت: اور وہ لوگ جو اگر کوئی کھلا گناہ کر بیٹھیں یا اپنی جانوں پر ظلم کر گزریں) آیت کے آخر تک، (آیت: اور جو کوئی کر بیٹھے برا کام یا ظلم کر بیٹھے اپنے اوپر)۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31499]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31499، ترقيم محمد عوامة 30137)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30138 ترقیم الشثری: -- 31500
٣١٥٠٠ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن شقيق قال: كان من دعاء ⦗٢٥٣⦘ عبد الله: ربنا اصبح ذات بيننا واهدنا سبل الإسلام و (اخرجنا) (١) من الظلمات إلى النور، واصرف عنا الفواحش ما ظهر منها وما بطن، وبارك لنا في اسماعنا وابصارنا وقلوبنا وازواجنا وذرياتنا، وتب علينا وعليهم إنك انت التواب الرحيم، واجعلنا لانعمك شاكرين مثنين بها قائلين بها و (اتمها) (٢) علينا (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك]: (ونجنا).
(٢) في [جـ، ك]: (أتممها).
(٣) صحيح.

حضرت شقیق فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ کی دعا یوں ہوتی تھی: اے ہمارے رب! ہمارے درمیان صلح جوئی فرما دے، اور ہمیں سلامتی کے راستوں کی طر ف ہدایت عطا فرما، اور ہمیں گمراہی کی ظلمتوں سے ہدایت کے نور کی طرف نکال دے، اور تو ہم سے فاحشات کو جن کا تعلق ظاہر سے ہو یا باطن سے ان کو پھیر دے، اور تو ہمارے کانوں میں اور ہماری آنکھوں میں اور ہمارے دلوں میں اور ہماری بیویوں میں اور ہماری اولاد میں برکت عطا فرما۔ پس یقینا تو ہی توبہ قبول کرنے والا رحم کرنے والا ہے، اور تو ہمیں ایسا بنا دے کہ تیری نعمتوں کا شکر کرنے والے ہوں۔ ان کے ذریعہ تعریف کرنے والے ہوں۔ ان کا ذکر کرنے والے ہوں۔ اور تو اپنی نعمتوں کو ہم پر پورا کر دے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31500]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31500، ترقيم محمد عوامة 30138)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30139 ترقیم الشثری: -- 31501
٣١٥٠١ - حدثنا عبيدة بن حميد عن منصور عن ابي وائل قال: كان عبد الله يقول: اللهم اصبح ذات بيننا، ثم ذكر نحوا من حديث الاعمش (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح.
حضرت ابو وائل فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ یوں دعا کیا کرتے تھے: اے اللہ! تو ہمارے درمیان صلح جوئی فرما، پھر راوی نے اعمش کی طرح باقی حدیث کو ذکر کیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31501]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31501، ترقيم محمد عوامة 30139)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30140 ترقیم الشثری: -- 31502
٣١٥٠٢ - حدثنا وكيع عن المسعودي عن عون بن عبد الله عن ابي فاختة عن الاسود بن يزيد قال: قال عبد الله يقول الله: من كان له عندي عهد فليقم، قالوا: يا (ا) (١) با عبد الرحمن فعلمنا، قال: قولوا: اللهم فاطر السماوات والارض، عالم الغيب والشهادة (٢) إني اعهد إليك عهدا في هذه الحياة الدنيا، إنك إلى تكلني إلى (عملي) (٣) يقربني من الشر ويباعدني من الخير وإني لا اثق إلا برحمتك، (فاجعله) (٤) (لي) (٥) عندك عهدا تؤديه إلي يوم القيامة، إنك لا تخلف الميعاد (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ك].
(٢) زيادة في [ك]: (اللهم).
(٣) في [أ، ح، ط، هـ]: (عمل).
(٤) في [ط]: (فاجعل).
(٥) في [أ، ب، ط]: (له).
(٦) صحيح؛ المسعودي ثقة على الصحيح، وحديث وكيع عنه قبل اختلاطه.

حضرت اسود بن یزید فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ فرماتے ہیں۔ کہ جس شخص کا بھی میرے پاس کوئی عہد ہے پس وہ کھڑا ہوجائے ان کے شاگردوں نے عرض کیا: اے ابو عبد الرحمن: پس آپ ہمیں بھی یہ سکھا دیجیے، انہوں نے ارشاد فرمایا: تم سب یہ کلمات پڑھو، اے اللہ! آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے، ظاہر اور پوشیدہ باتوں کے جاننے والے، یقینا میں اس دنیا کی زندگی میں تجھ سے ایک عہد کرتا ہوں یقینا اگر تو نے مجھے میرے عمل کے سپرد کردیا تو تو نے مجھے شر کے قریب کردیا اور تو نے مجھے خیر سے دور کردیا۔ اور یقینا میں نے نہیں یقین رکھا مگر تیری رحمت پر، پس تو اپنے پاس ہی میرے عہد کو رکھ لے جس کو قیامت کے دن پورا کرنا، یقینا تو وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31502]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31502، ترقيم محمد عوامة 30140)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30141 ترقیم الشثری: -- 31503
٣١٥٠٣ - حدثنا عفان (حدثنا) (١) حماد بن سلمة اخبرنا عطاء بن السائب عن ابي الاحوص ان ابن مسعود كان إذا دعا لاصحابه (يقول) (٢) : اللهم اهدنا ويسر هداك لنا، اللهم يسرنا لليسرى وجنبنا العسرى، واجعلنا من اولي النهى، اللهم لقنا نضرة وسرورا، واكسنا سندسا وحريرا، وحلنا اساور إله الحق، اللهم اجعلنا شاكرين لنعمتك مثنين بها (قائليها) (٣) وتب علينا إنك انت التواب الرحيم (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك]: (أخبرنا).
(٢) في [أ، هـ]: (قال).
(٣) في [أ، ب، جـ، ط، ك]: (قائلها).
(٤) صحيح؛ سماع حماد قبل اختلاط عطاء.

حضرت ابو الاحوص فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جب اپنے شاگردوں کے لیے دعا کرتے تو یوں فرماتے۔ اے اللہ! تو ہمیں ہدایت دے، اور اپنی ہدایت کو ہمارے لیے آسان فرما۔ اے اللہ! ہماری آسانی کو بھی آسان فرما۔ اور ہمیں تنگی سے دور فرما۔ اور ہمیں دانش مندوں میں سے بنا دے، اے اللہ! ہمیں خوشی اور راحت و سکون عطا فرما، اور ہمیں سندس اور ریشم پہنا، اور ہمیں زیورات سے مزین فرما، اے سچے معبود! اے اللہ! ہمیں اپنی نعمتوں کا شکر گزار بنا دے، ان کے ذریعہ ثنا کرنے والا بنا دے، اور ان کا ذکر کرنے والا بنا دے، اور تو ہماری توبہ کو قبول فرما، یقینا تو ہی توبہ کو قبول کرنے والا، رحم فرمانے والا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31503]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31503، ترقيم محمد عوامة 30141)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30142 ترقیم الشثری: -- 31504
٣١٥٠٤ - [حدثنا محمد بن بشر حدثنا مسعر عن جواب التيمي عن الحارث بن سويد قال: قال عبد الله: إن من احب الكلام إلى الله ان يقول العبد: اللهم ابوء بالنعمة وابوء بالذنب فاغفر إنه لا يغفر الذنوب إلا انت] (١) (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط الخبر من: [أ، ح، ط، هـ].
(٢) حسن؛ جواب صدوق.

حضرت حارث بن سوید فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ نے ارشاد فرمایا: اللہ کا پسندیدہ کلام ہے کہ بندہ یوں دعا کرے: اے اللہ! میں نعمت کا اعتراف کرتا ہوں اور گناہ کا اعتراف بھی کرتا ہوں، پس تو میری مغفرت فرما، بیشک تیرے سوا کوئی بھی گناہوں کی مغفرت نہیں کرسکتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31504]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31504، ترقيم محمد عوامة 30142)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30143 ترقیم الشثری: -- 31505
٣١٥٠٥ - حدثنا جعفر (بن) (١) عون عن مسعر عن (معن) (٢) قال: كان عبد الله مما يدعو يقول: اللهم اعني على اهاويل الدنيا وبوائق الدهر ومصا (ئب) (٣) الليالي والايام، واكفني شر ما يعمل الظالمون في الارض، اللهم اصحبني في سفري واخلفني في حضري وإليك (فحببني) (٤) ، وفي اعين الناس فعظمني، وفي نفسك ⦗٢٥٥⦘ فاذكرني، وفي نفسي لك فذللني، و (٥) شر الاخلاق فجنبني، يا رحمن إلى من تكلني، انت ربي، إلى بعيد (يتجهمني) (٦) ام إلى قريب (قلدته) (٧) امري (٨) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) غير واضحة في: [ب].
(٢) في [ط]: (عون).
(٣) سقط من: [ط].
(٤) في [ط]: (فحيني).
(٥) في [ط، هـ]: زيادة (من).
(٦) في [ط]: (تجهمني).
(٧) في [هـ]: (مكلته)، وفي [ط]: (فلد مكلته).
(٨) منقطع؛ معن لم يسمع من ابن مسعود.

حضرت معن فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ دعا کرتے ہوئے یوں فرماتے تھے: اے اللہ! تو دنیا کی ہولناکیوں سے میری مدد فرما۔ اور زمانہ کی تنگیوں سے بھی اور دن اور رات کے مصائب سے بھی اور تو میرے لیے کافی ہوجا زمین میں ظلم کرنے والوں کے عمل کے شر سے، اے اللہ! تو میرے سفر میں میرا مصاحب و ساتھی بن جا۔ اور میرے حضر میں خلیفہ بن جا، اور مجھے اپنی طرف محبوب بنا لے، اور لوگوں کی آنکھوں میں مجھے معزز کر دے، اور اپنی ذات میں میرا ذکر کر، اور اپنے سامنے میرے نفس کو حقیر بنا دے، اور بُرے اخلاق سے تو مجھے دور فرما دے، اے بہت زیادہ رحم کرنے والے! کس کی طرف تو مجھے سپرد کرے گا؟ تو تو میرا رب ہے، دور کی طرف جو مجھ سے ترش روئی کرے یا کسی قریب کی طرف کہ جس کو تو میرے معاملہ کی ڈور پکڑا دے گا؟ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31505]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31505، ترقيم محمد عوامة 30143)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30144 ترقیم الشثری: -- 31506
٣١٥٠٦ - حدثنا وكيع عن سفيان عن ابي إسحاق عن ابي عبيدة قال: كان عبد الله إذا اجتهد في الدعاء قال: اللهم إني اسالك من فضلك الذي افضلت علي، وبلائك الحسن الذي ابتليتني، ونعمائك التي انعمت علي ان تدخلني الجنة، اللهم ادخلني الجنة برحمتك ومغفرتك (و) (١) فضلك (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ط].
(٢) منقطع؛ أبو عبيدة لم يسمع من أبيه.

حضرت ابو عبیدہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعو جب دعا میں بہت زیادہ جدوجہد کرتے تو یوں فرماتے: اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے اس فضل کی برکت سے جو تو نے مجھ پر مہربانی فرمائی اور تیری اچھی آزمائش کی برکت سے جس سے تو نے مجھے آزمایا، اور تیری ان نعمتوں کی برکت سے جو تو نے مجھ پر کی ہیں کہ تو مجھے جنت میں داخل فرما دے، اے اللہ! تو مجھے اپنی رحمت سے اور اپنی بخشش سے اور اپنے فضل سے جنت میں داخل فرما۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31506]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31506، ترقيم محمد عوامة 30144)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30145 ترقیم الشثری: -- 31507
٣١٥٠٧ - حدثنا ابو معاوية عن عبد الرحمن بن إسحاق عن القاسم بن عبد الرحمن عن عبد الله بن مسعود قال: ما دعا قط عبد بهذه الدعوات إلا وسع الله عليه في معيشته: يا ذا المن فلا يمن (عليك) (١) ، يا ذا الجلال والإكرام يا ذا الطول (٢) ، لا إله إلا انت، ظهر اللاجئين وجار المستجيرين ومامن الخائفين، إن (كنت) (٣) كتبتني عندك في ام الكتاب شقيا فامح عني اسم الشقاء، واثبتني عند (ك) (٤) سعيدا (وإن كنت كتبتني في ام الكتاب مقترا علي رزقي فامح حرماني ⦗٢٥٦⦘ وتقتير رزقي واثبتني عندك سعيدا) (٥) موفقا للخير، فإنك تقول في كتابك: ﴿يمحو الله ما يشاء ويثبت وعنده ام الكتاب﴾ (٦) [الرعد: ٣٩] .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ط].
(٢) في [ط، هـ]: زيادة (والإنعام).
(٣) سقط من: [أ، ح، ط، هـ].
(٤) في [ط]: (إلى).
(٥) سقط من: [أ، ح، ط، هـ].
(٦) منقطع ضعيف؛ عبد الرحمن بن إسحاق ضعيف، والقاسم لا يروي عن ابن مسعود.

حضرت قاسم بن عبد الرحمن فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ارشاد فریایا: کوئی بندہ ان کلمات کے ساتھ دعا نہیں کرتا مگر اللہ اس بندے کی معیشت میں وسعت فرما دیتے ہیں۔ اے احسان کرنے والے! پس تجھ پر احسان نہیں کیا جاسکتا، اے عظمت و اکرام والے، اے مہربانی کرنے والے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ التجا کرنے والوں کے مدد گار، اور پناہ مانگنے والوں کی پناہ گاہ، اور ڈرنے والوں کے لیے امن دینے والے، اگر تو نے مجھے اپنے پاس ام الکتاب میں شقی، بدبخت لکھ دیا ہے۔ تو مجھ سے شقاوت کو مٹا دے۔ اور مجھے اپنے نزدیک نیک بخت لکھ دے۔ اور اگر تو نے ام الکتاب میں مجھ پر میرے رزق کو تنگ لکھ دیاے تو میری محرومی اور رزق کی تنگی کو مٹا دے، اور مجھے اپنے پاس نیک بخت لکھ دے، جس کو خیر کی توفیق دی گئی ہو، پس یقینا تو نے اپنی کتاب میں ارشاد فرمایا ہے: اللہ جسے چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے برقرار رکھتا ہے، اور اسی کے پاس ام الکتاب ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31507]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31507، ترقيم محمد عوامة 30145)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30146 ترقیم الشثری: -- 31508
٣١٥٠٨ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن ابي إسحاق عن ابي عبيدة قال: سئل عبد الله: ما الدعاء الذي دعوت (به) (١) ليلة قال لك رسول الله ﷺ:"سل تعطه" (قال) (٢) : قلت: اللهم إني اسالك إيمانا لا يرتد، ونعيما لا ينفد، ومرافقة نبيك محمد ﷺ في اعلى درجة الجنة جنة الخلد (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، ط].
(٢) سقط من: [ط].
(٣) منقطع؛ أبو عبيدة لم يسمع من عبد اللَّه، أخرجه أحمد (٣٦٦٢)، والنسائي في الكبرى (١٠٧٥)، وابن حبان (٧٠٦٧)، وأبو يعلى (٥٠٥٨)، وابن ماجه (١٣٨)، والبزار (٢٦٨١/ كشف).

حضرت ابو عبیدہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: وہ کون سی دعا ہے جو آپ نے اس رات مانگی تھی جس رات کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ سے ارشاد فرمایا تھا: سوال کر تجھے عطا کیا جائے گا، آپ نے ارشاد فرمایا: میں نے یہ دعا پڑھی تھی: اے اللہ! میں آپ سے سوال کرتا ہوں ایسے ایمان کا جس کے بعد کفر نہ ہو۔ اور ایسی نعمت کا جو کبھی ختم نہ ہو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت جنت کے اعلیٰ درجہ میں ہمیشہ کے لیے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31508]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31508، ترقيم محمد عوامة 30146)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں