مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
58. ما ذكر عن ابن عمر ﵁ من قوله
سیدنا عبد اللہ بن عمر سے منقول دعا ئوں کا بیان
ترقیم عوامۃ: 30149 ترقیم الشثری: -- 31511
٣١٥١١ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن عطية عن ابن عمر انه قال: اللهم اغفر لنا وارحمنا وعافنا واهدنا وارزقنا، قال: فقالوا له: لو زدتنا، قال: (١) اعوذ بالله ان اكون من (المسهبين) (٢) (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ك].
(٢) في [ط]: (الممتهنين)، وفي [هـ]: (المستهينين)، والمسبهون: كثيرو الكلام.
(٣) ضعيف؛ لضعف عطية.
حضرت عطیہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے یوں دعا فرمائی: اے اللہ! تو ہماری مغفرت فرما دے، اور ہم پر رحم فرما، اور ہمیں عافیت بخش دے، اور ہمیں ہدایت عطا فرما، اور ہمیں رزق عطا فرما۔ عطیہ فرماتے ہیں: ان کے شاگردوں نے ان سے عرض کیا: اگر آپ ہمارے لیے اور اضافہ فرما دیں تو بہتر ہوگا، آپ نے فرمایا: اور میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ میں لالچ کرنے والا بن جاؤں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31511]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31511، ترقيم محمد عوامة 30149)
ترقیم عوامۃ: 30150 ترقیم الشثری: -- 31512
٣١٥١٢ - حدثنا يزيد بن هارون (حدثنا) (١) محمد بن إسحاق عن عمارة بن (غزية) (٢) عن يحيى بن راشد قال: حججنا فلما قضينا نسكنا قلنا: لو اتينا ابن عمر ⦗٢٥٨⦘ فحدثناه، فاتينا فخرج إلينا فجلس بيننا فصمت (لنساله) (٣) وصمتنا ليحدثنا، فلما اطال الصمت قال: ما لكم لا (تكلمون) (٤) الا تقولون: سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله اكبر ولا حول ولا قوة إلا بالله، الحسنة بعشر امثالها إلى سبعمائة ضعف فإن (زدتم) (٥) خيرا زادكم الله (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك]: (أخبرنا).
(٢) في [ك]: (عوبة).
(٣) في [ط، هـ]: (لنسكه).
(٤) في [أ، ط، هـ]: (تحدثون).
(٥) في [هـ]: (زرتم).
(٦) منقطع حكمًا؛ ابن إسحاق مدلس.
حضرت یحییٰ بن راشد فرماتے ہیں کہ ہم نے حج کیا، جب ہم اپنی قربانی کرچکے تو ہم کہنے لگے: اگر ہم حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوں تو وہ ہمیں کوئی حدیث بیان کردیں گے۔ پس ہم ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تو وہ ہمارے پاس تشریف لے آئے پھر ہمارے درمیان بیٹھ گئے۔ پس وہ خاموش رہے تاکہ ہم ان سے سوال کرسکیں۔ اور ہم خاموش رہے تاکہ وہ ہمارے سامنے احادیث بیان کریں، پس جب خاموشی طوالت اختیار کرگئی تو انہوں نے ارشاد فرمایا: تمہیں کیا ہوا تم بات نیں ش کرتے؟ کیا تم یہ کلمات نہیں پڑھو گے؟ اللہ تمام عیبوں سے پاک ہے اور سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور اللہ سب سے بڑا ہے، اور گناہوں سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت صرف اللہ کی مدد سے ہے؟ نیکی کا ثواب تو دس گُنا سے لے کر سات سو گنا تک ہے، پس اگر تم بھلائی میں اضافہ کرو گے تو اللہ بھی تمہیں زیادہ اجر عطا فرمائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31512]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31512، ترقيم محمد عوامة 30150)
ترقیم عوامۃ: 30151 ترقیم الشثری: -- 31513
٣١٥١٣ - حدثنا عبد الله بن نمير عن سفيان عن (عبيد الله) (١) عن نافع عن ابن عمر ان ابن عمر كان يقول: اللهم لا تنزع مني الإيمان كما اعطيتنيه (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (عبد اللَّه).
(٢) صحيح.
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اکثر یہ دعا فرمایا کرتے تھے: اے اللہ! تو ایمان کو مجھ سے مت چھین جیسا کہ تو نے ایمان مجھے عطا کردیا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31513]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31513، ترقيم محمد عوامة 30151)
ترقیم عوامۃ: 30152 ترقیم الشثری: -- 31514
٣١٥١٤ - حدثنا وكيع عن مسعر عن سعيد بن ابي بردة عن ابيه قال: سمعت ابن عمر يقول: ﴿رب بما انعمت علي فلن اكون ظهيرا للمجرمين﴾ [القصص: ١٧] ، فلما صلى قال: ما صليت (١) صلاة إلا وانا ارجو ان تكون كفارة لما امامها -يعني قالها وهو راكع (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: زيادة (و).
(٢) صحيح.
حضرت ابو بردہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو یوں دعا کرتے ہوئے سنا: میرے رب جو کچھ تو نے مجھ پر انعام کیا تو میں ہرگز مجرموں کا مدد گار نہیں ہوں گا، پھر جب نماز پڑھی تو فرمایا: میں نے کوئی نماز نہیں پڑھی مگر یہ کہ میں امید کرتا ہوں کہ وہ کفارہ ہیں ان گناہوں کے لیے جو آگے ہیں، مطلب یہ کلمات انہوں نے رکوع کی حالت میں کہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31514]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31514، ترقيم محمد عوامة 30152)
ترقیم عوامۃ: 30153 ترقیم الشثری: -- 31515
٣١٥١٥ - حدثنا يزيد بن هارون عن ابن عون عن محمد عن ابي موسى انه كان يقول في دعائه: اللهم إني اسالك من الخير كله ما ينبغي ان اسالك منه، واعوذ بك من الشر كله ما ينبغي ان اتعوذ بك منه (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح.
حضرت محمد بن سیرین فرماتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ اپنی دعا میں یہ کلمات پڑھا کرتے تھے۔ اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اس تمام بھلائی کا کہ مناسب ہے کہ میں تجھ سے اس کا سوال کروں، اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس تمام شر سے کہ مناسب یہی ہے کہ میں تجھ سے ہی پناہ مانگوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31515]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31515، ترقيم محمد عوامة 30153)
ترقیم عوامۃ: 30154 ترقیم الشثری: -- 31516
٣١٥١٦ - حدثنا الفضل بن دكين حدثنا يونس بن ابي إسحاق عن المنهال (بن عمرو) (١) عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال: كان يقول: اللهم إني اسالك بنور وجهك الذي اشرقت له السماوات والارض ان تجعلني في حرزك وحفظك وجوارك وتحت كنفك (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب، هـ]: (عن عمر).
(٢) صحيح؛ المنهال ثقة.
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس یوں دعا فرمایا کرتے تھے: اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے چہرے کے نور کے ساتھ جس نے آسمانوں اور زمین کو روشن کردیا کہ تو مجھے اپنے حصار میں لے اور اپنی حفاظت میں، اور اپنے عہد میں اور اپنی حمایت کے تحت لے لے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31516]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31516، ترقيم محمد عوامة 30154)